دکن ڈائری: مفت کلچر، سکیورٹی اور سیاح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہند’مفت کلچر‘ کی لپیٹ میں جنوبی ہند کی ریاستوں میں مختلف طبقات کے لیئے مختلف اشیاء کی مفت تقسیم کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ پہلے آندھراپردیش میں کانگریس حکومت نے کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی شروع کی تو تامل ناڈو میں ڈی ایم کے پارٹی نے غریب خاندانوں کو مفت کلر ٹیلی ویژن کی فراہمی کا وعدہ کرکے پورے ملک میں ہل چل مچادی اور اب اسی ریاست میں ایم کروناندھی کی حکومت نے 10 لاکھ غریب خاندانوں کو مفت پکوان گیس اور چولہے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلٰی کروناندھی کا کہنا ہے اس پر 150 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جبکہ تقریبًا 52 لاکھ غریب خاندانوں کو مفت رنگین ٹیلی ویژن کی فراہمی کے وعدے پر 15 ستمبر سے عمل ہونے والا ہے جس پر کئی ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ساتھ ہی کروناندھی حکومت نے آندھراپردیش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ’مفت‘ کلچر نے پڑوسی ریاست کرناٹک کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔ وہاں جنتادل ایس اور بی جے پی کی مخلوط حکومت نے 8 ویں تا 10 ویں جماعت میں زیر تعلیم لڑکیوں کو مفت سائیکلیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور خاص طور پر ایسے دیہی علاقوں کی لڑکیوں کی مدد کرنا ہے جنہیں سکول پہنچنے کے لیئے کئی کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے لیکن اس سکیم سے لڑکے اور ان کے سرپرست بہت ناراض ہیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ مفت سائیکلیں یا تو سب کو ملنی چاہئیں یا پھر کسی کو نہیں۔ سرپرستوں کی مشکل یہ ہے کہ جب حکومت لڑکیوں کو سائیکلیں فراہم کررہی ہے تو لڑکے بھی انہیں بازار سے سائیکل خرید کر دینے کی ضد کررہے ہیں۔
چینائی کی سالگرہ ، تاریخ کے کچھ دلچسپ باب ٹامل ناڈو کا دارالحکومت چینائی جو جنوبی ہند کے سب سے ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک ہے، جلد ہی اپنی عمر کے 368 سال مکمل کرلے گا۔ بحر ہند کے ساحل پر بسا یہ شہر بڑی دلچسپ تاریخ کا حامل ہے اور اس نے کئی عظیم تاریخی نشیب و فراز دیکھے ہیں اور آج وہ آٹو موبائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کا ایک عظیم مرکز ہے۔ برطانوی راج میں مدراس کے نام سے مشہور یہ شہر مرکزی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہاں پر واقع فورٹ سینٹ جارج سے انگریز اس ’مدراس پریزیڈنسی‘ پر حکومت کیا کرتے تھے جس میں موجودہ کیرالا، آندھراپردیش اور کرناٹک کے کئی علاقے شامل تھے۔ 1953 ء میں جب زبان کی بنیاد پر ہندوستانی ریاستوں کی تشکیل جدید عمل میں آئی تو مدراس ٹامل ناڈو کا دارالحکومت بنا۔ اسی فورٹ سینٹ جارج میں ریاستی حکومت کا سکریٹریٹ قائم ہوا جو اب تک بھی اسی جگہ سے کام کررہا ہے حالانکہ اس تاریخی عمارت کی حالت کافی خستہ ہے اور جگہ انتہائی ناکافی۔ کئی مرتبہ حکومتوں نے ایک نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے منصوبے بنائے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے ان پر عمل نہیں ہوسکا- حالانکہ ٹامل ناڈو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ریاست ہے لیکن ریاستی سکریٹریٹ وزیروں کے دفتر اور بیورو کریٹس کے چیمبرز کی حالت اتنی گئی گزری ہے کہ ترقی کے دعوؤں پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مدراس کی جدید تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جب 15 اگست 1947 ء کو پورے ملک میں جشن آزادی منایا جارہا تھا تو اس وقت کی جسٹس پارٹی کے لیڈر پیریار نے یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ آزاد ہندوستان میں دراوڑوں کے ساتھ اونچی ذات کے برہمن انصاف نہیں کریں گے۔ اور یہ بھی ایک دلچسپ بات تھی کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کروناندھی بھی اسی پارٹی کا حصہ تھے۔ سیاحوں کی تفریح پر دہشت کے سا ئے
وارننگ میں ایسے مقامات کی واضح طور پر نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ان میں پہلی مرتبہ دو بڑے آبپاشی پراجیکٹس، ناگرجنا ساگر اور تنگبھدرا ڈیم اور وجے واڑہ کا بڑا تھرمل پاورسٹیشن بھی شامل ہے۔ چنانچہ ان مقامات پر سکیورٹی اتنی سخت کردی گئی ہے کہ عام آدمی کا وہاں سے گزرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ مایوسی ان ہزارہا سیاحوں کو ہوئی ہے جو ہر برس مون سون کے دوران ناگرجنا ساگر کی سیر کے لیئے آتے ہیں۔ جب ایشیا کے سب سے بڑے پراجیکٹس میں سے ایک ناگرجنا ساگر کے تمام 42 گیٹ کھول دیئے جاتے ہیں اور بلندی سے پانی آبشار کی شکل میں نیچے گرتا ہے تو یہ منظر ناقابل یقین حد تک خوبصورت اور متاثر کن ہوتا ہے۔ لیکن اب اس جگہ پولیس کا پہرہ ہے اور عام لوگ اس خوبصورتی کے دیدار سے محروم ہیں۔ زمین کا دھندا ، گلے کا پھندا مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت حیدرآباد کے اطراف میں غریبوں کی زمین کوڑیوں کے مول حاصل کرکے کروڑوں روپے کے عوض مالداروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کے حوالے کررہی ہے۔ مثال کے طور پرحال ہی میں کوکا پیٹ کے مقام پر جو زمین 8 تا 9 کروڑ روپے فی ایکڑ کے حساب سے نیلام کی گئی وہ غریبوں سے بمشکل 10 لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے حاصل کی گئی تھی۔ شہر کے مضافات میں بسی غریب بستیوں کے مکین اس بات پر دہشت زدہ ہیں کہ حکومت کس بھی وقت ان کی زمین، گھر اور کھیت حاصل کرکے انہیں یا تو کسی بڑے پراجیکٹ میں شامل کرسکتی ہے یا پھر کروڑوں روپے کے عوض نیلام کرسکتی ہے۔
حکومت نے حیدرآباد کے اطراف بننے والے 169 کلومیٹر لمبی ایکسپرس وے کے لیئے پہلے ہی 6750 ایکڑ زمین کے حصول کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ پہلے ہی ہزاروں خاندان اس پالیسی کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی عوامی ناراضگی حالیہ ضلع پریشد انتخابات میں کانگریس کی شکست کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس پر پریشان کانگریس کے لیڈروں نے خود اپنی ہی حکومت پر تنقید شروع کردی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں تلگودیشم، سی پی آئی، سی پی آئی ایم اور بی جے پی متاثر ہونے والے خاندانوں کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت زمینیں خریدنے اور بیچنے والی دلال بن گئی ہے اور غریبوں کی قیمت پر خود فائدہ اٹھارہی ہے۔ وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی عوام کو یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس میں کوئی بے ایمانی اور بدعنوانی کا ارتکاب نہیں کیا جارہا ہے اور غریبوں کے مفادات کے تحفظ کا پورا خیال رکھا جائے گا لیکن بے گھر ہونے والوں کو کوئی کیسے یقین دلائے۔ |
اسی بارے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری 15 July, 2006 | انڈیا زمین، سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ21 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ29 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر05 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||