آغا خان کا 50 ملین ڈالر کا تحفہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد دکن کو آغا خان کا 50 ملین ڈالر کا تحفہ آغا خان فاؤنڈیشن اور آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک نے حیدرآباد دکن کو ایک تحفہ پیش کیا ہے۔ اسماعیلی شیعہ مسلمانوں کے روحانی پیشوا پرنس آغا خان نے جمعہ کو حیدرآباد میں ایک تعلیمی اکیڈیمی کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ تقریبًا دو سو پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی یہ اکیڈمی ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا عالمی ادارہ ہوگا جس میں طلباء کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی عالمی معیار کی تعلیم اور تدریس کے لیئے تربیت دی جائے گی۔ اس اکیڈمی کے لیئے ریاستی حکومت نے 100 ایکڑ زمین دی ہے۔ اس موقع پر اپنی تقریرمیں آغا خان نے کہا کہ ان کے آبا و اجداد نے قاہرہ کی جامعہ ازہر کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور ان کے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کشیدگی اور تشدد جہالت کے ٹکراؤ کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ آغا خان کے دنیا بھر میں پھیلے تمام ادارے باہم آن لائن سے مربوط ہوں گے۔ انہیں میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ہارورڈ اور اوکسفرڈ یونیورسٹیوں جیسے مشہور بین الاقوامی اداروں کا تعاون حاصل ہوگا- ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر سلیم بھاٹیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی پہلی اکیڈمی کینیا کے شہر ممباسا میں شروع کی گئی ہے اور حیدرآباد کی اکیڈمی آئندہ ایک سال کے اندر اساتذہ کی تربیت کا کام شروع کردے گی۔ ایک سال بعد طلبا کی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔
ایک رنگین خواب کی تکمیل تامل ناڈو کے عوام نے جن حسین خوابوں کے ساتھ ایم کروناندھی کی زیر قیادت ڈی ایم کو اقتدار بخشا تھا ان میں سے ایک خواب پورا ہوگیا ہے- کروناندھی نے اپنا سب سے بڑا انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے غریب خاندانوں میں رنگین ٹیلی ویژن کی تقسیم شروع کردی ہے- اس سکیم سے ان تمام خاندانوں کو فائدہ ہوگا جن کے پاس سفید راشن کارڈ موجود ہو۔ یہ کارڈ غربت سے نیچے ہونے کا ثبوت ہے- اس سکیم کے آغاز کے طور پر کانچی پورم ضلع کے ایک گاؤں میں 9 کروڑ روپے کی مالیت کے 25 ہزار سے زیادہ رنگین ٹیلی ویژن تقسیم کیئے گئے ہیں- حکومت کل ملاکر دو ہزار کروڑ روپے کے خرچ سے 52 لاکھ ٹیلی ویژن غریب خاندانوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان میں سے 25 لاکھ ٹی وی کی تقسیم کے لیئے اس سال کے بجٹ میں 750 کروڑ روپے مہیا کیے گئے ہیں۔ جہاں کئی لوگ تفریح کے اس بہترین ذریعہ کے مفت مل جانے سے خوش ہیں، وہیں ابھی سے یہ شکایتیں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ ایک ہی خاندان کو بیک وقت کئی ٹیلی ویژن سیٹ مل گئے ہیں جبکہ کچھ خاندانوں کو ایک بھی سیٹ نہیں ملا ہے لیکن حکومت نے عوام کو یقین دیا ہے کہ کسی کو بھی ٹیلی ویژن سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔
ٹیپو سلطان پر تنقید، کرناٹک کے لوگ برانگیختہ سابق ریاست میسور کے حکمراں شیر میسور ٹیپو سلطان کو آج بھی ان کے علاقہ میں ایک ولی کا درجہ حاصل ہے اور لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت ان کی شخصیت سے بڑی والہانہ وابستگی اور عقیدت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کے پہلے مجاہد کی حیثیت رکھنے والے ٹیپو سلطان انگریزوں سے جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ریاست کی جنتادل بی جے پی حکومت کے ایک سینئر وزیر شنکر مورتی نے ٹیپو سلطان کو’مخالف کنٹرا زبان‘ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے- بی جے پی سے تعلق رکھنے والے شنکر مورتی نے یہ کہہ کرایک ہنگامہ کھڑا کردیا ہے کہ ٹیپو سلطان کی حکومت میں فارسی کو فروغ دیا گیا تھا اور کنٹرا زبان کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ آج بھی سرکاری کام کاج میں استعمال ہونے والی کنٹرا زبان میں جو فارسی کے مشکل الفاظ شامل ہیں انہیں خارج کیا جائے۔ اس پر بلا لحاظ مذہب و ملت ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور ماہرین تعلیم نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دانشوروں نے شنکر مورتی کو ایک فرقہ پرست قرار دیا ہے اور وزیر اعلی کمارا سوامی سے مطالبہ کیا کہ انہیں برطرف کیا جائے۔ بی جے پی لیڈر پر نہ صرف اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے شدید تنقید ہورہی ہے بلکہ خود حکومت اندر سے بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 18 ویں صدی کے حکمران پر تنقید کرکے بی جے پی کے رہنما نے اپنے آپ کوایک بڑی مصیبت میں ڈال لیا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں جنوبی ہند کے تین بڑے شہروں بنگلور، حیدرآباد اور چنائی کے درمیان مسابقت میں اب چنائی کو برتری حاصل ہونے لگی ہے- اس سال مئی میں جب سے وہاں ڈی ایم کے اقتدار میں آئی ہے تب سے اس میدان میں تامل ناڈو کو کئی بڑے منصوبوں اور کئی ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے حصول میں کامیابی ملی ہے- اس میں تازہ ترین اضافہ ڈیل کمپنی کا ہے جو 30 ملین ڈالر کی لاگت سے چینائی کے قریب پرسنل کمپیوٹر بنانے کا ایک پلانٹ قائم کرے گی- مبصرین کا کہنا ہے مرکزی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی دیاندھی مارن بھی ڈی ایم کے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ریاست کے وزیر اعلٰی ایم کروناندھی کے نواسے ہیں- اس لیئے حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ آنے والے دنوں میں مزید آئی ٹی کمپنیاں چنائی کا رخ کریں۔ |
اسی بارے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری 15 July, 2006 | انڈیا زمین، سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ21 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ29 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر05 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||