BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 September, 2006, 06:08 GMT 11:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: ’وندے ماترم‘ کی تاريخ

بنکم چندر چیٹرجی نے تقریبًا 1880 کے دوران وندے ماترم لکھا
’وندے ماترم‘ نے ہندوستان کی آزادی کی جدو جہد میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئندہ ہفتے اس قومی گیت کی سويں سالگرہ ہے۔ سو برس قبل بنارس میں کانگریس کے اجلاس کے دوران ’وندے ماترم‘ پہلی مرتبہ گایا تھا۔

گورنر جنرل لارڈ کرژن نے متحدہ بنگال میں برطانوی حکومت کے خلاف تحریک پر قابو پانے کے لیئے سنہ 1905 میں بنگال تقسیم کر دیا تھا۔

اس کے بعد ’وندے ماترم‘ برطانوی حکومت کے خلاف شروع کی گئی تحریک کا نیا نعرہ ہی نہیں بلکہ آزادی کی نئی دھن بن گیا تھا لیکن جس وقت آزاد ہندوستان کا آئين لکھا جا رہا تھا اس وقت ’وندے ماترم‘ کوقومی ترانے کے طور پر نہیں اختیار کیا گیا تھا۔

آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے صدر اور ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 24 جنوری 1950 کو کسی بحث و مباحثے کے بغیر ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا اور کہا اس کی اہمیت اتنی ہی ہوگی جتنی قومی ترانے کی ہے۔

وندے ماترم کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ بنگال کے مشہور و معروف ادیبوں اور شاعروں میں سے ایک بنکم چندر چیٹرجی نے تقریبا 1880 کے دوران وندے ماترم لکھا۔

اس میں ہندوستان کو ہندو عقیدت مندوں کی دیوی ’درگا‘ کا روپ بتاتے ہوئے ہندوستانیوں کو ان کی اولاد بتایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ہندوستان وہ ماں ہے جو درد میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان کے اولادوں سے بنکم گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کی پوجا کریں اور اسے استحصال سے بچائیں۔

 آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے صدر اور ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 24 جنوری 1950 کو کسی بخث و مباحثے کے بغیر ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا اور کہا اس کی اہمیت اتنی ہی ہوگی جتنی قومی ترانے کی ہے۔

ہندوستان کو ’درگا ماں‘ کا درجہ دیے جانے کے سبب وندے ماترم کو مسلم لیگ اور مسلمانوں کا ایک طبقہ شک کی نظر سے دیکھنے لگا۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ بنکم کی مادر وطن سے محبت پر کسی کو کوئی شک نہیں تھا لیکن ان پر سوال اس وقت اٹھے جب انہوں نے 1882 میں ’ آنند مٹھ‘ لکھا تھا۔

اس ناول میں برطانوی حکومت سے پہلے بنگال پر حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کے خلاف ایسی نکتہ چینی کی گئی تھی جس سے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

وندے ماترم کو ’آنند مٹھ‘ کا ایک اہم حصہ بنایا گیا تھا۔ اس ناول کی کہانی 1772 میں بہار کے علاقوں پورنیہ، دانا پور اور ترہٹ میں انگریزوں اور مقامی مسلم بادشاہوں کے خلاف سنیاسی یعنی سادھوؤں کی بغاوت پر مبنی ہے۔

جس وقت انہوں نے آنند مٹھ لکھا اس وقت ہندوستانیت اور قوم پرستی وجود میں نہیں آئی تھی۔ انگریزوں کے خلا ف آوازیں تو ضرور اٹھ رہی تھیں لیکن پورے طور پر آزادی کے مطالبہ میں بھی کچھ وقت باقی تھا۔

آنند مٹھ میں بنکم نے مسلم بادشاہوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں’ ہم نے اپنا مذہب، برادری، عزّت اور خاندان کا نام کھو دیا ہے۔ ہم اب اپنی زندگی گنوا دیں گے۔ جب تک ان آوارہ سوروں کو بھگا ئيں گے نہیں تک تک ہندو اپنے مذہب کی حفاظت کیسے کریں گے‘۔

مورخ تنیکا سرکار کا کہنا ہے کہ بنکم اس بات کو مانتے تھے کہ انگریزوں سے پہلے مسلمانوں کی وجہ سے بنگال کے حالات برے تھے۔

بنگلہ اتیحاس سمبدھے کیتی کتھا نامی ديگر ناول میں بنکم نے لکھا تھا: ’مغلوں کی فتح کے بعد بنگال کی دولت بنگال سے دلی چلی گئی‘۔

لیکن ایک دیگر مورخ کے این پانی کر شکنر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خیال میں بنکم کے کتابوں میں مسلم بادشاہوں کے خلاف بعض نکتہ چینی ضرور کی گئی تھی لیکن ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بنکم مسلم مخالف تھے۔ ’آنند مٹھ تخلیقی ادب کی ایک مثال ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بنکم برطانوی حکومت میں ایک اہلکار تھے اور آنند مٹھ ميں انگریزوں کے خلاف لکھے گئے حصوں کو ہٹانے کے لیئے ان پر دباؤ بھی تھا۔

مسٹر پانی کر کا کہنا ہے: ’انیسويں صدی کے اواخر میں لکھے گئے اس ادب کو پڑھنے کے لیئے اس وقت کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے‘۔

ہندو مسلم رشتے
ہندو مسلم فرقہ ورانہ مسائل کا حل کیسے ہو
واجپائیواجپئی کا یوٹرن
اچانک نریندر مودی کی مخالفت کیوں؟
گودھرا انکوائری
ٹرین میں آتشزدگی ایک حادثہ تھی: رپورٹ
ویلنٹائنز ڈےممبئی میں ویلنٹائنز ڈے
شیوسنا کی مخالفت کے باوجود
بہار کی رابڑی دیوی
ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کی رول ماڈل؟
شنکرآچاریہ کی گرفتار
قانون کی حکمرانی، مذہبی تنظیمیں اور جےللیتا
مدرسہمغربی بنگال، مدارس
مدارس میں ہندو طلباء کا کیا مستقبل ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد