BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 November, 2006, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دکن ڈائری: بادشاہ گر خطرات میں

رامو جی راو
رامو جی راو تلگو زبان میں چھپنے والے اخبار ایناڈو کے مالک اور ایڈیٹرانچیف ہیں
رامو جی راو آندھرا پردیش کی سب سے با اثر اور طاقتور ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں- انہیں میڈیا میں مغل، بزنس ٹائیکون اور بادشاہ گر جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

رامو جی راو تلگو زبان کے سب سے با اثر اور کثیر الاشاعت روزنامہ ’’ایناڈو،، (آج) کے مالک اور ایڈیٹرانچیف ہیں اور ان کی وسیع و عریض سلطنت میں ایک ایسا ٹیلی ویژن نیٹ ورک بھی ہے جس میں 12 مختلف زبانوں کے چینلز شامل ہیں-

ہندوستان کا واحد اردو ٹیلی ویژن چینل ای ٹی وی اردو بھی ان ہی کے نیٹ ورک کا حصہ ہے- لیکن ان کے بے پناہ اثاثوں کا شاہد سب سے اہم حصہ ایشیا کا سب سے بڑا فلم سٹوڈیو ’’رامو جی فلم سٹی،، ہے جو 20 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے- وجہ اس سارے ذکر کی یہ ہے کہ ہمیشہ سفید کپڑوں میں ملبوس رہنے والے رامو جی راو کو ان دنوں ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شاہد پہلی مرتبہ ان کے مالیاتی لین دین پر سوالیہ نشان لگائے جارہے ہیں-

حکمران کانگریس پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ ارون کمار نے الزام عائد کیا ہے کہ رامو جی راو گروپ کی ایک کمپنی مارگا درسی فائنانس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوام سے دو ہزار دو سو کروڑ روپے کے ڈپازٹس حاصل کیے ہیں اور 11 سو کروڑ روپے کے زبردست خسارے کے باوجود وہ ابھی بھی لوگوں سے ڈپازٹس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ارون کمار نے یہ کہتے ہوئے کہ قانون کے تحت اس کمپنی کو ڈپازٹس لینے کا کوئی حق نہیں ہے مرکزی حکومت سے اس کے خلاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

دوسری طرف رامو جی راو نے جوابی الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس پارٹی انہیں اور ان کی کمپنیوں کو اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کہ ان کا اخبار اور ٹیلی ویژن چینلز کانگریسی حکومت کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کو بے نقاب کررہے ہیں-

اس صورتحال کے پیشِ نظر اب کانگریس اور رامو جی راو کے درمیان کشمکش میں روز بروز شدت پیدا ہوتی جارہی ہے ۔ ارون کمار کا دعوی ہے کہ اگر رامو جی راو کے خلاف ان کے لگائے گئے الزامات صحیح ثابت ہوئے تو انہیں دو سال قید کی سزا ہوسکتی ہے- انہیں فکر یہ بھی ہے کہ اگر کمپنی کو 11 سو کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے تو پھر رامو جی راو انہیں پیسہ کیسے واپس کریں گے-

نوارٹس کا مرکز

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بعد حیدرآباد دکن کو اب بڑی تیزی کے ساتھ فارما سیوٹیکس ، بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو انفارمیٹک جیسے شعبوں میں بھی ایک اہم حیثیت حاصل ہوتی جارہی ہے-

نوارٹس ادویات کی تحقیق اور تیاری کے لئے جدید ترین انفارمیشن ٹکنالوجی کا استعمال کرے گی

اس انڈسٹری کے امیج کو اس وقت مزید تقویت حاصل ہوئی جب دنیا کی چوتھی بڑی فارما سیوٹیکل کمپنی نوارٹس نے حیدرآباد میں 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنا تحقیقاتی مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا-

اس کمپنی میں ادویات کی تحقیق اور تیاری کے لیے جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ نوارٹس جس کے لیے دنیا کے 40 ملکوں میں تقریبا 97 ہزار لوگ کام کرتے ہیں، حیدرآباد کے اپنے اس مرکز میں آئی ٹی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار ماہرین کو بھرتی کرے گی اور اس کے بعد ان کی تعداد 5 ہزار تک بڑھائی جائے گی جن میں طب کے میدان میں پی ایچ ڈی رکھنے والے اور ڈاکٹرز بھی شامل ہوں گے-

نوارٹس جس کی گزشتہ سال کل آمدنی 32 ارب ڈالر سے زیادہ تھی اپنا یہ جدید کیمپس حیدرآباد کے مضافات میں ڈیڑھ سو ایکڑ پر قائم کرے گی اور یہ مرکز 2008 میں کام کرنا شروع کردے گا-

فرانسیسی سرمایہ

ادویات کی دنیا ہی سے دوسری خبر یہ ہے کہ حیدرآباد کی ایک سرکردہ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی شانتا بائیوٹیکس کو فرانس کی بڑی کمپنی میریکس آلائنس نے خرید لیا ہے لیکن ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس کے لیے اس کمپنی نے کیا قیمت ادا کی ہے-

ہیپاٹائٹس بی کے ٹیکے بنانے کے لیے مشہور شانتا بائیو ٹیکس کے ذرائع نے بتایا کہ کمپنی کا 60 فیصد حصہ فرانسیسی کمپنی نے خرید لیا ہے اور اس کا یہ سودا عمان کے ان سرمایہ کاروں سے ہوا ہے جنہوں نے ابتداء میں اس کمپنی میں سرمایہ کاری کی تھی-

شانتا بائیو ٹیکس ہندوستان کی ان چند اہم کمپنیوں سے ایک تھی جن میں کسی عرب ملک کے سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ لگایا تھا-

سعودی عرب، ہندوستان اور اعلی تعلیم

ادھر ایسا لگتا ہے کہ اعلی تعلیم اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں ہندوستان کی تیز رفتار ترقی عرب ممالک کی توجہ اپنی طرف مرکوز کررہی ہے- چنانچہ سعودی عرب کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر ڈاکٹر خالد بن محمد نے ایک وفد کے ساتھ حیدرآباد دکن میں اعلی تعلیم اور آئی ٹی کے کئی مراکز کا اس ہفتہ دورہ کیا اور ہندوستانی حکام سے تعاون کی خواہش ظاہر کی-

 حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر احتشام حسنین کے مطابق سعودی وزیر نے کمپیوٹر سائنسز ، لائف سائنسز ، مینیجمنٹ اور انگریزی زبان کے شعبے میں اعلی تعلیم کے میدان میں اشتراک و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وہ جن اداروں کو دیکھنے کے لیے گئے ان میں انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، ستیم کمپیوٹرز، انڈین سکول آف بزنس اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی بھی شامل تھی-

حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر احتشام حسنین کے مطابق سعودی وزیر نے کمپیوٹر سائنسز ، لائف سائنسز ، مینیجمنٹ اور انگریزی زبان کے شعبے میں اعلی تعلیم کے میدان میں اشتراک و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا- جس کے لیے طلبا اور اساتذہ کے تبادلہ کی تجاویز بھی رکھی گئیں۔

ویسے حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی پہلے ہی جدہ میں اپنے مرکز کے قیام کا اعلان کرچکی ہے- اس موقع پر سعودی عرب کے سفیر برائے ہند صالح الغامدی نے اعلان کیا کہ سعودی عرب بہت جلد حیدرآباد میں اپنا قونصل خانہ قائم کرے گا- یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران کا قونصل خانہ پہلے ہی سے حیدرآباد میں کام کررہا ہے جبکہ امریکہ کا قونصل خانہ آئندہ برس سے کام کرنا شروع کردے گا-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد