دکن ڈائری : بد ترین سیلاب، کوک کو جھٹکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیلاب سے تباہی ریاست آندھرا پردیش میں اس برس کے سیلاب سے اس قدر جانی و مالی نقصان ہوا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں اس طرح کی تباہی صرف دوسری مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے- ریاست کے چار بڑے دریاؤں میں ایک ساتھ طغیانی نے سولہ اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ چھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور کئی ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ دس لاکھ ایکڑ کے رقبےکی فصل کو نقصان پہنچا ہے- ابتدائی اندازے کے مطابق دو ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے اور اس سے سنبھلنے میں آندھرا پردیش کو کافی عرصہ لگےگا- انتظامیہ اور عوام کی پریشانی یہ ہے کہ یہ ریاست میں طوفانوں اور سیلابوں کے موسم کا محض آغاز ہے۔ ہر برس اگست اور اکتوبر کے درمیان خلیج بنگال میں طوفان آتے ہیں جس کے سبب پوری ریاست میں بارش ہوتی ہے۔ ریاست ابھی اس پہلے جھٹکے سے سنبھلی بھی نہیں ہے کہ خلیج بنگال میں ایک اور طوفان کے آثار نظر آرہے ہیں- چونکہ تمام آبی ذخائر اور تالاب پہلے ہی بھر چکے ہیں اس لیے مزید بارش، تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ مورتیوں کی غرقابی اس برس بھی ہوگی آندھرا پردیش کی ہائی کورٹ نے حیدرآباد کی حسین ساگر جھیل میں ہندو تنظیموں کو اس برس وسرجن یعنی مورتیوں کی غرقابی کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل آلودگی کے خطرے کی بنیاد پر عدالت نے اس پر پابندی عائد کردی تھی۔ چونکہ ریاستی حکومت نے اس برس پابندی پر عمل کرنے میں معذوری ظاہر کی تھی اس لیے مشروط اجازت دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس پرعمل سے تشدد بھڑکنے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ حسین ساگر میں وسرجن کی اجازت صرف اسی برس کے لیے ہوگی ۔ آئندہ سال سے کسی قیمت پراس کی اجازت نہیں دی جائیگی- بی جے پی اور اسکی حلیف ہندو نظریاتی تنظیموں نےعدالت کےاس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مستقبل میں بھی وہ حسین ساگر میں ہی وسرجن کریں گے۔ ہندو تنظیمیں گنیش پوجا کا تہوار بڑی دھو دھام سے مناتی ہیں ۔ اس موقع پر وہ حیدرآباد کو ’بھاگیہ نگر‘ اور حسین ساگر کو’ونایک ساگر‘ کا نام دیتی ہیں۔ اس طرح کے رویئے نے اس جلوس کو ایک فرقہ وارنہ رنگ دے دیا ہے۔ کولڈ ڈرکنز کی فروخت میں کمی ملک میں کولڈ ڈرنکز کے خلاف جو آوازیں اٹھی ہیں اس سے جنوبی ہند بھی اچھوتا نہیں رہا ہے۔ کیرالا نے اس پر مکمل پابندی عائد کردی ہے جب کہ کرناٹک اور آندھرا پردیش نے جزوی پابندی لگائی ہے۔ آندھرا پردیش کے ایک ریاستی وزیر کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو سافٹ ڈرنکز پر پابندی عائد کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ مرکزی حکومت ہی کرسکتی ہے۔
لیکن رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے حکومت نے سرکاری ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں اور تمام دوسرے سرکاری اداروں میں سافٹ ڈرنکز کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔گزشتہ دنوں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ سافٹ ڈرنکز میں زہریلے مادے پائے جاتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے بعد سافٹ ڈرنکز کے کار و بار کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ان مشروبات کی فروخت میں دس سے پندرہ فیصد کی کمی آئی ہے۔ |
اسی بارے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری 15 July, 2006 | انڈیا زمین، سمگلر کا کتا اور مائکروسوفٹ21 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: خواب دیکھنا مت چھوڑ29 July, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر05 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||