BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 April, 2006, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آندھرا تقسیم ہوگا یا کانگریس؟

اڈوانی
ماضی میں بے جے پی ریاست تلنگانہ کے قیام کے وعدے کوپورانہیں کرسکی
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ رہنما اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کی ’بھارت سرکھشا یاترا‘ اس ہفتے آندھرا پردیش سے گذری جس کے دوران انہوں نے حیدرآباد میں میں ایک بڑے جلسے سے بھی خطاب کیا۔

ان کی اس یاترا سے پارٹی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن ریاست تلنگانہ کے پرانے مطالبے میں ضرور ایک نئی جان پڑگئی ہے۔ اڈوانی نے یہ کھلا چیلنج دے کر کانگریس پارٹی اور مرکز کی یو پی اے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے کہ اگر وہ آئندہ ماہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے لئے بل پیش کرتی ہے تو بی جے پی اس کی تائید کرےگی۔ ساتھ ہی انہوں نے تلنگانہ ریاست کے لئے تحریک چلانے والی علاقائی جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو بھی یہ دعوت دے ڈالی کہ اگر کانگریس نے پارلیمنٹ میں یہ بل پیش نہیں کیا تو وہ یو پی اے حکومت سے علیحدہ ہو کر بی جے پی سے ہاتھ ملالے تاکہ دونوں مل کر تلنگانہ ریاست کے لیے جد و جہد کرسکیں۔

واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کے دس ضلعوں کو ملا کر چھوٹی ریاست تلنگانہ کے قیام کا مطالبہ پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں کانگریس اور ٹی آر ایس کے اتحاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تلنگانہ کے عوام کے جذبات کے مطابق اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرینگے بلکہ ٹی آر ایس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایک برس کے اندر تلنگانہ ریاست کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا لیکن دو برس کے بعد بھی یہ خواب ، خواب ہی ہے اور اسی بناء پر بی جے پی اب میدان میں کود گئی ہے۔

لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ بی جے پی اس معاملہ میں مخلص ہے کیونکہ اس کا پچھلا ریکارڈ اسے ناقابل اعتبار ثابت کرتا ہے۔ 1998 کے انتخابات میں اس نے تلنگانہ کے عوام سے ’ایک ووٹ دو ریاست‘ کا وعدہ کیا تھا لیکن انتخابات جیتنے اور مرکز میں اپنی حکومت بنانے کے بعد اس نے وہ وعدہ فراموش کردیا تھا۔

ریاست تنگانہ کا مطالبہ پچاس سال سے بھی زیادہ پرانا ہے
اس کی وجہ یہ تھی کہ مرکز میں اس کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کا انحصار تلگو دیشم پارٹی کی تائید پرتھا اور تلگو دیشم تلنگانہ ریاست کے قیام کی مخالف تھی۔ لیکن اب جبکہ ریاست میں بی جے پی کا وجود برائے نام رہ گیا ہے اور 2004 کے انتخابات میں پارٹی کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی ہے تو اڈوانی اب تلنگانہ کا نعرہ لگا کر پارٹی میں پھر سے جان ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اڈوانی نے حیدرآباد اور تلنگانہ کے دوسرے ضلعوں کی یاترا کے دوران جو کچھ کہا ہے اس سے نئی دلی کے سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل مچ گئی ہے اور اب ٹی آر ایس کی قیادت کانگریس پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں نہیں تو کم از کم اس کے بعد کے مونسون اجلاس میں تلنگانہ کا بل پیش کرے۔

کانگریس کی قیادت نے یقین دلایا ہے کہ مئی کے مہینے میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وہ اس مسئلہ پر توجہ دے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نیا وعدہ کہاں تک پورا ہوتا ہے۔

ادھر ریاست کے وزیراعلیٰ راج شیکھر ریڈی کہہ رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں تلنگانہ کے قیام کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر تلنگانہ کا مسئلہ بہت زیادہ گرمایا تو ریاست میں کانگریس کے دو ٹکڑے بھی ہوسکتے ہیں۔

قندھار کا بھوت اڈوانی کے پیچھے
محمد علی جناح کے نام کے بعد اب قندھار کا نام ایل کے اڈوانی کا پیچھا کررہا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنی موجودہ یاترا قومی سلامتی کے موضوع پر شروع کی ہے ، اڈوانی بار بار موجودہ حکومت پر یہ الزام لگارہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے مسئلہ سے نمٹنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اس کے دور میں ملک کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے یاترا کے دوران کسی اخباری نمائندے نے ان سے پوچھ لیا کہ ’دہشت گردی‘ کے مسئلہ پر خود این ڈی اے حکومت کا ریکارڈ کیا رہا جس میں اڈوانی وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم تھے ؟ سوال کرنے والے نے انہیں یاد دلایا کہ دسمبر 1999 میں جب کھٹمنڈو سے دلی جانے والے انڈین ایرلائنز کے طیارے کو اغوا کرکے قندھار پہنچا دیا گیا تھا تو این ڈی اے حکومت نے اغوا کنندوں کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے تین پاکستانی عسکریت پسندوں کو نہ صرف اپنی جیل سے رہا کیا بلکہ انہیں اس وقت کے وزیر داخلہ جسونت سنگھ نے ایک طیارے میں قندھار بھجوایا تھا۔

اس پر اڈوانی نے جھٹ سے کہدیا کہ جس وقت کابینہ میں مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور ایک تیسرے شخص کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا تھا تو انہوں نے اور جسونت سنگھ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اڈوانی کے اس دھماکے نے بی جے پی کے اندر ایک نئی کھلبلی مچادی اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اس پر بڑے برہم ہوئے کیونکہ اڈوانی کے بیان کا مطلب یہ لیا گیا کہ یہ فیصلہ واجپئی نے کیا تھا۔ اس مسئلہ پر بی جے پی کے اندر اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ اڈوانی کو ایک اور وضاحت جاری کرنی پڑی۔ اڈوانی نے آندھرا پردیش میں کہا کہ میڈیا نے ان کے بیان کو مسخ کرکے پیش کیا ورنہ یہ فیصلہ تو پوری کابینہ کا مشترکہ فیصلہ تھا-

ایک بچے کی موت نے فلمی کاروبار ٹھپ کردیا

ایک ایسے علاقے میں جہاں فلموں کی مقبولیت کبھی جنون کی حد تک پہنچی ہوئی تھی، ایک شیر خوار کی موت نے سنیما تھیٹروں کا کاروبار ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر ہندی فلموں کا حالانکہ یہ واقعہ ہوئے تین برس گزر چکے ہیں لیکن اس کا اثر اب تک زائل نہیں ہوا ہے۔

2003 میں آندھرا پردیش کے شہر نظام آباد میں ایک مسلم عورت رضیہ سلطانہ، عامر خان کی ایک ہٹ فلم ’راجہ ہندوستانی‘ دیکھنے گئی تھیں، فلم کے دوران اس کا شیر خوار بچہ رونے لگا اور اسے رونے سے روکنے کے لئے اس عورت نے اس کمسن کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ وہ فلم دیکھنے میں کچھ اس حد تک محو رہی کہ اس نے یہ بھی محسوس نہیں کیا کہ روتے روتے بچہ اچانک خاموش ہوگیا۔

جب فلم ختم ہوئی تو اس عورت نے دیکھا کہ اس کا بچہ مرچکا تھا۔ اس واقعہ پر ایسی ہلچل مچی اور لوگوں میں صدمے کی ایسی لہر دوڑ گئی کہ مسلمان عورتوں کی سنیما بینی اور ان کے تھیٹر جانے کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی اور کئی علماء اور مفتیوں نے اس کے خلاف فتوے جاری کردیئے۔ مسلم نوجوانوں کی ٹولیاں سرگرم ہوگئیں کہ اگر کوئی مسلمان عورت کسی تھیٹر کے نزدیک بھی نظر آئے تو اس کا سر مونڈ دیا جائے۔ لیکن ایسی کسی کارروائی کی نوبت نہیں آئی اور اس شیرخوار کی موت کا کچھ ایسا نفسیاتی اثر ہوا کہ ہندی فلموں کی نمائش کرنے والے سنیما ہال ویران پڑگئے۔ تھیٹر مالکان کا کہنا ہے کہ ہندی فلموں کے ناظرین میں اکثریت مسلمانوں کی ہوتی ہے اور خاص طور پر مسلم عورتوں کی۔ نظام آباد، آندھرا پردیش میں ہندی فلموں کا ایک بڑا کاروباری مرکز تھا لیکن تین برس ہوگئے کہ یہ کاروبار بالکل ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ اس کا اثر صرف نظام آباد تک محدود نہیں بلکہ علاقہ تلنگانہ کے کئی شہری مراکز میں جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اس کا کافی اثر پڑا ہے اور فلموں کے کا کہنا ہے کہ بڑی سے بڑی ہٹ ہندی فلم ایک دو ہفتوں سے زیادہ نہیں چلتی۔ ر‌‌ضیہ سلطانہ کی کہانی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ہلاک ہونے والا اس کا اکلوتا بچہ تھا جو دس سال کی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔

ڈابر کمپنی بھی اب پاکستان کا رخ کررہی ہے

ڈابر ہندوستان میں اشیائے صرف اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والی ایک سرکردہ کمپنی ہے اور اب اس نے اپنے کاروبار کو پاکستان تک وسعت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے پاکستانی کارپوریٹ دنیا کی ایک ممتاز شخصیت سکندر تیوانہ کو پاکستان میں اپنے منصوبے کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ پاکستان میں اپنے کاروبار کے بارے میں ڈابر کمپنی اتنی پرامید ہے کہ اس نے وہاں اپنے لئے ایک ارب روپے کے کاروبارکا ہدف مقرر کیا ہے۔ سکندر تیوانہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان میں بھی ڈابر کے کاروبار کو وسعت دینے کے ذمہ دار ہونگے۔ ڈابر انڈیا کی ایک ذیلی کمپنی ڈابر انٹرنیشنل پاکستان میں اپنا ایک مینوفیکچرنگ مرکز بھی قا‏ئم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ویسے ان ہندوستانی کمپنیوں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے جو پاکستان میں اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتی ہیں۔ ان میں گودریج اور میریکو کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد