سیلاب سے ایک کروڑ افراد بےگھر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمال مشرقی حصوں، بنگلہ دیش اور نیپال میں مون سون بارشوں کے بعد شدید سیلاب کی وجہ سے لگ بھگ ایک کروڑ سے زائد افرد بےگھر ہو گئے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے بنگلہ دیش میں شدید نقصان ہوا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں اس سال آنے والے سیلاب سن انیس سو ستاسی میں آنے والے سیلاب سے زیادہ سے زیادہ شدید ہیں۔ اگرچہ ابھی تک جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اخباری اطلاعات کے مطابق کئی افراد سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ادھر پٹنہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ریاست بہار میں سیلاب کی وجہ سے چالیس سے زائد افراد ہلاک اور چالیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گے ہیں۔
نامہ نگار نے سرکاری حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق پینتالیس کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ بھارت کی ریاست آسام میں بی بی سی کے نامہ نگار سبھیر بھومک کے مطابق ریاست سے تین ہزار سے زائد دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور پچیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ ریاست میں سیلاب کی وجہ سے سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں وہ پیتیس افراد شامل نہیں جو اتوار کے روز دریائے براہم پتر میں ایک کشتی کے الٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ نامہ نگار کے مطابق قریبی ملک بھوٹان میں واقع ایک ڈیم میں شگاف پڑنے کی وجہ سے دریائے ماناس اور بیکی میں طغیانی آ گئی ہے جو آسام میں تباہی کا باعث بنی۔ نیپال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سیلاب کی شدت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اب کی موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نیپال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے چھتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||