BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباد: قدیم گنبدوں کی تزئین

قطب شاہی گنبد
قطب شاہی خاندان نے دکن حیدر آبد شہر اور چارمینار کا تحفہ دیا
حیدرآباد دکن کے خوبصورت ترین اور تاریخی یادگار قطب شاہی گنبدوں میں سے ایک کی عنقریب نئی صورت گری ہونے والی ہے۔

قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر ہندوستان اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں تاکہ دکن اور ایران کے صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات کا احیا ہوسکے۔ ان سات گنبدوں میں اس قطب شاہی خاندان کے ارکان آرام کررہے ہیں جنہوں نے 200 سال تک دکن پر حکومت کی اور دنیا کو چارمینار اور شہر حیدرآباد کا تحفہ دیا۔

قطب شاہی گنبدوں میں خوبصورت نقش و نگار اور پچی کاری کا کام آج بھی ماضی کی شان و شوکت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان میں حیات بخشی بیگم کا مقبرہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

ماں صاحب کے نام سے مشہور اس خاتون نے تین قطب شاہی بادشاہوں کے دور میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی، ایک حکمران کی بیوی اور حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ کی والدہ تھیں۔ اسی مناسبت سے ماں صاحبہ کے لیئے سب سے شاندار مقبرہ بنایا گیا تھا اور کئی سال کی مرمت اور تزئین کے بعد یہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ان گنبدوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسے بلند مقام پر تعمیر کیئے گئے ہیں کہ دور دور سے ان کا نظارہ کیا جاسکتا۔ ان میں سے کچھ مقبرے دو منزلہ اور کچھ ایک منزلہ ہیں اور ان تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیوں پر چڑھ کر بلندی تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سارے مقبرے اور ان کی کمانیں اور فصیلیں بالکل متوازن انداز میں ایک ہی طرح سے بنائی گئی ہیں اور ہر عمارت کے وسط میں قبروں کی نشانیاں بنی ہوئی ہیں۔

ایران اور انڈیا کا تعاون
 قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر انڈیا اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں

کسی زمانے میں ان تمام قبروں پر انتہائی قیمتی ، نیلے اور سبز رنگ کے کتبے لگے ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں چرالیا گیا۔

اب ریاستی حکومت نہ صرف ان تمام گنبدوں بلکہ پورے ابراہیم باغ اور اس میں موجود حیات بخشی مسجد اور سرائے کو بھی بحال کرنا چاہتی ہے۔

ریاستی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ روپے کے اس منصوبے کا مقصد اس علاقے کو اتنا خوبصورت اور پرکشش بنادینا ہے کہ اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ حاصل ہوسکے۔

حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانہ بھی اس پراجیکٹ میں گہری دلچسپی لے رہا ہے ایرانی حکومت کے سینٹر فار ہیریٹیج مانومنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خوشنویس نے اس سلسلے میں ریاستی عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔

حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل حسین راوش کا کہنا ہے کہ ایران پہلی بار ملک سے باہر کسی تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیئے کام کرے گا۔ گیتا ریڈی نے بتایا کہ ایرانی ماہرین کی ایک ٹیم بہت جلد حیدرآباد کا دورہ کرے گی تاکہ منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ریاستی حکومت میں محکمہ سیاحت کی پرنسپل سکریٹری چترا رامچندرن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت قطب شاہی گنبدوں کے اطراف ایرانی طرز کے ایک باغ کو ترقی دی جائے گی جن میں باغیچے، کیاریاں اور جھیل ہوں گی۔ یہ باغ بالکل اصفہان کے باغ کے طرز پر بنایا جائے گا۔

حال ہی میں اصفہان کے دورے سے واپس لوٹیں گیتا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اصفہان اور حیدرآباد کی مماثلت دیکھ کر حیران رہ گئیں اور خود ایرانی عہدیدار بھی اس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھی اس پراجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

یہ نقش و نگار ایران کی قدم تعمیرات سے گہری مماثلت رکھتے ہیں

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قطب شاہی خاندان ایرانی نژاد تھا اور اس نے دکن میں محلات تاریخی یادگاروں اور مقبروں کا جو ورثہ چھوڑا ہے اس پر ایرانی طرز تعمیر کی چھاپ بالکل نمایاں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے ان عمارتوں کی تعمیر کے لیئے ایران سے انجینئروں ، معماروں اور دوسرے ماہرین کی ایک بڑی ٹیم کو مدعو کیا تھا۔

ریاستی حکومت کو امید ہے کہ پھر ایک بار ایرانی ماہرین کے یہاں آنے سے نہ صرف ان یادگاروں کی اصل خوبصورتی اور رونق بحال ہوگی اور حیدرآباد سیاحت کے عالمی نقشے پر ایک اہم منزل بن کر ابھرے گا بلکہ ایران اور حیدرآباد کے قدیم تعلقات بھی پھر ایک مرتبہ اسی عروج پر پہنچیں گے۔

حکومت اس منصوبے کو اس انداز میں روبہ عمل لانا چاہتی کہ ان مقبروں اور دوسری عمارتوں کی اصل حیثیت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ ایرانی ماہرین چارمینار، اور قلعہ گولکنڈہ کی تزئین اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ حیدرآباد کے شاندار تاریخی ورثے کا تحفظ ہوسکے۔ گیتا ریڈی نے امید ظاہر کی کہ یہ پراجیکٹ حیدرآباد کی خوبصورتی میں چار چاند لگادے گا۔

انڈامان کے قدیم باشندےقبائل محفوظ کیسے؟
فطرت سے قربت ان کی حفاظت کا سبب بنی
بش مخالف مظاہرہحیدر آباد دکن میں:
امریکی صدر کے دورے کی مخالفت
پاکستانی سٹال مقبول
حیدر آباد دکن کی نمائش میں نگاہوں کا مرکز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد