BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 20:15 GMT 01:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاشی اور سیاسی تعاون کے سمجھوتے

دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چھ برس میں تجارت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے
بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے رہنمائوں نے یہاں اپنی نوعیت کی پہلی سربراہی کانفرنس میں ایک دوسرے کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعاون مضبوط کرنے پر سمجھوتے کئے ہیں۔

بھارتی وزیرِاعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، جنوبی افریقہ کے صدر تھابو امبیکی اور میزبان ملک کے صدر لولا ڈا سِلوا کا کہنا ہے کہ تین برِاعظموں پر پھیلے ان ممالک کو اب سمندری فاصلے قریب آنے سے نہیں روک سکیں گے۔

اس موقع پر مفاہمت کے جن سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اُن میں جہاز رانی کے شعبے میں تعاون کے علاوہ زراعت، بائیو فیول اور انفارمیشن سوسائٹی میں مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

تین برس پہلے وجود میں آنے والے بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے اس اتحاد میں، حکام کے مطابق، تینوں ملکوں میں آپس کی اربوں ڈالر کی تجارت بڑھ کر دوگنی ہوئی ہے۔

بڑی بڑی کمپنیوں نے ایک دوسرے کے ملکوں میں پیسہ لگانا شروع کردیا ہے۔ مثال کے طور پر، جنوبی افریقہ کی بڑی کمپنی ساسول، بھارت میں لکوئیڈ فیول ٹیکنالوجی میں سرمایاکاری کرنے جا رہی ہے۔ برازیل کی کمپنی مارکوپولو نے بھارت کی ٹاٹا موٹرز کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ اسی طرح بھارت میں تیل کی کمپنی او وی ایل کو برازیل کی سمندری حدود میں تیل کی تلاش کے ٹھیکے مل چکے ہیں۔

لیکن تینوں حکومتوں کے نزدیک سہ فریقی تعاون میں یہ صرف ابتدا ہے اور مذید اشتراک کے لئے ابھی وسیع میدان کُھلا پڑا ہے۔کاروبار کے نئے مواقع کی اسی تلاش میں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے سرکردہ سرمایہ کار اور صنعتکار دو دن سے یہاں آئے ہوئے ہیں اور نئے نئے منصوبوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

لیکن معاشی طور پر ابُھرتے ہوئے ان تین بڑے ترقی پذیر ملکوں کے بلند و بالا عزائم کا عملی نتیجہ کیا نکلتا ہے، یہ ابھی واضح نہیں۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ان اعلیٰ سطحی دوروں، ملاقاتوں اور سمجھوتوں کا، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے اکثر غریب لوگوں پر کیا اثر پڑے گا؟

مستقبل قریب میں، کوئی خاص نہیں! اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ یہ ابتدائی نوعیت کے تعاون کے سمجھوتے ہیں۔ ان پر آہستہ آہستہ عمل میں خاصا وقت لگے گا۔ دوسرا یہ کہ ابھی ان ملکوں نے ایک دوسرے سے آشنائی کا سفر شروع کیا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی محنت اور وقت لگے گا۔لیکن جیسے جیسے ثقافتی تبادلے بڑھائے جائیں گے، سمندری اور ہوائی رابطے شروع ہوں گے، اُس کا بھی براہ راست فائدہ بھارت جیسے ملک میں پیسے والا محدودکاروباری طبقہ اُٹھائے گا۔

بہار اور راجھستان کے غریب کسانوں کو ان اعلیٰ سطحی رابطوں کے ممکنہ ثمرات کے لئے ابھی بہت لمبا انتظار کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں
بھارت ہمارا ساتھ دے
25 January, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد