مدارس میں ہندو طلباء کا کیا مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ریاست مغربی بنگال میں ناراپٹیپارا نامی مدرسہ دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ یہ عمارت سر سبز کھیتوں کے بیچ واقع ہے۔ یہاں زیر تعلیم 320 طلباء میں سے بیشتر غریب قبائلی ہیں اور ان کا تعلق نزدیک ہی واقع ضلع نادیہ سے ہے۔ طلباء میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ پندرہ سالہ لکھن سورن کہتے ہیں ’مجھے مدرسے پسند ہے، یہاں عربی کے ساتھ ساتھ تاریخ اور جغرافیہ بھی پڑھایا جاتا ہے‘۔ مدرسے کے ہیڈ ماسٹر محمد سفر علی کہتے ہیں کہ ’یہاں ہندو اور مسلمان طلباء کو بالکل اسی طرح تعلیم دی جاتی ہے جیسا کہ مغربی بنگال کے کسی بھی سیکنڈری سکول میں دی جاتی ہے۔ تعلیمی سلیبس، اساتذہ کی تقرری اور ادارے کا انتظام سبھی کچھ عام سکولوں کی طرح ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سینیئر کلاسوں میں مذہبی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے جبکہ جونیئر کلاسوں میں ایسا نہیں ہے۔ ریاست میں اس طرح کے 500 مدارس ہیں جنہیں باقاعدہ طور پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ یہ مدرسے دنیا کے دیگر مدارس سے بالکل مختلف ہیں۔ روایتی طور پر مدارس کو مذہبی تعلیم دینے والے اداروں کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں لڑکیوں اور لڑکوں کو علیحدہ کلاسوں میں تعلیم دی جاتی ہے تاہم مغربی بنگال کے ان مدارس میں 40 ہزار ہندو بچے زیر تعلیم ہیں اور کلاسوں میں لڑکے لڑکیوں کو اکٹھی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدارس کو ریاست کے شعبہ تعلیم کے قواعد کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ شعبہ تعلیم کے سربراہ عبدالستار کہتے ہیں کہ یہ مدارس غریب اور پسماندہ افراد کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ریاست میں ایسا پہلا مدرسہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے 1780 میں بنایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو عربی تعلیم دینا تھا۔ ان مدارس کو سیکولر شناخت برطانوی راج کے دوران ہی 1915 میں دی گئی۔ عبدالستار کہتے ہیں کہ ’مدرسہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’تعلیمی ادارہ‘۔ تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بطور مسلمان انہیں اپنی ثقافت کو محفوظ بھی رکھنا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ مسلمان بچوں کو زمانے کے ساتھ چلنےکے لیئے جدید تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ تاہم کچھ مسلمان حلقے اس طرح کے ’مدرسے‘ کے بارے میں اتفاق رائے نہیں رکھتے۔ مسلم انسٹیٹیوٹ کے سیکریٹری سلیمان خورشید کہتے ہیں کہ انہیں اس طرح کا نظام تعلیم پسند نہیں۔ ’یہ نہ تو مکمل طور پر مدرسے ہے اور نہ ہی سیکولر تعلیمی ادارہ‘۔ ان کے خیال میں مدرسے کا مقصد دینی تعلیم دینا ہے۔ دوسری جانب انڈیاکی دیگر ریاستوں بشمول تریپورہ، اتر پردیش اور مہاراشٹر نے مغربی بنگال کے مدارس کی طرز پر تعلیمی ادارے کھولنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے ہندو اور مسلمان بچوں دونوں ہی کو ایک ساتھ تعلیم دی جاسکتی ہے۔ | اسی بارے میں خلیج بنگال:طوفان سے درجنوں ہلاک 21 September, 2005 | انڈیا مذہبی منافرت کا شکار آسامی 16 June, 2005 | انڈیا انضمام کی جائیداد مغربی بنگال میں18 March, 2005 | انڈیا بھارت: سیلاب سے مزید 5 افراد ہلاک10 July, 2004 | انڈیا نکسلی تشدد اور بھارتی الیکشن19 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||