BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 May, 2004, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلاب کی تباہ کاریاں، 860 ہلاکتیں
سیلاب
امدادی تنظیموں کے مطابق 13000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں
حکام کے مطابق ڈومینیکن ریپبلک اور ہیٹی میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک اور بیشتر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ کیریبین جزیرے ہیسپینیولا کی 2 ریاستوں کے سرحدی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

امدادی کام جاری ہیں لیکن لاپتہ ہونے والوں والوں کے رشتہ داروں میں ان کے زندہ بچنے کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔

اب تک 860 لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مناسب سہولت نہ ہونے اور بیماریاں پھیلنے کے خدشے کے باعث لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفنا یا جارہا ہے۔

ڈومینیکن ریپبلک میں امدادی تنظیموں کے مطابق 13000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ ہیٹی میں موجود کینیڈا اور امریکہ کے فوجی امدادی کام میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ مزید بارش ہونے کی پیشن گوئی ہے۔

یہ سیلاب 2 ہفتوں کی مسلسل شدید بارشوں کے بعد آئے۔ ڈومینیکن ریپبلک میں لوگ اس سیلاب کو پچھلے 100 سال میں آنے والی بدترین قدرتی آفت قرار دے رہیں ہیں۔

ایک عورت نے بتایا کہ اس نے اپنے دو بچوں کو پکڑ کر رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن سیلابی پانی اس کے بچےاس کی گرفت سے چھین لے گیا۔ سیلاب کے باعث اس علاقے میں پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا جبکہ عارضی مردہ خانوں میں درجنوں لاشوں کا ڈھیر لگ گیاہے۔

دورافتادہ متاثرہ علاقوں میں جب امدادی جماعتوں نے کام شروع کیا تو مکانوں کے ملبے اور مٹی کے تودوں کے نیچے دبی لاشوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی۔ لاشیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی مناسب تدفین ناممکن ہے۔ عارضی مردہ خانوں میں لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بیماریوں کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر اب اجتماعی قبروں میں تدفین کی جارہی ہے۔

ڈومینیکن قصبے جیمانی کے قریب 2 دریاؤں میں طغیانی سے کئی گھر سیلاب کی نذر ہوگئے اور کم از کم 110 افراد ہلاک ہوگئےہیں۔ بے چین رشتہ دار اپنے پیاروں کو مٹی کے تودے کھود کھود کر تلاش کرتے رہے جبکہ قصبے کے ہسپتال کا مردہ خانہ درجنوں لاشوں سے بھر گیا۔

مردہ خانے کے باہر کھڑی ایک غمزدہ عورت نے خبررساں ایجنسی اے پی کے نمائندے کو بتایا ’انہیں میری بیٹی مل گئ ہے۔اب مجھے دیکھنا ہے کہ میرے خاندان میں کوئی بچا بھی ہے کے نہیں‘۔

آرمی اور فضائیہ کی ٹیمیں بچنے والوں کی تلاش کررہیں ہیں۔

اب تک کئی سڑکیں ہفتوں کی بارش کی وجہ سے ناقابل استمعال ہیں۔

ہیٹی میں موجود 36000 ہزار فوجیوں پر مشتمل امن فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے امدادی سامان پہنچا رہے ہیں۔

دارالحکومت سانٹو ڈومینگو سے متاثرہ علاقوں میں امدادی جماعتیں بھیجی ہے جن میں سینکڑوں اضافی فوجی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد