دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملا کی دوڑ بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ ملا کی دوڑ مسجد تک لیکن اگر مغربی یوپی کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ 'ملا کی دوڑ اسمبلی تک'۔ اترپردیش کے مغربی اضلاع میں کئی بڑے مولانا اور مولوی تو بذات خود انتخابی میدان میں ہیں اور کئی مولانا اور علماء کی تنظیمیں اپنی حمایت اور بیانات کے ذریعے اتر پردیش کی سیاست میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ مغربی یوپی کے اردو اخبارات ان دنوں علماء اور سیاست میں سرگرم مولویوں کی تصاویر، اپیلوں اور بیانات سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہندوتوا کی واپسی راج ناتھ سنگھ کے بی جے پی کا صدر بننے کے بعد پارٹی میں ایک بار پھر ہندوتوا کا بول بالا ہے۔ہندو توا یوں تو پارٹی کاایک اہم پہلو ہے لیکن دوسری جماعتوں سے اتحاد اور مفاہمت کے سبب بی جے پی کو اپنے کٹر واد کے نظریات پر قابو رکھنا پڑا تھا۔
اتر پردیش کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر ہندوتوا کے نعرے کے ساتھ انتخاب میں اتری ہے اور کئی ایکزٹ پولز میں بہتر کارکردگی کی پیش گوئی کے بعد بی جے پی سخت گیر ہندوئیت کے نظریات کی طرف پوری طرح لوٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ انتخابات میں ہیلی کاپٹر انتخابی کیمشن کے سخت ضوابط کے نتیجے میں اتر پردیش کے انتخابات میں نہ تو بینر ہیں نہ پوسٹراور نہ ہی دیواروں پر نعرے اور امیدواروں کے نا م لکھے ہیں عوام تک پہنچنے کا اب ایک ہی موثر راستہ ہے اوروہ ہے جلسے اور ریلیاں۔ ریاست کے بڑے سیاسی رہنما زیادہ سے زیادہ ریلیوں میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت کم از کم بیس ہیلی کاپٹر ’انتخابی سروس‘میں لگے ہوئے ہیں ۔ ہیلی کاپٹروں کی فیس پینتالیس ہزار روپیے فی گھنٹہ سے لے کر سوا لاکھ روپے تک ہوتی ہے
ابھیشیک کی شادی کا دعوت نامہ یس اپریل کو ابھشیک اور ایشوریہ کی شادی میں مہمانوں کی تعداد بہت کم ہوگی۔ بتایا گیا ہے کہ امیتابھ بچن نے صرف ایک سو لوگوں کو مدعوں کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس شادی میں صرف دو سیاسی رہنماؤں اترپردیش کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کو مدعو کیا گيا ہے۔ پائلٹوں کی بڑھتی مانگ ہندوستان ميں فضائی مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر گزشتہ برسوں میں متعدد نئی ایرلائنز وجود میں آئی ہیں۔ایرلائنز کی حالت یہ ہے کہ ہرایر الائنز میں پائلٹوں کی کمی ہے ۔متعدد ایر لائنز نے غیر ملکی پائلٹس بھرتی کیے ہیں۔ اب ہندوستان کی فضائیہ نے طے کیا ہے کہ وہ اپنے جنگي طیاروں کے پائلٹس کو جو 54 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں رفتہ رفتہ کمرشل طیاروں کے لیے اپنے یہاں سے ریلیز کرے گی۔ فضائیہ نے سرکاری ایر لائنز ایرانڈیا سے مفاہمت کی ہے جس کے تحت وقفے وقفے پر پندرہ سے بیس پائلٹس فضائیہ سے ایر انڈیا میں آئیں گے۔
ججوں کی ایمان داری دلی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہےکہ اگر کو ئی جج اپنے سرکاری بنگلے کو کرائے پر دیتا ہے یا کسی ایسی جگہ سرمایہ کاری کرتا ہے جس کا حساب کتاب نہیں ہے تو یہ بنیادی ضوابط کے خلاف ورزی ہےاور ایسے جج کو فوراً برطرف کیا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کی خلاف ورزی کو آسانی سے نہیں لیا جا سکتا ۔جج ایسے عہدے پر فائز ہوتا ہے جس کی بنیاد عوام کا اعتماد ہے اس لیے اپنی ذاتی زندگی میں ایمانداری اور اخلاقی قدروں کی نمائندگی کرنی چاہیے جو سبھی کو قبول ہو۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: وزیر خارجہ کیلیئے دوڑ22 October, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||