عید کا چاند عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان یوریشیا ریل پروجیکٹ سے باہر یورپ اور ہندوستان کے 28 ملکوں کو ریل سے جوڑنے والے یوریشیا پروجیکٹ کے معاہدے پر گزشتہ دنوں دستخط کئے گئے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ہندوستان نے آخری لمحات میں اس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت چار بین الاقوامی ریلوے لائنز بچھائی جائيں گی اور یہ تقریبا 81 ہزار کلومیٹر کے فاصلے کا احاطہ کریں گی۔ اس میں روس سمیت شمالی یوروپ اور ایشا کے ممالک کو ریل سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ چار میں سے ایک لائن جنوبی چین ، مینمار ، ہندوستان ، ایران اور ترکی سے گزرے گی۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستان ، بنگلہ دیش اور میانمار نے بھی یوریشیا معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ لیکن اس پر دستخط کرنے کے لئے ان ملکوں کے پاس اب بھی دو برس باقی ہیں۔ سلامتی کی مصیبت قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں سزا پانے والے محمد افضل گرو اور دیگر شدت پسندوں کو جیل سے رہا کرانے کے لئے شدت پسند اہم شخصیات کے بچّوں کو یر غمال بنا سکتے ہیں۔ اس لئے پہلے سے ہی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کو مزید وسعت دی جارہی ہے۔
حکومت نے کانگریس صدر سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھی انتہائی سخت حفاظت والے زمرے کی سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی کے بیٹے اور بیٹی کو اس طرح کی سکیورٹی پہلے ہی حاصل ہے۔ بے ایمانی میں کمی بد عنوانی پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کے معاملے میں ہندوستان 165 ملکوں کی فہرست میں 70 ویں مقام پر آ گیا ہے۔ گزشتہ برس وہ 88 ویں مقام پر تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب بد عنوانی کے معاملے میں ہندوستان میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ سرکاری معلومات حاصل کرنے کے حق سے متعلق قانون بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہیتی ، میانمار اور عراق دنیا کے سب سے بدعنوان ملکوں میں ہیں جبکہ فن لینڈ ، آئس لینڈ اور نیوزی لینڈ دنیا کے تین سب سے ایماندار ممالک ہیں۔ تنظیم کے اندازے کے مطابق اپنے جائز کام کرانے کے لئے ہندوستانی ہر برس سرکاری اہلکاروں کو تقریبا 21 ہزار کروڑ روپئے کی رشوت دیتے ہیں۔ عید کا چاند عدالت میں اس بار پاکستان سے لے کر ہندوستان تک عید کے چاند کے بارے میں اتنا کنفیوژن رہا کہ عید کی ساری خوشیاں اسی کنفیوژن کی نذر ہو گئيں۔ کہیں چاند کا اعلان نصف شب میں ہوا تو کہیں سحری کے وقت۔ معلوم ہوا کہ بھئی رمضان اب ختم ہوا اور تین گھنٹے بعد اب عید کی نماز ہونے والی ہے۔
تنگ آکر پچھلے دنوں بحریہ کے ایک افسر نے لکھنوء میں دلی کی جامع مسجد کے امام بخاری کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ بحریہ کے افسر نے سائنسی اعدادو شمار کی مدد سے بتایا ہے کہ اس دن دلی اور لکھنوء میں چاند دکھائی دینا نا ممکن تھا کیونکہ وہ سطح سمندر سے محض صفر ڈگری پر تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے چند منٹ کے لۓ تھا۔ سورج کی تیز روشنی میں اسے ساحلی سمندر سے بھی دیکھنا مشکل تھا۔ مقدمے میں سید بخاری کو ملک میں دو دن عید کرانے کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے پر بھی آوراہ کتے دلی اور ملک کے کسی بھی شہر میں راہ چلتے کوئی سانڈ موڈ میں آکر سینگ مار دے یا کوئی من چلا کتا آپ کے پیر کا گوشت نکال لے تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔ کئی بار تو لگتا ہے کہ ملک میں آوارہ کتوں کی تعداد انسانوں کی آبادی سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پھر بھی آپ جب دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے اندر ہوں تو کم از کم وہاں تو یہ امید نہیں کریں گے کہ کوئی کتا وہاں آپ کو کاٹے گا۔ گزشتہ دنوں دلی کے ہوائی اڈے پر کنویر بیلٹ سے سامان اتارتے وقت ایک مسافر کو ایک کتے نے کاٹ لیا۔ چیخ و پکار سن کر جب ائیر لائنز کے افسران وہاں پہنچے تو کتے نے دو افسران کو بھی کاٹا۔ کئی گھنٹوں کی جد وجہد اور دہشت کے بعد کتے کو پکڑا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||