BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آندھرا پردیش فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں

مقامی مسلمان پولیس پر جانبداری اور تعصب کا الزام بھی لگارہے ہیں
فرقہ وارانہ تشدد اور پولیس کی ناکامی

کافی طویل عرصہ کے بعد آندھراپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد اور کشیدگی کے مسئلہ نے دوبارہ سر اٹھایا ہے۔ اب کی بار اس کا نشانہ حساس شہر حیدرآباد نہیں بلکہ ایک دور افتادہ مقام بودھن بنا ہے جہاں دسہرہ کے موقع پر درگا دیوی کے جلوس کے دوران ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا اور اس کا اثر علاقہ تلنگانہ کے پورے ضلع نظام آباد میں محسوس کیا گیا جہاں کئی مقامات پر دونوں فرقوں کے درمیان تصادم اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔

کئی برسوں کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے اس فرقہ وارانہ تشدد میں پولیس اور سرکاری مشینری کی ناکامی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ گڑ بڑ کے آغاز کا سبب وہی تھا جو اس سے پہلے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں دنگوں کی وجہ بن چکا ہے اور وہ تھا عین نماز کے وقت مسجد کے سامنے سے ہندو مذہبی جلوس کا گزرنا اور وہاں رک کر باجے بجانا اور اشتعال انگیز نعرے لگانا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ تشدد کی شروعات مسلمانوں کی جانب سے ہوئی کیونکہ مسجد کے اندر سے ان پر پتھر پھینکے گئے جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ شروعات جلوسیوں کی طرف سے ہوئی۔ الزام اور جوابی الزام کا یہ ایسا سلسلہ ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ عین نماز مغرب اور افطار کے وقت جامع مسجد کے سامنے سے دوسرے فرقہ کے مذہبی جلوس کو گزرنے کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟ تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد اسے روکنے اور اقلیتی فرقہ کی املاک کو بچانے کے لیئے پولیس نے فوری کارروائی کیوں نہیں کی؟

پولیس کی ناکامی
کئی برسوں کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے اس فرقہ وارانہ تشدد میں پولیس اور سرکاری مشنری کی ناکامی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

یہ ایسے سوال ہیں جن کا پولیس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ یہ معاملہ اس لیئے اور پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ مقامی مسلمان پولیس پر جانبداری اور تعصب کا الزام بھی لگارہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ جس وقت مسجد کے باہر تشدد چل رہا تھا پولیس والے مسجد کے اندر گھس گئے اور انہوں نے لاٹھیوں اور بندوقوں کے کندوں سے نمازیوں کی پٹائی کردی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جلوس کو منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس کے علاوہ جس دنگے کو بودھن جیسے ایک چھوٹے سے مقام تک محدود رکھا جاسکتا تھا اسے دوسرے دن ضلع ہیڈ کوارٹر نظام آباد اور کئی دوسرے مقامات تک پھیلنے کی اجازت دی گئی جبکہ بی جے پی نے بند منظم کیا، جلوس نکالے اور زبردستی لوگوں کی دکانیں بند کروائیں اور اس کے نتیجہ میں کئی مقامات پر پتھراو، اور جھڑپیں ہوئیں اور تقریبًا 20 دکانوں اور ٹھیلہ بنڈیوں کو نذر آتش کردیا گیا-

ان واقعات نے پولیس کے ساتھ ساتھ کانگریسی حکومت کے رویہ اور کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگادیئے ہیں۔ تلگودیشم کا 9 سالہ دور حکومت فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی سے مکمل طور پر پاک رہا ہے لیکن جس طرح سے نظام آباد میں شرپسندوں کو من مانی کرنے کا موقع ملا ہے اس نے دونوں ہی فرقوں کے امن پسند عوام کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔

آندھرا
ان واقعات نے پولیس کے ساتھ ساتھ کانگریسی حکومت کے رویہ اور کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگادیئے ہیں
عوام کو کچھ بھی مفت میں نہیں

ایک ایسے زمانے میں جبکہ مختلف ریاستوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوام کو چاول سے لے کر زمین اور رنگین ٹیلی ویژن تک مفت میں دینے کے وعدے کررہی ہیں کم سے کم ایک سیاسی جماعت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ عوام کو کوئی چیز مفت میں دینے کا وعدہ نہیں کرے گی۔ یہ جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے ایک نئی سیاسی جماعت لوک ستہ نے جو ایک سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر جے پرکاش نارائن نے تشکیل دی ہے-

1997 ء میں آئی اے ایس سے استعفی دے کر لوک ستہ کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم بنانے والے نوجوان ڈاکٹر جے پرکاش نارائن اب تک کرپشن، سیاست میں مجرموں کے داخلے، پنچایت اداروں کو زیادہ اختیارات دینے اور انتظامی اصلاحات جیسے موضوعات پر کامیابی کے ساتھ مہم چلاتے رہے ہیں۔ اپنے اس کام کے لیئے قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے اور کئی اعزازات پانے والے جے پرکاش نارائن کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی جماعت کے لیئے اقتدار اصل منزل نہیں ہے بلکہ وہ اسے تبدیلی کے آلہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں- تو پھر اگر مفت چیزیں نہیں تو ان کی جماعت عوام کو کیا دے گی- ان کا کہنا ہے کہ وہ سب کے لئے تعلیم، اور سب کے لئے علاج و معالجہ کی مفت سہولت کا وعدہ کرتے ہیں کیونکہ یہ اس ملک کے بنیادی مسائل ہیں اور ان پر عمل کرنا ممکن ہے- ان کا نشانہ ہے کہ وہ 2007 تک آندھراپردیش میں اور 2010ء تک پورے ملک میں لوک ستہ کو ایک اہم سیاسی طاقت کے طور پر ابھاریں گے-

سائیکل پر سفر حج میں رکاوٹ، لیکن حوصلے بلند

عازمین
ویزے کے حصول میں دشواریوں نے اس قافلے کو اب تک دہلی میں ہی رکے رہنے پر مجبور کردیا ہے
اگست کے مہینے میں حیدرآباد دکن سے 7 عازمین حج کا جو قافلہ سائیکلوں پر سفر حج کے عزم سے روانہ ہوا تھا اسے سرکاری کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حالانکہ یہ قافلہ روزانہ 70 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے صرف تین ہفتے کے اندر ہی دہلی پہنچ گیا تھا لیکن مختلف ملکوں کے ویزے کے حصول میں دشواریوں اور مسائل نے اس قافلے کو اب تک دہلی میں ہی رکے رہنے پر مجبور کردیا ہے اور قافلے کے قائد محمد حنیف مقامی قائدین سے مدد لینے کے لیئے حیدرآباد لوٹ آئے ہیں- ان کا کہنا ہے کہ اس قافلے نے اپنے سائیکل سفر کے راستے میں آنے والے مختلف ملکوں کے ویزے کے حصول کے سلسلہ میں جب مملکتی وزیر خارجہ ای احمد سے ملاقات کی تو انہوں نے اس کے لیئے مقامی حکام سے اجازت کا مکتوب مانگا اور کہا کہ اس کے بغیر حکومت ان کی مدد نہیں کرسکتی- چنانچہ قافلے کے دوسرے ارکان دہلی میں رک گئے ہیں جبکہ محمد حنیف بذریعہ ٹرین حیدرآباد واپس آئے ہیں جہاں وہ مقامی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور مختلف ارکان اسمبلی کے مکتوب حاصل کررہے ہیں تاکہ سرکاری کارروائی میں سہولت ہوسکے۔

محمد حنیف کا کہنا ہے کہ اس رکاوٹ کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور جیسے ہی انہیں حکومت کی اجازت مل جاتی ہے وہ آگے کے سفر پر روانہ ہونے کے لئے تیار ہیں- محمد حنیف کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سے دہلی تک لگ بھگ 1500 کیلو میٹر کا سفر انہوں نے جس آسانی کے ساتھ طے کیا اس نے ان کے حوصلے اور بھی بلند کردیئے ہیں-

عصری ٹیکنالوجی میں تحقیق کا نیا مرکز

بنگلور
ڈیویلپمنٹ سنٹر میں جدید ترین تکنیک پر ریسرچ کی جائے گی

آئی ٹی کے شعبہ سے تازہ خبر یہ ہے کہ امریکہ میں سیمی کنڈکٹرز اور پروگرام ایبل چپس بنانے والی سب سے بڑی کمپنی زائی لنکس Xilinx
نے حیدرآباد میں اپنا ڈیویلپمنٹ سنٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے- جس میں جدید ترین تکنیک پر ریسرچ کا کام کیا جائے گا- حالانکہ یہ کمپنی پوری دنیا میں موجود ہے لیکن حیدرآباد کا یہ سنٹر امریکہ کے باہر اس کا سب سے بڑا مرکز ہوگا-

یہاں ہونے والے کام کی نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں کمپنی ایسے عصری چپس کا ڈیزائن تیار کرے گی جنہیں بیک وقت کئی الیکٹرانک اور دوسرے آلات میں استعمال کیا جاسکے گا۔ پہلے اگر کوئی چپ کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن جیسے سازوسامان میں استعمال ہوجاتی تھی تو پھر اسے کسی دوسرے مقصد کے لیئے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن ایف پی جی اے کہلانے والی یہ نئی چپ بیک وقت کئی آلات میں استعمال کی جاسکے گی اور اس سے آٹو موبائل، مواصلات، اشیائے صارفین اور دفاعی شعبہ میں استعمال ہونے والے آلات کو بہتر بنایا جاسکےگا-

گزشتہ برس پونے دو ارب ڈالر کا کاروبار کرنے والی اس کمپنی نے واضح نہیں کیا ہے کہ وہ حیدرآباد کے اس سینٹر کے قیام کے لیئے کتنی سرمایہ کررہی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان میں اس کے کام کی محض ایک شروعات ہے- کمپنی نے اس عصری ٹیکنالوجی میں نوجوان انجینئروں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیئے آئی آئی ٹی بمبئی میں بھی اپنا ایک تربیتی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کرناٹک اسمبلیدکن ڈائری
کرناٹک سرکار کو ایکسپریس وے سے خطرہ
دکن ڈائری
مسلمانوں کی مایوسی، سی پی آئی۔نائیڈو دوستی
بل گیٹسعمر کی دکن ڈائری
زمین، ایک سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ
عمر کی دکن ڈائری
خواب دیکھنا مت چھوڑ: حیدرآباد کی ایک لڑکی
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد