شادی ہال، میخانے اور کُتوں کا قبرستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شادی کے لیے لڑکی نہیں ہال ڈھونڈیے دارالحکومت دلی میں شادی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے کیونکہ غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں اور تعمیرات کے خلاف مہم کے تحت میونسپل کارپوریشن نے بیشتر فارم ہاؤسز اور شادی ہال سیل کر دیے ہیں۔ نومبر سے دسمبر تک شادیون کا موسم ہوتا ہے اور صورتحال یہ کہ لوگ شادی کے لیے جگہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ شہر میں جو میرج ہال ہیں وہ اگلے سال مئی تک بک ہیں۔ جہاں جگہیں مل رہی ہیں وہ اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ شادی تو ہو جائے گی لیکن اس کے مالی اثرات طویل عرصے تک مصیبت پیدا کر سکتے ہیں۔ شادیوں کا موسم ہونے کی وجہ سے تیرہ دسمبر کو دارالحکومت میں چھتیس ہزار شادیاں ہونے کی توقع ہے۔گزشتہ برس اٹھائیس نومبر کو اسی طرح کا دن تھا اور اس دن بتیس ہزار شادیاں ہوئی تھیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں زبردست ٹریفک جام ہوا تھا۔ اسی خدشے کے پیش نظر اس بار دلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے وہ بارات سڑکوں پر نہ نکالیں۔ چوبیس گھنٹے کے میخانے
شہر کے اہل ذوق ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ میخانوں کو رات گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے عام بار اور پب تو نہیں لیکن فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بار چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی تک یہ گیارہ بجے شب بند کر دیے جاتے تھے۔ اب کم از کم شدید طلب کی صورت میں اہل ذوق کبھی بھی ان میخانون کا رخ کر سکتے ہیں۔ دلی کا نیا ہوائی اڈہ دلی کا ہوائی اڈہ ملک کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔ ہر برس ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ مسافر یہاں سے آتے جاتے ہیں۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں مسافروں کی سالانہ تعداد دو کروڑ ستاسی لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ گزشتہ دنوں نئے ہوائی اڈے کے منصوبے کا خاکہ جاری کیا گیا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ یہ نیا ائرپورٹ سنہ دو ہزار دس تک مکمل ہو جائےگا جس مین 137 چیک ان اور 74 امیگریشن کاؤنٹر ہونگے۔ یہ سالانہ تین کروڑ ستر لاکھ مسافروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کا اہل ہوگا۔ پولیس یونیورسٹی یہ یونیورسٹی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کی طرز پر قائم کی جائے گی اور اس کا مقصد پولیس کو مستقبل کے سلامتی کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے۔
کتوں کا قبرستان میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ کتون کے لیے قبرستان کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ اس لیے کارپوریشن نے اب کتوں کے لیے دو باقاعدہ قبرستان بنانے فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب انسانوں کے قبرستانوں کے بارے میں یہ رپورٹ آئی ہے کہ ان میں دیکھ بھال کا انتظام بہت برا ہے۔ دلی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کافی زمین موجود ہے لیکن یہ زمینیں غریبوں کے لیے تنگ کر دی گئی ہیں کیونکہ یہاں کے بیشتر قبرستانوں میں غریبون کو دفنانے کی بھی اجازت نہیں مل پاتی۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا عید کا چاند عدالت میں12 November, 2006 | انڈیا وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ18 November, 2006 | انڈیا جے این یو کے انتخاب میں امریکی امیدوار05 November, 2006 | انڈیا پرامن عید،مادام تساؤ ممبئی میں29 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||