BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وندے ماترم پر دھماچوکڑی

وندے ماترم
آندھراپردیش کی کانگریسی حکومت کی جانب سے وندرے ماترم کے سلسلہ میں احکامات جاری ہونے پر حیرت کی لہر دوڑ گئی
یوں تو متنازعہ بنگالی گیت ’وندے ماترم‘ کی صد سالہ تقاریب کے موقع پر سیاسی حلقوں میں خوب دھماچوکڑی مچی اور کافی دھول اڑی لیکن مقررہ دن بغیر کسی ہنگامے کے گزر گیا۔

بنگال کے ادیب اور شاعر بنکم چندر چٹرجی نے یہ گیت لکھا تھا جسے کچھ حلقے جدوجہد آزادی کا ایک اہم حصہ مانتے ہیں۔ اسی مناسبت سے حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں نے سکولوں اور کالجوں کے طلبا کو یہ گیت گانے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن جس طرح خود جدوجہد آزادی کے دوران اس گیت کو ایک متنازعہ حیثیت حاصل ہو گئی تھی اب بھی وہ ایک تنازعہ کا موضوع بن گیا کیونکہ ماضی کی طرح اب کی بار بھی بعض مسلم علماءنے اس گیت کو ہندو مذہبی گیت قرار دیتے ہوئے اسے گانے کی مخالفت کی۔

جہاں لوگوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے اس معاملہ میں جوش و خروش دکھانے پر حیرت نہیں ہوئی وہیں آندھراپردیش کی کانگریسی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں احکامات جاری کرنے پر ریاست میں حیرت کی لہر دوڑ گئی اور خود ریاستی حکومت کے ایک مسلم وزیر محمد فریدالدین نے اس پر اعتراض کیا جس کے بعد حکومت کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ یہ حکم اختیاری ہے اور اس پر عمل کرنا لازمی نہیں ہے۔

وندے ماترم کے خالق بنکم چندر چٹرجی
پولیس کے دعوے اور مسلمانوں کے خدشات
سالانہ ہندو تہوار گنیش چتورتھی یوں تو پرامن طور پر گزرگیا لیکن پولیس نےاپنی سابقہ روایات کو جاری رکھتے ہوئے یہ کہہ کر پھر ایک مرتبہ ہنگامہ کھڑا کردیا کہ اس نے جلوس سے عین قبل ایک مسلم نوجوان کو گرفتار کرتے ہوئے جلوس کے دوران گڑبڑ کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا-

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے محمد شکیل کو گرفتار کیا ہے جو دوسرے کچھ نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک بی جے پی لیڈر کو قتل کرنے اور گنیش جلوس کے دوران تشدد پھیلانے کا منصوبہ بنارہا تھا- پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مزید چار نوجوانوں کو تلاش کررہی ہے۔ ان میں معتصم باللہ بھی شامل ہیں جن کے بھائی مجاہد سلیم اعظمی کو دو برس قبل گجرات کی پولیس نے حیدرآباد میں گولی ماردی تھی۔ پولیس ایک مذہبی رہنما مولانا نصیرالدین کو گرفتار کرنے کے لیئے شہر آئی تھی اور کچھ نوجوانوں نے مولانا کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

سلیم اور معتصم کے والد مولانا عبدالعلیم اصلاحی نے جو کہ ایک قابل احترام مذہبی شخصیت کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں کہا ہے کہ یہ ان کے خاندان کو نشانہ بنانے کی ایک سازش ہے اور اس کے لیئے پولیس نے معتصم اور دوسرے مسلم نوجوانوں کے خلاف یہ فرضی الزامات گھڑے ہیں۔

ہر برس گنیش کے جلوس اور رمضان سے پہلے پولیس حیدرآباد میں اس طرح کی کارروائیاں کرتی ہے چنانچہ 2004ء میں 8 نوجوانوں کو اس الزام پر گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ گنیش جلوس کے دوران دھماکے کرنے کی سازش تیار کررہے تھے گزشتہ برس بھی ایسے ہی الزام کے تحت ایک نوجوان کو گرفتار کیا تھا اور اس بار بھی ایسی ہی ایک کارروائی کی گئی ہے جس نے پولیس کے طریقۂ کار اور ارادوں کے بارے میں عوام میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔

ممتاز مسلم شخصیتوں اور رہنماؤں کے ایک وفد نے اس سلسلہ میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا- انہی شبہات اور ناراضگی کے احساسات کے پیش نظر ریاست کے وزیر اطلاعات محمد علی شبیر نے یہ ضروری سمجھا کہ وہ خود مولانا عبدالعلیم اصلاحی کی قیام گاہ پر جاکر ان سے ملاقات کریں اور انہیں انصاف کا یقین دلائیں۔

عالمی ملٹری گیمز
حیدرآباد کو ہندوستان میں سپورٹس کے ایک اہم مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور اب اسے ایک نیا اعزاز حاصل ہونے والا ہے۔ اکتوبر 2007 ء میں شہر اب تک کے سب سے بڑے کھیلوں کی میزبانی کرے گا جب ورلڈ ملٹری گیمز میں دنیا کے 120 ملکوں کے فوجی کھلاڑی حصہ لیں گے-

جنوبی فوجی کمان کے سربراہ کمانڈنٹ جنرل ادتیہ سین کا کہنا ہے کہ ان گیمز میں 15 مختلف کھیل ہوں گے جن میں سے 12 حیدرآباد میں اور 3 ممبئی میں منعقد ہوں گے-

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بہترین سٹیڈیم اور دوسری سہولتوں کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے اس شہر کا انتخاب کیا گیا ہے- ان کھیلوں پر مرکزی حکومت اور وزارت دفاع 45 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرے گی- پہلی بار یہ کھیل یورپ کے باہر کسی ملک میں ہوں گے۔ گزشتہ سال یہ کھیل اٹلی میں منعقد ہوئے تھے- اس سے قبل حیدرآباد نے نیشنل گیمز اور 2003ء کے ایفرو ایشین گیمز کی میزبانی کی تھی-

کیا پانی تاریخ کے نقش کو مٹادے گا
آندھراپردیش کا ایک گاؤں جسے ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کی زندہ علامت کی حیثیت حاصل ہے بہت جلد صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا- کریم نگر ضلع میں دریائے گوداوری کے کنارے واقع کوٹی لنگالا گاؤں کو کوئی ڈھائی ہزار سال قبل ستواہنا سلطنت کے دارالحکومت کی حیثیت حاصل تھی-

دکن پر حکومت کرنے والی اس سلطنت کے دور کے کئی آثار اس جگہ پائے گئے ہیں جن میں ایک قلعہ اور بدھ اسٹوپا کے کھنڈرات شامل ہیں- 1979 ء میں دریافت ہونے والے ان کھنڈرات اور تاریخی آثار کو اب ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔

اس علاقہ میں بنائے جانے والے سر پد ساگر آبپاشی پراجکٹ میں یہ پورا علاقہ غرقاب ہونے والا ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ اہم ہے اور پورے علاقے کو ایک نئی زندگی بخش سکتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ ماضی سے ان کا رشتہ بھی منقطع نہ ہونے پائے۔

’وندے ماترم‘
انڈیا کے قومی گیت کی دلچسپ تاریخ کا احوال
دلی ڈائری
تاج محل، بابری مسجد اور طاقتور خواتین
دکن ڈائریدکن ڈائری
گنیش منڈپ اب سائبر سپیس میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد