BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آندھرا: غیر مسلم سیاستدانوں کی نمازیں

چندر بابو نائڈو
آندھرا پردیش میں حزب اختلاف کے رہنما چندر بابو نائڈو مسجد میں نماز ادا کرنے گئے
تہواروں کے اس موسم میں جہاں عام لوگ خوشیاں منانے اور بانٹنے میں لگے ہوئے ہیں وہیں ہمیشہ کی طرح سیاستداں اس بات کے لیے سرگرداں ہیں کہ کس طرح اس ماحول کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں-

یوں تو سیاسی افطار پارٹیاں ہر جگہ رمضان کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہیں جن کے ذریعہ مختلف نظریات اور رنگوں کے سیاستداں مسلم برادری کو متوجہ اور متاثر کرنے کی بساط بھر کوشش کرتے ہیں لیکن اس بار سبھی سیاستدانوں نے اس دوڑ میں نئے ریکارڈ بنانے کی کوشش کی ہے-

یہ دوڑ اب صرف افطار کے موقع پر دستر خوان تک ہی محدود نہیں بلکہ جائے نماز تک پہنچ گئی ہے- چنانچہ ان افطار پارٹیوں کے موقع پر بڑے ہی دلچسپ اور عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملے ہیں- اننت پور ضلع میں ترتیب دی گئی سرکاری افطار پارٹی کے بعد جب نماز مغرب ادا کی گئی تو امام کے پیچھے پہلی صف میں سب سے نمایاں چہروں میں وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی ان کے تین کابینی رفقاء جے سی دیواکر ریڈی، رگھو ویرا ریڈی اور جی سوریہ راؤ اور مقامی رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈّی بھی شامل تھے جو عادت نہ ہونے کے باعث بمشکل تمام قاعدے میں بیٹھنے کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف قائد حزب اختلاف چندرابابو نائیڈو بھی اس معاملے میں پیچھے رہنا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ تلگودیشم پارٹی کے آفس میں دی گئی افطار پارٹی میں نائیڈو سبز رنگ کی ٹوپی پہنے اور سبز رنگ کی شال شانوں پر ڈالے سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے اور انہوں نے بھی نماز مغرب میں اپنی شمولیت کو ضروری سمجھا-

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ریڈے اپنے رفقا کے ساتھ ایک مسجد میں
وزیر اعلیٰ ریڈی اور چندرابابونائیڈو دونوں کو مسلمانوں کے الگ الگ وفود نے قرآن مجید کے تلگو ترجمے پیش کیئے تو دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس مقدس مذہبی کتاب کا ضرور مطالعہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ راج شیکھر ریڈی نے کئی ضلعوں میں افطار پارٹیاں ترتیب دیں اور ان میں شرکت کی- کریم نگر میں سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی افطار پارٹیاں منعقد کرنا ضروری سمجھا کیونکہ وہاں جلد ہی لوک سبھا کی ایک نشست کے لیے الیکشن ہونے والے ہیں جس میں مسلم ووٹ فیصلہ کن رول ادا کریں گے-

جمعۃ الوداع کے اجتماعات
جمعۃ الوداع کے موقع پر حیدرآباد دکن کی تاریخی مکہ مسجد میں ایک لاکھ سے زیادہ مصلیوں (نمازیوں) کے اجتماع کے ساتھ ہی رمضان المبارک کا روح پرور ماحول اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔

ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی عبادت گزاروں کا اتنا اژدھام تھا کہ ہندوستان میں سب سے بڑے صحن والی اس مسجد کے اطراف و اکناف کی سڑکوں پر کئی کلومیٹر دور تک نمازیوں کی صفیں بنی ہوئی تھیں- نماز جمعہ کا یہ اجتماع حیدرآباد میں رمضان المبارک کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے-

اب کی بار اس بات نے اس موقع کی اہمیت کو اور بھی بڑھادیا تھا کہ جمعۃ الوداع اور شب قدر ایک ساتھ آئے تھے- اس موقع پر شہر کے مسلم اکثریتی علاقے بقعہ نور بنے رہے- ایک طرف مساجد ہزارہا عبادت گزاروں کی تسبیحات سے گونج رہی تھیں تو دوسری طرف تاریخی چارمینار کے اطرف پھیلے پتھرگٹی، لاڈ بازار اور مدینہ جیسے اہم کاروباری مراکز خریداروں کے ہجوم سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں- ایک سرور آور اور پر کیف ماحول ہے جس میں اس وقت یہ شہر ڈوبا ہوا ہے۔

تہوار کی خوشیاں دوبالا
اب کی بار اس بات نے شہر کی رونق کو دوبالا کردیا ہے کہ جہاں مسلمان رمضان المبارک کے پرکیف ماحول میں ڈوبے ہوئے ہیں وہیں ہندو برادری بھی روشنیوں کے تہوار دیوالی کا جشن منارہی ہے-

نائڈو کو قرآن کی کاپی دی گئی
رنگین روشنیوں اور سجی دھجی عمارتوں نے شہر کو عام دنوں سے کہیں زیادہ پرکشش بنادیا ہے- خصوصاً رات کے اوقات میں آسمان پر روشنی بکھیرتے ہوئے آتشبازی کے مناظراس خوبصورتی میں مزید اضافہ کررہے ہیں- یوں تو ہر سال لوگوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ ہوا کرتی تھی کہ وہ جیسے چاہیں اورجتنے طاقتور چاہیں پٹاخے جلا سکتے تھے لیکن اس بار انتظامیہ نے زیادہ طاقتور پٹاخے جلانے پر پابندی عائد کردیا ہے-

سٹی پولیس اور انسداد آلودگی بورڈ کی مشترکہ ٹیمیں اس بات پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہیں کہ 125 ڈیسیبل سے زیادہ آواز پیدا کرنے والے پٹاخے نہ جلائے جائیں- پٹاخوں کے ہول سیل تاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے پٹاخے فروخت نہ کریں- ماحولیاتی سائنسدان کے وی رمنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پٹاخوں سے صوتی اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے اور اس کا لوگوں کے جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت پر برا اثر پڑرہا ہے- خاص طور پر لوگوں کی قوت سماعت متاثر ہورہی ہیں-

پولیس نے اپنی مہم کے دوران خاص طور پر اسکولی بچوں کو نشانہ بنایا ہے اورانہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ طاقتور پٹاخوں کا شور ان کے لیے کس کس طرح سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے-

امریکی قونصل خانے کا تنازعہ
اب لگ بھگ یہ طئے ہے کہ حیدرآباد میں امریکہ کا قونصل خانہ 2008 ء سے کام کرنا شروع کردے گا- اس کے لیے تاریخی اہمیت کے حامل پائیگاہ پیلس کی عمارت کو منتخب کرلیا گیا ہے- اس شاندار عمارت میں گزشتہ کئی برسوں سے حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (حڈا) کا دفتر کام کررہا ہے- جہاں ریاستی حکومت اور امریکی عہدیداروں نے پائگاہ پیلس کو قونصل خانے کے لیے موزوں قرارا دیا ہے وہیں حڈا کے ملازمین اس کی سخت مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ اس عمارت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہتے-

چینائی میں امریکی قونصل جنرل پیٹر کیسٹنر نے پائیگاہ پیلس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس عمارت میں امریکی سفارت خانہ عارضی طور پر کام کرے گا اور بعد میں شہر کے مضافات میں منائی جانے والی ایک مستقل عمارت میں منتقل ہوجائےگا۔

جہاں پائیگاہ پیلس کے تعلق سے یہ تنازعہ چل رہا ہے وہیں امریکہ جانے کے خواہشمند اس بات سے بہت خوش ہیں کہ انہیں اپنے خوابوں کی سرزمین تک پہنچنے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوگی- امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت جتنے ہندوستانی امریکہ جاتے ہیں ان میں سے بہت بڑی تعداد کا تعلق آندھراپردیش سے ہے-

گزشتہ سال امریکہ نے ہندوستان میں جو 4 لاکھ ویزے جاری کیئے ان میں سے 80 ہزار ویزے آندھرا پردیش کے لوگوں کو دئیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں قونصل خانے کے قیام کے بعد یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ جائے گی- امریکہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فارماسوٹیکل جیسے شعبوں میں حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اپنا قونصل خانہ یہاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
وندے ماترم پر دھماچوکڑی
09 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد