BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 September, 2006, 06:28 GMT 11:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دکن ڈائری: گنیش منڈپ اب سائبر سپیس میں

اب ای میل کے ذریعہ پوجا کی درخواست بھی بھیجی جاسکے گی
مذہبی تہوار پر ہائی ٹیک رنگ

گنیش چتورتھی حیدرآباد میں رفتہ رفتہ ہندو برادری کا سب سے بڑا اور رنگا رنگ تہوار بن گیا ہے جس میں ہندو سماج مذہبی عقیدے اور ثقافت کی کئی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس برس یہ 9 روزہ تہوار 6 ستمبر کو ختم ہوگا جبکہ ہزاروں مورتیوں اور لاکھوں لوگوں کا ایک جلوس حسین ساگر جھیل کے کنارے جمع ہوگا اور بڑی بڑی کرینوں کے ذریعہ کئی ٹن وزنی مورتیوں کے وسرجن کا نظارہ دیکھے گا۔

گنیش کو ہندو دھرم میں عقل و دانش کے مجسم کی حیثیت سے پوجا جاتا ہے۔ اس برس حسین ساگر میں وسرجن کو اس لیئے بھی خاص حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ آئندہ سال سے اس جھیل میں مورتیاں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جلوس میں جہاں پلاسٹر آف پیرس سے بنی عام مورتیاں ہوں گی وہیں میوے، سوکھے میوے ، موتیوں اور بے شمار دوسری چیزوں سے بنی مختلف قسم کی مورتیاں بھی شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ کچھ منڈپوں میں حالات حاضرہ کی عکاسی کرنے والے مناظر بھی پیش کیئے جائیں گے۔

زندگی کے دوسرے پہلوؤں کی طرح تہوار اور مذہبی رسومات پر بھی کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اثرات نمایاں ہیں۔ چنانچہ حیدرآباد کے قدیم ترین گنیش منڈپوں میں سے ایک خیریت آباد گنیش منڈپ اب سائبر سپیس میں بھی پہنچ گیا ہے۔

اس 50 سال پرانے منڈپ کے منتظمین نے ایک ایسی ویب سائیٹ بنادی ہے جس کے ذریعہ دنیا بھر کے عقیدت مند اس مورتی کی پوجا کرسکیں گے۔ اس ویب سائیٹ پر نہ صرف لوگ اس مورتی کو دیکھ سکیں گے اور اس کی تاریخ جان سکیں گے بلکہ ای میل کے ذریعہ پوجا کی درخواست بھی بھیج سکیں گے۔

مورتیوں کو کرینوں کے ذریعے جھیل میں اتارا جاتا ہے
مورتیوں کو کرینوں کے ذریعے جھیل میں اتارا جاتا ہے

منڈپ والوں کا کہنا ہے کہ انہیں دنیا بھر سے ہزارہا عقیدت مندوں کی ای میلز مل رہی ہیں۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ 40 فٹ اونچی مورتی ملک کی سب سے بڑی گنیش مورتیوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ایک اور منڈپ دیواپور کے گنیش کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں رکھا جانے والا کئی کلو گرام کا لڈو تہوار کے اختتام پر فروخت کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال 21 کلو کا یہ لڈو 2 لاکھ روپے سے زیادہ میں فروخت کیا گیا تھا۔ فرقہ وارانہ امن اور یکجہتی کو فروغ دینے کی ایک کوشش کے طور پر بعض وقت مقامی مسلمانوں نے بھی اس میں حصہ لے کر لڈو خریدا اور اسے مقامی ہندووں میں تقسیم کردیا۔

اب پولیس بھی جاگے گی

حیدرآباد دکن میں عام طور پر کوئی بھی مذہبی تہوار پولیس کے لیئے ایک بڑا چیلنج بن کر آتا ہے اور اسے امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے چوکنا رہنا پڑتا ہے اور اگر ایک ساتھ دو فرقوں کےتہوار آجائیں تو پولیس کی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ چنانچہ اب کی بار گنیش کا تہوار اور شب برات ایک ساتھ آرہے ہیں اور پولیس اس بارے میں خاصی پریشان ہے۔ گنیش کے جلوس کے لیئے کوئی 22 ہزار پولیس والوں کو تعینات کیا جارہا ہے جو تقریًبا 3 دن تک تعینات رہیں گے۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر اے کے موہنتی کا کہنا ہے کہ انہیں اب کی بار شب برات کے موقع پر بھی چوکس رہنا ہوگا کیونکہ مسلمانوں کی پچھلی مقدس رات شب معراج کے موقع پر شریر نوجوانوں کی ایک ٹولی نے سڑکوں پر شور شرابے، پتھراؤ اور مارپیٹ کرکے دہشت پھیلائی تھی۔ موہنتی کا کہنا تھا ’اب کی رات پولیس بھی جاگے گی‘۔

بنگلور
چنئی کو ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے

چنئی ۔ بنگلور بلٹ ٹرین

چنئی اور بنگلور جنوبی ہند کے دو اہم ترین معاشی مراکز ہیں۔ کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور اور تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی کو اس وقت ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اب حکومت ان دونوں شہروں کے فاصلوں کو کم کرنے اور ان کے درمیان سفر کی مدت کو گھٹانے کے لیئے ایک بڑا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ اس کے تحت ایک ایسی بلٹ ٹرین شروع کی جائے گی جو 340 کلو میٹر کا فاصلہ محض ایک گھنٹے میں طے کرے گی جبکہ فی الحال عام ٹرینیں یہ فاصلہ 7 گھنٹے میں طے کرتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے منصوبے دہلی، جے پور، پونے اور ممبئی کے بیچ میں بھی شروع کیئے جائیں گے۔

اس منصوبے کی تجویز گزشتہ ریلوے بجٹ میں رکھی گئی تھی اور اب اس پر ماہرین نے کام کرنا شروع کردیا ہے- حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں جس تیزی کے ساتھ سستی ایئرلائنز کی تعداد اور مانگ بڑھ رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیئے اس طرح کے نئے اقدامات بہت ضروری ہوں گے۔ لیکن اس منصوبے کو روبہ عمل لانا انڈین ریلویز کے لیئے آسان نہیں ہوگا۔ بلٹ ٹرین کے لیئے جو خاص قسم کی پٹریاں درکار ہوں گی انہیں بچھانے کے لیئے 2 تا تین کروڑ روپے فی کلو میٹر کا خرچ آئے گا۔

حیدرآباد میں مائیکرو سافٹ کے بڑھتے قدم

امریکہ کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی مائیکرو سافٹ نے ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے حیدرآباد کے اپنے کیمپس کے دوسرے مرحلہ کا افتتاح کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حیدرآباد میں مائیکرو سافٹ کے ملازمین کی تعداد 2 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ سرینی کوپلو کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے ہندوستان میں مائیکرو سافٹ کے لئے چار ہزار انجینئر اور دوسرے ماہرین کام کررہے ہیں۔کمپنی آئندہ برسوں میں یہ تعداد بڑھا کر 7 ہزار تک پہنچانا چاہتی ہے۔

ہندوستان اور خاص طور پر حیدرآباد مائیکرو سافٹ کے لئےکتنی اہمیت اختیار کر گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں خود مائیکرو سافٹ کے جو 60 ہزار ملازمین پھیلے ہوئے ہیں ان کی ٹیکنالوجیکل ضروریات کی تکمیل بھی حیدرآباد سے کی جاتی ہے۔ مائیکرو سافٹ اس وقت جس جدید ترین پراجکٹس پر تحقیق کا کام کررہا ہے وہ بھی حیدرآباد کے مرکز میں ہی انجام دیا جارہاہے۔

کرناٹک اسمبلیدکن ڈائری
کرناٹک سرکار کو ایکسپریس وے سے خطرہ
دکن ڈائری
مسلمانوں کی مایوسی، سی پی آئی۔نائیڈو دوستی
بل گیٹسعمر کی دکن ڈائری
زمین، ایک سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ
عمر کی دکن ڈائری
خواب دیکھنا مت چھوڑ: حیدرآباد کی ایک لڑکی
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد