انڈیا: ’وندے ماترم‘ کی تاريخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وندے ماترم‘ نے ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئندہ ہفتے اس قومی گیت کی سويں سالگرہ ہے۔ سو برس قبل بنارس میں کانگریس کے اجلاس کے دوران ’وندے ماترم‘ پہلی مرتبہ گایا تھا۔ گورنر جنرل لارڈ کرژن نے متحدہ بنگال میں برطانوی حکومت کے خلاف تحریک پر قابو پانے کے لیئے سنہ 1905 میں بنگال تقسیم کر دیا تھا۔ اس کے بعد ’وندے ماترم‘ برطانوی حکومت کے خلاف شروع کی گئی تحریک کا نیا نعرہ ہی نہیں بلکہ آزادی کی نئی دھن بن گیا تھا لیکن جس وقت آزاد ہندوستان کا آئين لکھا جا رہا تھا اس وقت ’وندے ماترم‘ کوقومی ترانے کے طور پر نہیں اختیار کیا گیا تھا۔ آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے صدر اور ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 24 جنوری 1950 کو کسی بحث و مباحثے کے بغیر ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا اور کہا اس کی اہمیت اتنی ہی ہوگی جتنی قومی ترانے کی ہے۔ وندے ماترم کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ بنگال کے مشہور و معروف ادیبوں اور شاعروں میں سے ایک بنکم چندر چیٹرجی نے تقریبا 1880 کے دوران وندے ماترم لکھا۔ اس میں ہندوستان کو ہندو عقیدت مندوں کی دیوی ’درگا‘ کا روپ بتاتے ہوئے ہندوستانیوں کو ان کی اولاد بتایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ہندوستان وہ ماں ہے جو درد میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان کے اولادوں سے بنکم گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کی پوجا کریں اور اسے استحصال سے بچائیں۔ ہندوستان کو ’درگا ماں‘ کا درجہ دیے جانے کے سبب وندے ماترم کو مسلم لیگ اور مسلمانوں کا ایک طبقہ شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ بنکم کی مادر وطن سے محبت پر کسی کو کوئی شک نہیں تھا لیکن ان پر سوال اس وقت اٹھے جب انہوں نے 1882 میں ’ آنند مٹھ‘ لکھا تھا۔ اس ناول میں برطانوی حکومت سے پہلے بنگال پر حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کے خلاف ایسی نکتہ چینی کی گئی تھی جس سے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ وندے ماترم کو ’آنند مٹھ‘ کا ایک اہم حصہ بنایا گیا تھا۔ اس ناول کی کہانی 1772 میں بہار کے علاقوں پورنیہ، دانا پور اور ترہٹ میں انگریزوں اور مقامی مسلم بادشاہوں کے خلاف سنیاسی یعنی سادھوؤں کی بغاوت پر مبنی ہے۔ جس وقت انہوں نے آنند مٹھ لکھا اس وقت ہندوستانیت اور قوم پرستی وجود میں نہیں آئی تھی۔ انگریزوں کے خلا ف آوازیں تو ضرور اٹھ رہی تھیں لیکن پورے طور پر آزادی کے مطالبہ میں بھی کچھ وقت باقی تھا۔ آنند مٹھ میں بنکم نے مسلم بادشاہوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں’ ہم نے اپنا مذہب، برادری، عزّت اور خاندان کا نام کھو دیا ہے۔ ہم اب اپنی زندگی گنوا دیں گے۔ جب تک ان آوارہ سوروں کو بھگا ئيں گے نہیں تک تک ہندو اپنے مذہب کی حفاظت کیسے کریں گے‘۔ مورخ تنیکا سرکار کا کہنا ہے کہ بنکم اس بات کو مانتے تھے کہ انگریزوں سے پہلے مسلمانوں کی وجہ سے بنگال کے حالات برے تھے۔ بنگلہ اتیحاس سمبدھے کیتی کتھا نامی ديگر ناول میں بنکم نے لکھا تھا: ’مغلوں کی فتح کے بعد بنگال کی دولت بنگال سے دلی چلی گئی‘۔ لیکن ایک دیگر مورخ کے این پانی کر شکنر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خیال میں بنکم کے کتابوں میں مسلم بادشاہوں کے خلاف بعض نکتہ چینی ضرور کی گئی تھی لیکن ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بنکم مسلم مخالف تھے۔ ’آنند مٹھ تخلیقی ادب کی ایک مثال ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بنکم برطانوی حکومت میں ایک اہلکار تھے اور آنند مٹھ ميں انگریزوں کے خلاف لکھے گئے حصوں کو ہٹانے کے لیئے ان پر دباؤ بھی تھا۔ مسٹر پانی کر کا کہنا ہے: ’انیسويں صدی کے اواخر میں لکھے گئے اس ادب کو پڑھنے کے لیئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے‘۔ |
اسی بارے میں مذہبی رہنما اور سات ساتھی قتل11 February, 2006 | انڈیا وڈودرہ: کرفیو، فوج کو تیاری کا حکم04 May, 2006 | انڈیا ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد18 May, 2006 | انڈیا لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ25 May, 2006 | انڈیا اقلیتوں کے لیے 15 نکاتی منصوبہ22 June, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||