خلیج بنگال:طوفان سے درجنوں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیج بنگال میں اٹھنے والے طوفان سے بنگلہ دیش اور بھارت میں ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ طوفان کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح تین میٹر تک بلند ہو گئی ہے۔ بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں زبردست طوفانی بارشوں سے تقریباً چھپن افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گيا ہے۔ ریاست کے سبھی دریاؤں میں طغیانی ہے جس کے سبب سینکڑوں دیہات زیر آب ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق ریاست میں سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کی صورت حال تشویشناک ہے جہاں ہزاروں افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ تین روز سے جاری بارش سے امدادی کاموں ميں بھی دشواری پیش آرہی ہے۔ بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد مچھیروں کے لاپتہ ہونے کا امکان ہے۔ آندھر پردیش کے تقریباً سبھی حصّوں میں موسلا دھار بارش سے دریائے کرشنا اور گوداواری خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔ سیلاب سے نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور کئی جگہوں پر روڈ اور ریل کی پٹڑی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ جنوبی اور شمالی ہندوستان کو ملانے والی کئی ریل گاڑیاں بند کردی گئی ہیں جبکہ کئی کے راستے تبدیل کر دیے گیے ہیں۔ وشکھا پٹنم ہوائی اڈے کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ کھمّم میں بھدراچلم شہراور علاقے کے تقریباً تین سو گاؤں زیرآب ہیں۔ وجیۓ واڑہ کے ترائی علاقے میں بسے تیس ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ ایلّور میں پانچ ہزار افراد کو منتقل کیا گيا ہے جبکہ کوٹّا گوڈیم قصبے میں پانی بھرنے کے سبب دس ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں دھان، تمباکو اور مرچ کی بیشتر فصل تباہ ہوگئی ہے۔ ریاستی حکومت نے متاثرہ اضلاع میں انتظامیہ کو انتہائی چوکس کر دیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مزید طوفانی بارشوں کا خطرہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بادل چھٹنے سے ساحلی علاقوں میں طوفانی بارشوں کا خطرہ کم ہوگیا ہے لیکن اب تلنگانہ کے علاقے میں ہوا کا دباؤ کم ہے اور آئندہ دو روز میں وہاں شدید بارشوں کا اندیشہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||