دکن ڈائری: رمضان، حلیم اور ناراض پولیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رمضان : حیدرآباد میں حلیم اور ہریسہ کا مہینہ اگر کوئی پوچھے کہ ماہ مقدس رمضان کا سب سے زیادہ بے چینی کے ساتھ کون انتظار کرتا ہے تو آپ کہیں گے ایک خدا ترس اور دیندار آدمی جو صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے۔ لیکن یہاں حیدرآباد دکن میں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں رمضان کا نام روزوں سے زیادہ لذیذ غذاؤں اور خاص طور پر حلیم اور ہریسہ جیسی ڈشوں سے جڑا ہوا ہے جو صرف رمضان کے مہینے میں ہی ملتی ہیں۔ حلیم اور ہریسہ کی تیاری اور فروخت ایک ایسے بڑے کاروبار کی حیثیت اختیار کرگئی ہے کہ بنانے والے اور کھانے والے دونوں ہی اس سیزن کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ پتہ نہیں اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے لیکن حلیم و ہریسہ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ حیدرآباد کے عربوں اور ایرانیوں سے صدیوں پرانے قریبی رشتوں اور آپس کے لین دین کے اثرات کی ایک علامت ہے۔ حلیم عین افطار کے وقت سے نصف شب تک بڑی دھوم دھام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ اس سے لطف اندوز ہونے والوں میں وہ لوگ زیادہ ہوتے ہیں جو روزہ رکھتے نہیں روزہ کھاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ غیر مسلم ساتھی بھی بڑے اشتیاق سے پوچھتے ہیں ’رمضان کب سے شروع ہورہا ہے‘۔ شیر بولے میاؤں میاؤں، بلی لگائے دھاڑ اس سال کے اوائل میں حکمراں کانگریس پارٹی کا کل ہند اجلاس حیدرآباد دکن میں منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے شہر کے ایک مصروف چوراہے پر مجاہدین آزادی کی ایک یادگار کی نقاب کشائی کی تھی جو ایک انسانی ہاتھ کی شکل میں بنائی گئی تھی لیکن گزشتہ دنوں شدید بارش کے سبب وہ یادگار زمین بوس ہوگئی ہے۔ اس کا ذکر اس لیئے یاد آیا کہ ان دنوں آندھراپردیش میں کانگریس پارٹی کی حالت اس یادگار سے کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ پارٹی اس وقت جس ذہنی خلفشار اور الجھنوں کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جس پارٹی نے اپنے مخالف تلنگانہ راشٹر سمیتی کے سربراہ چندرشیکھر راؤ کو چیخ چیخ کر للکارا تھا وہی پارٹی بغلیں جھانکتے اور جھینپی ہوئی حالت میں نظریں چراتے ہوئے خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔
سیاسی حکمت سازی کے لئے مشہور چندر شیکھر راو نے کانگریس کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنی کریم نگر لوک سبھا نشست سے استعفٰی دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کانگریس کے کسی بھی لیڈر سے مقابلہ کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ انہیں کانگریس کے جس سینئر رہنما اور ایک ریاستی وزیر ستیہ نارائن راؤ نے چیلنج دیا تھا انہوں نے پہلے کابینہ سے اپنا استعفٰی تو بھجوادیا اور اعلان کردیا کہ وہ اپنے چیلنج کے مطابق چندر شیکھر راؤ سے مقابلہ کے لیئے تیار ہیں لیکن جب پارٹی کی مرکزی قیادت سے پھٹکار پڑی تو انہوں نے استعفٰی واپس لے لیا۔ کانگریس کی قیادت چاہتی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت سے نکل جانے کے بعد بھی کم سے کم یو پی اے اتحاد کا حصہ بنی رہے۔ دوسرے یہ کہ اسے ڈر ہے کہ اگر ضمنی انتخاب ہوا اور اس میں کانگریس اور ٹی آر ایس کا ٹکراؤ ہوا تو حزب اختلاف کی تلگودیشم کو اس کا سیدھا فائدہ پہنچےگا اور تیسرے یہ کہ اگر ضمنی الیکشن میں چندر شیکھر راؤ کے ہاتھوں کانگریس کو ہارہوئی تو پھر کانگریس تلنگانہ کے عوام کے اعتماد سے محروم ہوجائےگی۔ آندھراپردیش کی پولیس نئی فلم سے ناراض ہندوستانی فلموں میں اکثر خاکی وردی کو طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے- پولیس والوں کو شکایت ہے کہ فلموں میں ایسے منفی کرداروں سے ان کے امیج کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور ان پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ آندھراپردیش میں ایسی ہی ایک فلم نے طوفان کھڑا کردیا ہے۔
پولیس رام گوپال ورما کی بنائی ہوئی فلم ’شیوا 2006 ‘ سے ناراض ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس کے پوسٹروں پر فلم کے نام کے نیچے لکھا ہے ’اگر پولیس والے خود ہی مجرم بن جائیں تو‘۔ یہ فلم ایک ایسے باغی نوجوان کی کہانی ہے جو پولیس زیادتیوں کے خلاف ہتھیار اٹھالیتا ہے- آندھراپردیش پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس فلم میں مناسب تبدیلیاں نہیں کی گئیں تو وہ اس کے خلاف مہم چلائیں گے- ایسوسی ایشن کو اس فلم کے ایک نغمہ ’پولیس پولیس چور چور‘ سے بھی ٹھیس پہنچی ہے- پولیس کہنا ہے کہ ’اس طرح کی فلموں سے ہمارے امیج کو جو نقصان پہنچتا ہے اس سے ہمارے خاندانوں کو بھی تکلیف ہوئی ہے۔ اب تک کئی فلموں میں ہمارے ساتھ ایسا ہوچکا ہے لیکن اب ہم خاموش نہیں رہیں گے‘۔ عام طور پر جب کسی فلم کے خلاف احتجاج ہوتا ہے تو امن کی برقراری کا کام پولیس کرتی ہے لیکن اب جب پولیس والے ہی احتجاج کرنے لگیں تو صورتحال کون سنبھالے گا یہ دیکھنے والی بات ہوگی- ریاستی پولیس چیف کی اہلیہ عدالت کے کٹہرے میں پولیس کے ذکر خیر پر یہ یاد آیا کہ اس ہفتہ ریاستی پولیس کے سربراہ سورن جیت سین کی شریک حیات انیتا بچوں کی خریدو فروخت کے الزام کے تحت مقدمہ میں مقامی عدالت میں حاضر ہوئیں- انیتا سین کٹہرے میں آئیں اور عدالت نے ان کی حاضری کا نوٹ لیا اور جج صاحب نے سماعت مزید ایک مہینے کے لیئے ملتوی کردی ہے-
انیتا سین کے خلاف کارروائی کرنے والی ایک خاتون آئی اے ایس آفیسر شالنی مشرا نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ پولیس انہیں ہراساں کررہی ہے اور اس نے ان کے خلاف ایک فرضی مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ جب پوری ریاست کے آئی اے ایس آفیسروں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو تب جاکر یہ مقدمہ واپس لیا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ شوہر ریاستی پولیس کے سربراہ ہیں اور شریک حیات پر فوجداری مقدمہ میں وہی پولیس استغاثہ کا رول ادا کررہی ہے۔ |
اسی بارے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری 15 July, 2006 | انڈیا زمین، سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ21 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ29 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر05 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||