BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی ہال، میخانے اور کُتوں کا قبرستان

تیرہ دسمبر کو دارالحکومت میں چھتیس ہزار شادیاں ہونے کی توقع ہے
شادی کے لیے لڑکی نہیں ہال ڈھونڈیے
دارالحکومت دلی میں شادی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے کیونکہ غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں اور تعمیرات کے خلاف مہم کے تحت میونسپل کارپوریشن نے بیشتر فارم ہاؤسز اور شادی ہال سیل کر دیے ہیں۔ نومبر سے دسمبر تک شادیون کا موسم ہوتا ہے اور صورتحال یہ کہ لوگ شادی کے لیے جگہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

شہر میں جو میرج ہال ہیں وہ اگلے سال مئی تک بک ہیں۔ جہاں جگہیں مل رہی ہیں وہ اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ شادی تو ہو جائے گی لیکن اس کے مالی اثرات طویل عرصے تک مصیبت پیدا کر سکتے ہیں۔

شادیوں کا موسم ہونے کی وجہ سے تیرہ دسمبر کو دارالحکومت میں چھتیس ہزار شادیاں ہونے کی توقع ہے۔گزشتہ برس اٹھائیس نومبر کو اسی طرح کا دن تھا اور اس دن بتیس ہزار شادیاں ہوئی تھیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں زبردست ٹریفک جام ہوا تھا۔ اسی خدشے کے پیش نظر اس بار دلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے وہ بارات سڑکوں پر نہ نکالیں۔

چوبیس گھنٹے کے میخانے
دلی والوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پینے پلانے کا اچھا ذوق رکھتے ہیں لیکن ایک ستم ظریفی رہی ہے کہ دلی میخانوں کے معاملے میں ممبئی، بنگلور اور حیدرآباد جیسے شہروں سے پیچھے رہا ہے۔

اب اہل ذوق کبھی بھی میخانون کا رخ کر سکتے ہیں

شہر کے اہل ذوق ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ میخانوں کو رات گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے عام بار اور پب تو نہیں لیکن فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بار چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی تک یہ گیارہ بجے شب بند کر دیے جاتے تھے۔ اب کم از کم شدید طلب کی صورت میں اہل ذوق کبھی بھی ان میخانون کا رخ کر سکتے ہیں۔

دلی کا نیا ہوائی اڈہ
ہندوستان اس وقت فضائی سفر کے معاملے میں ایک انقلاب سے گزر رہا ہے۔ ہوائی جہاز سے سفر کرنے والوں کی تعداد اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ملک کے بیشتر ہوائی اڈے بڑھتے ہوئے مسافروں کے لیے ناکافی ہو گئے ہیں۔

دلی کا ہوائی اڈہ ملک کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ ہر برس ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ مسافر یہاں سے آتے جاتے ہیں۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں مسافروں کی سالانہ تعداد دو کروڑ ستاسی لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

گزشتہ دنوں نئے ہوائی اڈے کے منصوبے کا خاکہ جاری کیا گیا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ نیا ائرپورٹ سنہ دو ہزار دس تک مکمل ہو جائےگا جس مین 137 چیک ان اور 74 امیگریشن کاؤنٹر ہونگے۔ یہ سالانہ تین کروڑ ستر لاکھ مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کا اہل ہوگا۔

پولیس یونیورسٹی
دلی میں موجودہ اورمستقبل کے پولیس اہلکاروں کی بہترین تربیت کے لیے ایک پولیس یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے۔ اس یو نیورسٹی میں کیمیکل اور بائیولوجیکل حملے اور دوسری نوعیت کے دہشت گردی کے حملے سے نمٹنے کی تعلیم و تربیت دی جائےگی۔

یہ یونیورسٹی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کی طرز پر قائم کی جائے گی اور اس کا مقصد پولیس کو مستقبل کے سلامتی کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے۔

کارپوریشن نے کتوں کے لیے دو قبرستان بنانے فیصلہ کیا ہے

کتوں کا قبرستان
دلی میں پالتو کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں کئی لاکھ آوارہ کتے بھی ہیں۔ اچانک میونسپل کارپوریشن نے یہ محسوس کیا کہ شہر میں کتوں کے لیے کوئی قبرستان نہیں ہے۔

میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ کتون کے لیے قبرستان کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ اس لیے کارپوریشن نے اب کتوں کے لیے دو باقاعدہ قبرستان بنانے فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انسانوں کے قبرستانوں کے بارے میں یہ رپورٹ آئی ہے کہ ان میں دیکھ بھال کا انتظام بہت برا ہے۔

دلی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کافی زمین موجود ہے لیکن یہ زمینیں غریبوں کے لیے تنگ کر دی گئی ہیں کیونکہ یہاں کے بیشتر قبرستانوں میں غریبون کو دفنانے کی بھی اجازت نہیں مل پاتی۔

اسی بارے میں
عید کا چاند عدالت میں
12 November, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد