کشمیر: برفباری، پچاس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ بیس برسوں میں ہونے والی بدترین برفباری اور خراب موسم کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد پچاس ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ پانچ دنوں سے سری نگر کا بھارت سے رابط مسلسل منقطع ہے۔ بھارت کی شمالی مغربی ریاست میں گزشتہ ہفتے سے کئی جگہوں پر برفانی تودے گرنے کے واقعات ہوئے ہیں جس میں ستر کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔ کشمیر میں اس بار بیس سال میں سب سے زیادہ برف پڑی ہے۔ تین سو کلو میٹر طویل سری نگر جموں ہائی وے جو کہ سری نگر سے باقی ملک سے سڑک کے ذریعے واحد راستے ہے گزشتہ پانچ دنوں سے مسلسل بند ہے۔ اس سڑک پر ایک اندازے کے مطابق چار ہزار کے قریب سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک اور اطلاع کے مطابق تین سو کے قریب مسافر اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار اس سڑک پر واقع جواہر سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سرنگ میں پھنسے ہوئے ایک صحافی گوہر احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کے پاس خوراک ختم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ برفباری اور برفانی طوفانوں کی پشئن گوئی کرنے والے ادارے نے اگلے چند دنوں میں مزید برفباری اور برفانی طوفانوں کے بارے میں خبردار کیا ہے جس وجہ سے سڑک کے کھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ سری نگر کی تمام پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے جس سے فضائی رابط بھی منقطع ہو گیا ہے۔ سری نگر میں بجلی اور پانی کی سپلائی بھی معطل ہے تاہم برفباری روک جانے کے بعد ریاستی دارالحکومت رفتہ رفتہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ کشمیر میں کچھ افراد کو وہاں تعینات ہزاروں بھارتی فوجیوں کے ذریعے امداد مِل رہی ہے۔ جمّوں سے دو سو پچاس کلومیٹر دور ایک گاؤں میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں کچھ مقامات پر ساڑھے چار فٹ برف پڑی۔ جموں سرینگر سڑک کے ساتھ واقعے دیہات میں ہزاروں مسافر رکے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ موسم کی خرابی کی وجہ سے اپنی گاڑیوں میں سفر جاری نہیں رکھ سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||