BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 06:30 GMT 11:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دکن ڈائری: رمضان، حلیم اور ناراض پولیس

’غیر مسلم ساتھی بھی بڑے اشتیاق سے پوچھتے ہیں: رمضان کب سے شروع ہورہا ہے‘
رمضان : حیدرآباد میں حلیم اور ہریسہ کا مہینہ

اگر کوئی پوچھے کہ ماہ مقدس رمضان کا سب سے زیادہ بے چینی کے ساتھ کون انتظار کرتا ہے تو آپ کہیں گے ایک خدا ترس اور دیندار آدمی جو صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے۔ لیکن یہاں حیدرآباد دکن میں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں رمضان کا نام روزوں سے زیادہ لذیذ غذاؤں اور خاص طور پر حلیم اور ہریسہ جیسی ڈشوں سے جڑا ہوا ہے جو صرف رمضان کے مہینے میں ہی ملتی ہیں۔ حلیم اور ہریسہ کی تیاری اور فروخت ایک ایسے بڑے کاروبار کی حیثیت اختیار کرگئی ہے کہ بنانے والے اور کھانے والے دونوں ہی اس سیزن کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ پتہ نہیں اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے لیکن حلیم و ہریسہ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ حیدرآباد کے عربوں اور ایرانیوں سے صدیوں پرانے قریبی رشتوں اور آپس کے لین دین کے اثرات کی ایک علامت ہے۔

حلیم عین افطار کے وقت سے نصف شب تک بڑی دھوم دھام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ اس سے لطف اندوز ہونے والوں میں وہ لوگ زیادہ ہوتے ہیں جو روزہ رکھتے نہیں روزہ کھاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ غیر مسلم ساتھی بھی بڑے اشتیاق سے پوچھتے ہیں ’رمضان کب سے شروع ہورہا ہے‘۔

شیر بولے میاؤں میاؤں، بلی لگائے دھاڑ

اس سال کے اوائل میں حکمراں کانگریس پارٹی کا کل ہند اجلاس حیدرآباد دکن میں منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے شہر کے ایک مصروف چوراہے پر مجاہدین آزادی کی ایک یادگار کی نقاب کشائی کی تھی جو ایک انسانی ہاتھ کی شکل میں بنائی گئی تھی لیکن گزشتہ دنوں شدید بارش کے سبب وہ یادگار زمین بوس ہوگئی ہے۔ اس کا ذکر اس لیئے یاد آیا کہ ان دنوں آندھراپردیش میں کانگریس پارٹی کی حالت اس یادگار سے کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ پارٹی اس وقت جس ذہنی خلفشار اور الجھنوں کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جس پارٹی نے اپنے مخالف تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سربراہ چندرشیکھر راؤ کو چیخ چیخ کر للکارا تھا وہی پارٹی بغلیں جھانکتے اور جھینپی ہوئی حالت میں نظریں چراتے ہوئے خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔

سونیا
کانگریس پارٹی اس وقت ذہنی خلفشار اور الجھنوں کا شکار ہے

سیاسی حکمت سازی کے لئے مشہور چندر شیکھر راو نے کانگریس کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنی کریم نگر لوک سبھا نشست سے استعفٰی دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کانگریس کے کسی بھی لیڈر سے مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ انہیں کانگریس کے جس سینئر رہنما اور ایک ریاستی وزیر ستیہ نارائن راؤ نے چیلنج دیا تھا انہوں نے پہلے کابینہ سے اپنا استعفٰی تو بھجوادیا اور اعلان کردیا کہ وہ اپنے چیلنج کے مطابق چندر شیکھر راؤ سے مقابلہ کے لیئے تیار ہیں لیکن جب پارٹی کی مرکزی قیادت سے پھٹکار پڑی تو انہوں نے استعفٰی واپس لے لیا۔

کانگریس کی قیادت چاہتی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت سے نکل جانے کے بعد بھی کم سے کم یو پی اے اتحاد کا حصہ بنی رہے۔ دوسرے یہ کہ اسے ڈر ہے کہ اگر ضمنی انتخاب ہوا اور اس میں کانگریس اور ٹی آر ایس کا ٹکراؤ ہوا تو حزب اختلاف کی تلگودیشم کو اس کا سیدھا فائدہ پہنچےگا اور تیسرے یہ کہ اگر ضمنی الیکشن میں چندر شیکھر راؤ کے ہاتھوں کانگریس کو ہارہوئی تو پھر کانگریس تلنگانہ کے عوام کے اعتماد سے محروم ہوجائےگی۔

آندھراپردیش کی پولیس نئی فلم سے ناراض

ہندوستانی فلموں میں اکثر خاکی وردی کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے- پولیس والوں کو شکایت ہے کہ فلموں میں ایسے منفی کرداروں سے ان کے امیج کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور ان پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ آندھراپردیش میں ایسی ہی ایک فلم نے طوفان کھڑا کردیا ہے۔

پولیس
ہندوستانی فلموں میں اکثر خاکی وردی کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے

پولیس رام گوپال ورما کی بنائی ہوئی فلم ’شیوا 2006 ‘ سے ناراض ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کے پوسٹروں پر فلم کے نام کے نیچے لکھا ہے ’اگر پولیس والے خود ہی مجرم بن جائیں تو‘۔ یہ فلم ایک ایسے باغی نوجوان کی کہانی ہے جو پولیس زیادتیوں کے خلاف ہتھیار اٹھالیتا ہے- آندھراپردیش پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس فلم میں مناسب تبدیلیاں نہیں کی گئیں تو وہ اس کے خلاف مہم چلائیں گے- ایسوسی ایشن کو اس فلم کے ایک نغمہ ’پولیس پولیس چور چور‘ سے بھی ٹھیس پہنچی ہے- پولیس کہنا ہے کہ ’اس طرح کی فلموں سے ہمارے امیج کو جو نقصان پہنچتا ہے اس سے ہمارے خاندانوں کو بھی تکلیف ہوئی ہے۔ اب تک کئی فلموں میں ہمارے ساتھ ایسا ہوچکا ہے لیکن اب ہم خاموش نہیں رہیں گے‘۔

عام طور پر جب کسی فلم کے خلاف احتجاج ہوتا ہے تو امن کی برقراری کا کام پولیس کرتی ہے لیکن اب جب پولیس والے ہی احتجاج کرنے لگیں تو صورتحال کون سنبھالے گا یہ دیکھنے والی بات ہوگی-

ریاستی پولیس چیف کی اہلیہ عدالت کے کٹہرے میں

پولیس کے ذکر خیر پر یہ یاد آیا کہ اس ہفتہ ریاستی پولیس کے سربراہ سورن جیت سین کی شریک حیات انیتا بچوں کی خریدو فروخت کے الزام کے تحت مقدمہ میں مقامی عدالت میں حاضر ہوئیں- انیتا سین کٹہرے میں آئیں اور عدالت نے ان کی حاضری کا نوٹ لیا اور جج صاحب نے سماعت مزید ایک مہینے کے لیئے ملتوی کردی ہے-

بچہ
شیر خوار بچوں کو دور افتادہ دیہاتوں اور غریب قبائلی خاندانوں سے کوڑیوں کے مول خریدا گیا تھا
انیتا سین پر اس مقدمہ کا تعلق 2001 سے ہے جب ریاستی حکومت نے کئی غیر سرکاری تنظیموں کے اداروں پر دھاوے کرکے بے اولاد جوڑوں کو بچے گود دینے کے ایک ریکٹ کا پردہ فاش کیا تھا اور مختلف مراکز سے 200 بچوں کو بچاکر سرکاری یتیم خانے میں پہنچایا گیا تھا- ان میں سے اکثر بچے شیر خوار تھے اور انہیں دور افتادہ دیہاتوں اور غریب قبائلی خاندانوں سے کوڑیوں کے مول خریدا گیا تھا- انیتا سین کے ادارے سے 57 بچوں کو بچایا گیا تھا اور ان پر یہ سنگین الزام بھی لگا تھا کہ وہ حکومت ہند سے کسی لائسنس یا اجازت کے بغیر ہی بچوں کو گود دینے کا کام کررہی تھیں- اس الزام کے تحت انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور تقریبا دیڑھ مہینے تک انہیں جیل میں رہنا پڑا تھا- اس کیس کے وقت ان کے شوہر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس کے عہدے پر فائز تھے لیکن وہ بھی اپنی بیوی کو نہیں بچاسکے- البتہ جنوری 2005ء میں جب ریاستی پولیس کے سربراہ یا ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بنے تو ان پر یہ الزام ضرور لگا کہ وہ ا س معاملہ کو رفع دفع کرنے اور ان کی بیوی کے خلاف کارروائی کرنے والے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں-

انیتا سین کے خلاف کارروائی کرنے والی ایک خاتون آئی اے ایس آفیسر شالنی مشرا نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ پولیس انہیں ہراساں کررہی ہے اور اس نے ان کے خلاف ایک فرضی مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ جب پوری ریاست کے آئی اے ایس آفیسروں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو تب جاکر یہ مقدمہ واپس لیا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ شوہر ریاستی پولیس کے سربراہ ہیں اور شریک حیات پر فوجداری مقدمہ میں وہی پولیس استغاثہ کا رول ادا کررہی ہے۔

کرناٹک اسمبلیدکن ڈائری
کرناٹک سرکار کو ایکسپریس وے سے خطرہ
دکن ڈائری
مسلمانوں کی مایوسی، سی پی آئی۔نائیڈو دوستی
بل گیٹسعمر کی دکن ڈائری
زمین، ایک سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ
عمر کی دکن ڈائری
خواب دیکھنا مت چھوڑ: حیدرآباد کی ایک لڑکی
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد