اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد، ہندوستان میں ذیابیطس کا دارالخلافہ حیدرآباد دکن کی ایک اور خاص بات ہے جو حیدرآبادیوں کیلیئے ایک بری خبر سے کم نہیں ہے اور وہ یہ کہ اس شہر کو ہندوستان میں ذیابیطس یا شوگر کے دارالخلافہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریض اسی شہر میں رہتے ہیں۔ اب اس مرض کے دائرے میں صرف حیدرآباد ہی نہیں بلکہ پوری ریاست آندھرا پردیش بھی شامل ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا کے ایک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ریاست کی 30 برس سے زیادہ عمر کی 13 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے۔ جارج انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ہیلتھ نے سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کی صورتحال کتنی تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دیہات میں ہندوستان کو کس قسم کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
جہاں تک خود حیدرآباد کا سوال ہے، ذیابیطس کے ماہرین اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شہر میں تقریبًا بیس فیصد اس مرض میں مبتلا ہیں اور ان میں ایک قابل لحاظ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ وہ اس کیلیئے مخصوص غذائی عادات، جسمانی ورزش کی کمی اور آرام پسند لائف اسٹائل کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ خلا میں نئی چھلانگ خلائی میدان میں تیزی کے ساتھ اپنی پیش رفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہندوستان جولائی کے مہینے میں اپنا اب تک کا سب سے وزنی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے والا ہے۔ دو اعشاریہ دو ٹن وزنی یہ مواصلاتی مصنوعی سیارہ آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ جزیرے سے چھوڑا جائے گا۔ اس سے قبل اس طرح کے ہندوستانی سیٹلائٹ فرنچ گیانا سے چھوڑے گئے تھے لیکن اب کی بار ہندوستان کی ہی سرزمین سے یہ مصنوعی سیارہ چھوڑ کر ہندوستانی ماہرین اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ سیٹلائیٹ لانچنگ کی دو ارب ڈالر کی عالمی منڈی میں ہندوستان بھی ایک بڑا حصہ حاصل کرسکے۔
سری ہری کوٹہ خلائی مرکز کے ڈائریکٹر ایم انّا ملائی کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں کی نسبت ہندوستان سے سیٹلائٹ چھوڑنے پر 30 تا 35 فیصد کم خرچ آتا ہے۔ جولائی کے وسط میں مواصلاتی سیارہ چھوڑنے کے بعد سری ہری کوٹہ سے مزید تین مصنوعی سیارے چھوڑے جائیں گے جن میں ایک انڈونیشیا کا مصنوعی سیارہ بھی شامل ہوگا۔ ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ’اسرو‘ اس سلسلے میں 543 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اسرو اس مرکز سے 2008 میں چاند پر مشن بھیجے گا۔ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی بدعنوانیوں کی روک تھام کرسکتی ہے؟ کم از کم آندھرا پردیش کی حکومت یہی سمجھتی ہے۔ چنانچہ ریاستی حکومت نے نجی شعبے کی ایک سرکردہ کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروس کے ساتھ مل کر ایک ایسی ویب سائیٹ شروع کی ہے جو ایک سرکاری سکیم پر خرچ ہونے والی ہر پائی کا حساب دے گی۔ دیہی علاقوں کے غریبوں کو روزگار کی ضمانت کی جو سکیم گزشتہ فروری میں شروع ہوئی تھی اس کی مکمل تفصیل اس ویب سائیٹ
اس ویب سائیٹ کی وسعت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس میں ان 39 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مکمل فہرست ہے جنہوں نے اس سکیم کے تحت اپنے لیئے کام مانگا ہے۔ اسی طرح ان سات لاکھ سے زیادہ لوگوں کی فہرست بھی شائع کی گئی ہے جنہیں اس پروگرام کے تحت کام فراہم کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اب کسی بھی گاؤں کے نام پر کلک کرکے یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ وہاں اس پروگرام کے تحت کون سے کام شروع کیئے گئے ہیں، اس میں کتنے لوگوں کو روزگار ملا ہے اور ان میں سے ہر مزدور کو کتنی اجرت دی گئی ہے۔ یہ اب تک کی اس صورتحال سے بالکل مختلف ہے جس میں ٹھیکے دار من مانی کیا کرتے تھے اور مزدوروں کی اجرت کے نام پر خود پیسے ہڑپ کرجاتے تھے۔ یہ سرکاری اسکیموں کو روبہ عمل لانے میں اپنی طرح کا ایک انوکھا اور اولین تجربہ ہے۔ | اسی بارے میں دکن ڈَائری: ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن08 April, 2006 | انڈیا بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا شمال و جنوب کا فرق، مفت ٹی وی اور پھلوں کا بادشاہ03 June, 2006 | انڈیا فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||