بھارت: سیلاب سے مزید 5 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں ہر سو پھیلے سیلابی پانی کے سبب پانچ مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اٹھہتر ہو گئی ہے۔ ضلع کمروپ کے منتظم اعلیٰ سمیر سنہا نے بتایا کہ جمعہ کے روز اسی علاقے میں سیلاب کی زد میں آنے والے سکول کے تقریباً تین سو پچاس بچوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں نے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ گزشتہ ماہ شروع ہونے والے مانسون کی بارشوں کے سبب آسام میں پچپن افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ بہار اور مغربی بنگال کی ریاستوں میں تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث کم از کم چھ لوگ ہلاک اور بیس لاکھ بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ نیپال میں آنے والے سیلاب سے سات افراد ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوئے ہیں۔ سمیر سنہا نے فون پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آسام میں سکول کے بچوں کو پہلے عمارت کی چھت پر پہنچایا گیا جہاں سے MI - 17 ہیلی کاپٹروں کی مدد سے انہیں محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ حالیہ سیلاب کے باعث بہار کے آٹھ ضلعے شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ریاست کے ڈپٹی سیکریٹری ریلیف اوپندر شرما نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر اور ساٹھ فوجیوں کو موٹر بوٹوں سمیت سنیچر کی صبح متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے روانہ کیا گیا۔ سیتامرھی، دربھنگا اور مغربی چمپارن سمیت بہار کے آٹھ ضلعوں میں تقریباً پانچ لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ریاست کے تقریباً سبھی دریاؤں اور بدی نالوں میں سیلاب کے باعث پانی کی سطح بلند ہو جانے سے پیدا ہوئی۔ گزشتہ برس آنے والے سیلاب کے باعث بھارت میں ایک ہزار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||