BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا نظام اپنے محلات بچا پائیں گے ؟

نظام کے جواہرات
مکرم جاہ کے دادا میر عثمان علی خان دنیا کے سب سے دولت مند انسان سمجھے جاتے تھے
حیدرآباد کے آخری نظام کے جانشین مکرم جاہ بہادر کے ستارے ایسا لگتا ہے کہ بدستور گردش میں ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئےحالات کو جتنا بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ اتنے ہی ان کے خلاف ہوجاتے ہیں۔

چنانچہ ابھی مکرم جاہ اپنی تیسری مطلقہ بیوی کے ہاتھوں عدالتی مقدمے میں شکست سے سنبھل بھی نہ سکے تھے کہ انہیں ایک اور دھکہ لگا۔

ریاستی ہائیکورٹ نےپہلی مرتبہ نظام کے دو اہم محلات خلوت محل اور چیریان پیلس کے دروازوں کو سرکاری معائنہ کے لیئے کھولنے پر مجبور کردیا ہے۔ مفاد عامہ کی ایک درخواست پر جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان محلات میں رکھی قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل کاریں اور بگھیاں اور دوسرے نوادرات خطرے میں ہیں عدالت نے ریاستی حکومت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ان محلات کا معائنہ کریں اور وہاں موجود نوادرات کی صورتحال کا جائزہ لیں۔

چنانچہ حیدرآباد کے ضلع کلکٹر آر وی چندراودن اور محکمہ آثار قدیمہ کی ڈائریکٹر کے کیداریشوری نے پہلے خلوت محل اور پھر چیریان پیلس کا معائنہ کیا اور وہاں کے نوادرات کا جائزہ لیا۔ ان میں 1909 ء کی رولس رائس، دو نیپیرس، ایک فیٹ اور ایک ویلس لی کار چیریان پیلس میں رکھی تھیں اور ان کی حالت انتہائی خستہ تھی۔ اس کے علاوہ مختلف گیراجوں میں ایک نیسان ایک سیاہ رنگ کی فورڈ اور دوسری ایسی کئی گاڑیاں محفوظ تھیں جن پر حیدرآباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان کی دستار اور کنگ کوٹھی کا نشان ثبت تھا۔

خلوت محل میں ان عہدیداروں نے دربار ہال، کونسل ہال، روشن بنگلہ اور دوسری عمارتوں اور وہاں رکھی قیمتی اشیاء کا معائنہ کیا جن میں شاہی ملبوسات کا ذخیرہ، بڑے بڑے جھومر اور فانوس اور دوسرے نوادرات شامل تھے۔ انہوں نے وہ چھ بگھیاں بھی دیکھیں جنہیں محل کا عملہ مرمت کرکے ایک نمائش میں رکھنے کے قابل بنارہا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چومحلہ پیلس (جن میں چار الگ الگ محلات شامل ہیں) پہلے ہی سے زیر مرمت ہیں اور ان کے ایک بڑے حصے کو تزئین نو کے بعد عوامی نمائش کے لیئے کھول دیا گیا ہے۔ بگھیوں کے علاوہ نظام کے دور کے کئی نوادرات کو بھی بحال کیا جارہا ہے تاکہ انہیں نمائش میں شامل کیا جاسکے۔

چیریان پیلس میں داخلہ کے وقت سرکاری عہدیداروں کو وہاں کے محافظین سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام کی شخصی ملکیت ہے اور اس میں کوئی بھی بلااجازت داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن سرکاری عہدیداروں نے ڈرا دھمکا کر انہیں گیٹ کھولنے پر مجبور کیا۔

دِلی میں نظام کے جواہرات کی نمائش
مکرم جاہ کے قانونی مشیر اور لندن کے مشہور بیرسٹر وجے شنکر داس نے ہائیکورٹ میں ایک درخواست داخل کی جس میں کہا گیا کہ دونوں محلات اور ان میں موجود تمام نوادرات نظام کی ملکیت ہیں اور وہ ہی اس کا تحفظ کرسکتے ہیں اس سلسلہ میں انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ نظام کو اپنے فلک نما پیلس کو ایک ہیریٹیج ہوٹل ‏میں بدلنے کا پورا حق ہے اور یہ کام جاری ہے۔

داس نے اِس بات کی بھی وضاحت کی کہ چیریان پیلیس بھی نظام کی اپنی ملکیت ہے اور اِس میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

چیریان پیلس پہلے 400 ایکڑ سے بھی زیادہ علاقے پر پھیلا ہوا تھا لیکن بعد میں ریاستی حکومت نے پیلس کے اطراف 390 ایکڑ کا علاقہ اپنے کنٹرول میں لے کر اسے قومی پارک کی حیثیت دے دی۔ اس طرح اب نظام کا شخصی محل صرف دس ایکڑ سے بھی کم علاقہ تک محدود ہوگیا ہے۔

جس وقت معائنہ کی کارروائی چل رہی تھی سرکار کے نام سے مشہور مکرم جاہ بہادر پیلس کے اندر ہی موجود تھے۔ لیکن عہدیداروں کو اس کی کوئی خبر نہیں ہوئی۔ مکرم جاہ اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ خفیہ طور پر میں حیدرآباد آئے تھے تاکہ ایک مقامی عدالت کے حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کی تیاری کرسکیں۔ اس میں عدالت نے نظام کو ان کی تیسری مطلقہ شریک حیات منولیا عنور کو 14 کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ منولیا عنور کا، جو کہ ترکی کی سابق ملکہ حسن ہیں، کہنا تھا کہ جب 1994 ء میں ان کی طلاق ہوئی تو مکرم جاہ نے انہیں ساڑھے تین ملین ڈالر ادا کرنے اور ان کی بیٹی کو چیریان پیلس تحفے میں دینے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہ ہونے پر انہوں نے قانونی کارروائی کی تھی۔ شاہی خاندان کے ذرائع کے مطابق مکرم جاہ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو بالائی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ عنور سے کیئے گئے اپنے وعدے پورے کرچکے ہیں۔

شاہی خاندان کو دو محلات کے معائنہ کی سرکاری کارروائی نے اس لیئے فکرمند کردیا ہے کہ وہ اسے محلات اور نوادرات چھین لینے کی سرکاری سازش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ آزادی سے پہلے ملک میں جتنے رجواڑے تھے وہاں کے حکمران خاندانوں کے ساتھ تو اچھا سلوک کیا گیا اور انہیں ان کے محلات اور دولت سنبھال کر رکھنے کی اجازت دی گئی جب کہ حیدرآباد کے نظام خاندان کو کبھی انکم ٹیکس کے نام پر اور کبھی قانون تحدید اراضی کے نام پر ہراساں کیا گیا۔

چیریان پیلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس تقریباً تیس پینتیس برسوں تک بیرون ملک رہنے کے بعد اب واپس گھر آنا چاہتے ہیں لیکن ان کی شرط ہے کہ اس کے لیئے حیدرآباد میں ایک سازگار ماحول تیار ہو اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چند برس قبل ہی ان کی مالی حالت کچھ بہتر ہوئی جبکہ حکومت ہند نے نظام خاندان کے شہرہ آفاق ہیرے جواہرات کو کلکشن 217 کروڑ روپے میں خریدا تھا اور اس میں سے مکرم جاہ کو90 کروڑ روپے ملے تھے۔

وجئے شنکر داس نے کہا کہ جس وقت ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میں ضم کیا گیا تھا حکومت ہند نے 1948 اس وقت کے نظام میر عثمان علی خان کو جو رقمی ادائیگیوں کا وعدہ کیا تھا اس میں سے ایک ارب ڈَالر کی رقم ابھی بھی ہندوستانی خزانے میں جمع ہے جس کی حصول کی کوشش کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس رقم پر حکومت ہند سالانہ چھ فیصد کے حساب سے انہیں سود ادا کرے۔

اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ 1948 ء میں اسکاٹ لینڈ اور سوئزرلینڈ کے بینکوں میں جو رقم جمع کرائی گئی تھی وہ بھی وصول طلب ہے۔ داس کا کہنا ہے کہ نظام اپنے گھر واپس آنا چاہتے ہیں اسی لیئے محلات کی مرمت اور تزئین نو کا کام کیا جارہا ہے۔

مکرم جاہ جن کے دادا میر عثمان علی خان اپنے دور میں دنیا کے سب سے دولت مند انسان سمجھے جاتے تھے بے پناہ دولت کے وارث بنے لیکن ان کی نجی زندگی ہمیشہ ہی تلاطم خیز رہی ہے اور وہ اب تک پانچ مرتبہ شادی کرچکے ہیں جن میں سے کوئی کامیاب نہیں رہی۔ ان کی پہلی شادی ترکی کی شہزادی اسریٰ سے 1963 میں ہوئی تھی لیکن جب پرنس مکرم جاہ نے آسٹریلیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو 1974 ء میں پرنسس اسریٰ نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور مکرم جاہ نے ان کے دو بچوں پرنس عظمت اور شہزادی شیکیار کو فی کس 30 ملین ڈالر کی خطیر رقم ادا کی تھی۔ 1977 ء میں انہوں نے آسٹریلیا میں ہیلن سیمنس سے شادی کی جن کا بعد میں انتقال ہوگیا۔ ان کے دو بچوں اعظم اور عمر کو بھی تیس تیس ملین ڈالر دیئے گئے۔ منولیا عنور ان کی تیسری بیوی تھیں اور انہیں اب 14 کروڑ روپے ملنے کی امید ہے۔ 1994 ء میں انہوں نے ایک مراکشی خاتون جمیلہ سے شادی کی لیکن ایک مہینے کے اندر ان سے طلاق ہوگئی جس پر انہیں ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا معاوضہ ادا کرنا پڑا۔ پانچویں بیوی اورچڈ کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ 1994 ء میں شادی سے پہلے ہی ان دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہوگیا تھا کہ طلاق کی صورت میں مکرم جاہ انہیں کیا دیں گے لیکن اس کی تفصیلات صیغہ راز میں ہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد