ہندوستانی ریٹیل کی دنیا میں انقلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سب سے بڑے نجی تجارتی گھرانے ریلائنس نےجمعہ کے روز ریٹیل کاروبار کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے حیدرآباد دکن میں ایسی 11 دکانیں کھولی ہیں جہاں پر وہ سبزی، پھل، پھول اور دوسری غذائی اشیا فروخت کرے گی۔ یہ قدم اس کمپنی کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ آئندہ پانچ برسوں میں 25 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر سرمایہ کاری کے ساتھ ملک کے 1500 شہروں میں 4000 سے زیادہ چلر فروشی کی دکانیں قائم کرنا چاہتی ہے- حیدرآباد پہلا شہر ہے جہاں تجرباتی بنیادوں پر ریلائنس نے اپنا ریٹیل کاروبار شروع کیا ہے- ریلائنس کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی نے اس موقع پر کہا کہ ان کی کمپنی اعلی معیار کی غذائی اشیا اور خدمات انتہائی واجب داموں پر فراہم کرنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی صارفین کے ساتھ ہونے والے تجربوں سے کچھ سیکھنا چاہتی ہے جس کی روشنی میں مستقبل میں مزید قدم آگے بڑھائے جائیں گے- دکانوں کے کھلنے کے بعد سے جس طرح گاہکوں کا تانتا بندھا ہے اور جو ردعمل سامنے آیا ہے اس سے لگتا ہے کہ ریلائنس اعلی معیار اور کم دام کی اپنی حکمت عملی کے ساتھ گاہکوں پر ایک مثبت پہلا تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہی ہے-
سب سے پہلے تو اس پراجیکٹ کا پیمانہ اتنا بڑا ہے کہ اس سے پہلے ریٹیل کاروبار میں کسی اور کمپنی نے ایک ساتھ پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کی ہے- اس کے علاوہ ریلائنس اپنے اس منصوبے کے لئے پورے ملک میں 5 لاکھ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو بھرتی کررہی ہے- اس طرح روزگار کے میدان میں بھی ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے- تیسری طرف کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس ریٹیل چین کے لئے ترکاری، پھل اور دوسری اشیاء راست کسانوں سے خریدے گی تاکہ چھوٹے کسانوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکے- اس طرح ہندوستانی منڈی کے کئی پہلو اس تجربہ سے متاثر ہوں گے- ریلائنس انڈسٹریز میں فوڈ بزنس کے سربراہ گونیندر کپور کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جتنی سبزی ترکاری اور پھل پیدا ہوتے ہیں ان کا چالیس فیصد حصہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور فراہمی کے دوران ہی ضائع ہوجاتا ہے لیکن ریلائنس اس نقصان کو کم کرنے کے لئے پورے ملک میں عصری ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک سپلائی چین قائم کرے گا جس میں کولڈ اسٹوریجس اور ریفریجٹیڈ ٹرکس بھی شامل ہوں گے تاکہ تازہ ترکاری اور پھل لوگوں کو مل سکیں- ویسے ابھی سے اس بات پر تنقیدیں ہورہی ہیں کہ ریلائنس جیسے بڑے کاروباری گھرانوں کے ریٹیل کاروبار میں داخل ہونے سے ہندوستان کے چھوٹے دکانداروں اور بیوپاریوں پر تباہ کن اثر پڑسکتا ہے لیکن ریلائنس کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ خیال صحیح نہیں ہے- ریلائنس میں آپریشنس اور اسٹریٹیجی کے سربراہ رگھو پلائی کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ چھوٹے دکاندار اور بیوپاری ہیں جو ریٹیل کاروبار چلاتے ہیں جبکہ ریلائنس آئندہ 5 سال میں صرف ایک لاکھ کروڑ روپے تک کا ہی کاروبار کرسکتی ہے- پلائی کا کہنا ہے کہ اگر 10 برسوں میں بھی منظم ریٹیل کاروبار 100 ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے تب بھی کل ریٹیل کاروبار کا 90 فیصد حصہ چھوٹے بیوپاریوں کے ہاتھ میں ہی رہے گا- ریلائنس کے اقدام نے پوری دنیا کی توجہ ہندوستانی ریٹیل مارکٹ پر مبذول کروادی ہے جو کہ اس وقت سالانہ 300 ارب ڈالر کے مساوی ہے اور اس میں ہر سال 25 تا 30 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا جارہا ہے- امریکہ کی والمارٹ اور برطانیہ کی ٹیسکو جیسی بڑی بڑی کمپنیاں ہندوستان کے اس ریٹیل بازار میں داخل ہونے اور اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہیں لیکن ریلائنس نے پہلے قدم اٹھاتے ہوئے ان پر بازی مارلی ہے جبکہ ہندوستانی حکومت اب تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی ہے کہ بیرونی کمپنیوں کو اس بازار میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہئے یا نہیں- چاہے بیرونی کمپنیاں ہندوستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں ریلائنس کی اس کوشش کو دوسری ہندوستانی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ٹاٹا، برلا اور بھارتی جیسی کئی ہندوستانی کمپنیاں بھی ریٹیل کاروبار کی دنیا میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہیں- |
اسی بارے میں بھارت: غیرملکی ریٹیلرزکو اجازت 25 January, 2006 | انڈیا معاشی اور سیاسی تعاون کے سمجھوتے13 September, 2006 | انڈیا انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ20 July, 2006 | انڈیا انڈین بجٹ پرملا جلا ردعمل28 February, 2006 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا معاشی نمو سات فیصد سے زیادہ30 September, 2004 | انڈیا بھارتی برآمدات، اسی ارب ڈالر پر 09 April, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||