’ہندوستان ہماری فضا آلودہ نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاستوں اترپردیش اور بہار میں اغوا اور جبری وصولی کے واقعات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اب ان کاموں کے لیے بھی صنعت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اغوا اور جبری وصولی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ملک کی بیمہ کمپنیوں نے اغوا اور وصولی کا بھی بیمہ کرنا شروع کردیا ہے۔ عام طور پر جبری وصولی کے لیے امیر لوگوں کو ہی اغوا کیا جاتا ہے۔اس لیے بیمے کی رقم ساڑھے چار کروڑ سے لے کر بائیس کروڑ تک رکھی گئی ہے۔ کئی کمپنیوں نے تو اغوا کی مدت کے دوران ہونے والے نقصانات کا بھی بیمہ کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ کیسی درندازی پاکستان کی سرحد کے نزدیک پنجاب میں تین تھرمل پاور پلانٹس ہیں۔ پاکستان میں ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ پنجاب میں کہرے کی گھنی چادر انہی پاور سٹیشنوں کی وجہ سے بن رہی ہے۔ ہندوستان نے تو اس رپورٹ کو مسترد کردیا لیکن پاکستان کے سپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر رسرچ کمیشن نے اس رپورٹ کی بنیاد پر تین سال کا ایک گہرا مطالعہ شروع کردیا ہے۔ غیرملکوں کے لیے شادی آسان نہیں غیر ممالک میں آباد ہندوستانی یعنی این آر آئی اب اگر اپنی ہندوستانی بیویوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے یا شادی کے بعد انہیں غیر ممالک میں بے یار و مدد گار چھوڑ دے گے تو انہیں ہندوستانی قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہندوستان کی حکومت امریکہ اور برطانیہ سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ ایسا قانونی نظام وضح کیا جائے جس سے ایسے افراد کے خلاف تیزی سے قانونی کارروائی کی جاسکے۔ سولہ لاکھ ہندوستانی امریکہ اور بارہ لاکھ برطانیہ میں آباد ہیں۔ تقریباً پینتیس لاکھ ہندوستانی عرب ممالک میں مقیم ہیں۔ پنجاب، آندھراپردیش، اور کیرالہ میں اس طرح کی شکایات ملتی رہتی ہیں کہ غیر مقیم ہندوستانیوں نے شادی کرکے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی جس سے وہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔
ملک میں شراب کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ سن دو ہزار دو میں بیئر کی کھپت چراسی کروڑ بوتلیں تھیں اب وہ بڑھ کر ایک ارب چھبیس کروڑ ہوگئی ہیں۔ اس طرح غیر ملکی شرابوں کی کھپت میں ترپن فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور لوگ اب ایک برس میں ساڑھ گیارہ کروڑ پیٹیاں پی جاتے ہیں۔ ملک میں تقریباً پچاس فی صد لوگ پچیس برس سے کم عمر کے ہیں۔ شراب کا استعمال سولہ سے اٹھارہ برس کی عمر میں شروع ہوتا ہے اور تیس سے پینتیس برس میں عروج پر پہنچتا ہے۔ شادی کی صنعت | اسی بارے میں پاکستان میں آلودگی کا بحران05 June, 2006 | پاکستان پاکستان: دمہ کے پچیس لاکھ مریض02 May, 2006 | پاکستان ’موجودہ بسیں، ویگنیں ختم کریں‘23 December, 2006 | پاکستان صنعتی ترقی کس قیمت پر؟14 March, 2005 | پاکستان انوائرنمنٹل سکیورٹی، مسئلہ کا حل05 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||