بھارت: غیرملکی ریٹیلرزکو اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے آزادنہ اقتصادی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے غیرملکی ریٹلرز کو بھی بھارت میں اپنی دکانیں اور سٹور کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی تک بھارت میں غیرملکی کمپنیاں صرف فرینچائز ہوا کرتی تھیں یعنی وہ دوسری ملکی کمپنیوں کے توسط سے اپنے برانڈ فروخت کیا کرتی تھیں لیکن اب اڈیڈاس اور نائیکی کے اپنے شو روم بھی ہوسکتے ہیں۔ کابینہ کے ایک اہم فیصلے میں ہوائی اڈوں اور کان کنی کے شعبے میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دیدی گئی ہے۔ وزیر تجارت کمل ناتھ مرارکا نے اس بارے میں کہا ہے کہ کسی ایک برانڈ کی کمپنی کو اکاون فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی لیکن ایسے سٹوروں میں صرف ایک ہی برانڈ کو رکھا جاسکےگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس آزادانہ اقتصادی پالیسی سے کمپنیوں میں مقابلہ آرائی ہوگی اور اس سے روزگار کے بھی بہت سے مواقع پیدا ہوں گے لیکن حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے کان کنی اور ہوائی اڈوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کی ہے۔ کمل ناتھ مرارکا کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے یہ فیصلہ ملک میں سرمایہ کاری اور بہتر ٹیکنالوجی کو راغب کرنے کے لیے کیا ہے۔ اس سے عالمی معیار کی پریکٹس ہوگی اور اور ملک میں جو برانڈیڈ چیزوں کا مطالبہ ہے وہ بھی پورا ہوگا‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کا اثر بھارت کی بہت سی ان کمپنیوں پر پڑےگا جو مختلف طرح کی اشیاء ایک ہی سٹور میں فروخت کرتی ہیں اور بازار میں ان کا دبدبہ ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے اس سے ملک کی ہزاروں پرچون کی دکانیں متاثر ہوں گی اور ممکن ہے کہ بہت سی بند بھی ہوجائیں۔ | اسی بارے میں نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند09 January, 2006 | انڈیا بھارت میں افراط زر کا خدشہ 24 January, 2006 | انڈیا متنازع زیر جامے:سٹور کا معافی نامہ 10 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||