دکن ڈائری: طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل تک بارش کی قلت سے پریشان آندھرا پردیش اب طوفانی بارش اور سیلاب کی مار جھیل رہا ہے۔ اس ہفتے تین دن کی بارش نے سارا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ بارش کی شدت کا عالم یہ ہے کہ وشاکھاپٹنم اور سریکاکلم ضلعوں میں معمول سے سو فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے۔ بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے تقریباْ پچاس افراد کی جانیں لے لی ہیں۔ ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچا ہے۔ عام طور پر ستمبر اور اکتوبر کے مہینے آندھرا پردیش میں طوفان باد و باراں اور سیلاب کے موسم کے طور پر مشہور ہیں۔ لیکن اس برس یہ سلسلہ اگست کے مہینے سے ہی شروع ہوگیا ہے۔ خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں کمی کے سبب ہونے والی اس بارش سے بعض علاقوں میں پانی کی قلت ختم ہوئی ہے اور بہت سے کسان اس سےخوش ہیں۔ لیکن ساحل کے کسانوں اور دوسرے لوگوں کے لیے یہ بارش تباہی کا پیام لائی ہے۔ ریاست کے دونوں بڑے دریا کرشنا اور گوداوری خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں اور سینکڑوں دیہات پانی میں گھر گئے ہیں- ریاست کے وزیراعلی راج شیکھر ریڈی کا کہنا ہے کہ نقصان کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔ حکمت عملی پر ماؤسٹ کی نظر ثانی
پارٹی کے اندر ایک ایسا گروپ ابھرا ہے جو یہ محسوس کرتا ہے کہ تشدد اور اپنے مخالفین کو ہلاک کرنے کی پالیسی نے ماؤسٹوں کو عوامی تائید سے محروم کردیا ہے اس لیے پولیس بھی اسے بآسانی نشانہ بنانے میں کامیاب ہورہی ہے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے عوامی مسائل کے لیے جد و جہد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ لیکن نئے ریاستی سکریٹری کا تعلق ایسےانتہا پسند گروپ سے ہے جو طاقت کا جواب طاقت سے دینے پر یقین رکھتا ہے۔ کے سدرشن عرف آنندگزشتہ تیس برس سے روپوش ہیں اورانہوں نے تنظیم میں کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پولیس نے ان کی بیوی لتا اکّا کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ شدرشن کوچننے کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ انہیں نلّہ ملّہ جنگل کے علاقہ پر اچھی گرفت حاصل ہے اور اس وقت پولیس اس ہزاروں مربع کیلومیٹر پر پھیلے جنگل کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے۔ حیدرآباد پر ماؤسٹ حملوں کا سایہ
پولیس عہدیدار اس بات پر زیادہ فکر مند ہیں کہ اس ٹیم کی قیادت واسودیوراؤ عرف آشنا کرر ہے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے سابق وزیراعلی چندرا بابو نائیڈو پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ انہیں نہایت ہی خطرناک آدمی سمجھا جاتا ہے۔ اس حملے میں نائیڈو بال بال بچے تھے۔ انٹلیجنس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماؤسٹوں کی ٹیم ریاستی سیکریٹریٹ کے آس پاس گھوم کر وہاں کی سیکوریٹی کا جائزہ بھی لے چکی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس نے غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں اور اپنے جاسوسوں کی ایک بڑی تعداد پورے شہر میں پھیلا دی ہے۔ خصوصی کمانڈوز کو کہا گیا ہے کہ وہ آشّنا اور اس کے ساتھیوں کو دیکھتے ہی گولی ماردیں۔ اس صورتحال نے عام لوگوں میں یہ خدشہ پیدا کردیا ہے کہ حیدرآباد میں کوئی نہ کوئی ڈرامائی واقعہ ضرور ہونے والا ہے۔ |
اسی بارے میں کروناندھی کے چاول بمقابلہ جیہ للیتا کے چاول29 April, 2006 | انڈیا سیاسی بزرگوں کا راج13 May, 2006 | انڈیا ’خدا کی زمین‘ پرکمیونسٹ حکمران20 May, 2006 | انڈیا خوشی کے ساتھ ساتھ تکلیفیں بھی27 May, 2006 | انڈیا شمال و جنوب کا فرق، مفت ٹی وی اور پھلوں کا بادشاہ03 June, 2006 | انڈیا فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ10 June, 2006 | انڈیا کرناٹک حکومت کوخطرہ 17 June, 2006 | انڈیا نکسلی رہنما، ڈاونچی کوڈ اور مہنگے ٹی وی 24 June, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||