سیلاب سے دو کروڑ افراد متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا میں سیلاب کی شدت میں ابھی کمی نہیں آئی اور سینکڑوں دیہات میں دو کروڑ افراد بے گھر اور خوراک سے محروم ہو گئے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ افراد بھارت کی ریاست بہار میں سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں سیلاب کی وجہ سے سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے لئے فنڈ (یونیسف) کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ہیضےاور دوسرے وبائی امراض سے بچاؤ کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار انو آنند کا کہنا ہے کہ سیلاب سے بچ جانے والے لوگ ابھی تک گھروں کی چھتوں پر پناہ لئے ہوئے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے سے خوراک سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارتی فوج امدادی سامان تقسیم کر رہی ہے لیکن ابھی تک وسیع پیمانے پر کوئی امدادی کام نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے بچنے والوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور سانپوں کا بھی ڈر ہے۔ بھارت کی ریاست آسام کے وزیراعلی ترون گوگئی کے مطابق آسام میں ہنگامی طور پر امداد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آسام میں سیلابی حالت مخدوش ہے اور تقریباً نوے لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
امدادی عملہ کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آسام اور بہار میں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں تک خوراک اور ضروریات زندگی پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق بیماریوں سے بچاؤ کے لئے طبی امداد اور دوائیوں کی سخت ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال سے آنے والے سیلابی پانی کی وجہ سے وسطی علاقوں میں مسائل سنگین ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے چونسٹھ ضلعوں میں سے تیتس سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور کم از کم تیس لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ شمال اور شمال مشرقی ضلعوں میں صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔ یونیسف کے ترجمان ڈیمین پرسونیز کے مطابق وبائی امراض سے بچاؤ کی سخت ضرورت ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں موجودہ گرم موسم کی وجہ سے وبائی امراض کے بڑی سرعت سے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ مون سون کے موسم میں بارشوں اور گرمی سے ہمالیہ پہاڑوں کی برف پگھلنے کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں اکثر سیلاب آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||