افضٰل کی حمایت اورہیما کا بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افضل کی حمایت میں برطانوی ایم پی گزشتہ دنوں برطانیہ میں ساؤتھ ایشاسالیڈا ریٹی اور ایسوسی ایشن آف برٹش کشمیر نے محمد افضل کی حمایت میں لندن میں مظاہرے کیے۔محمد افضل گرو کو ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے اور انہوں نے صدر سے رحم کی اپیل کر رکھی ہے۔ برطانیہ میں کئی تنظیموں نے افضل کی جان بخشی کے لیے مہم چلا رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے دو ارکان پارلیمان راجر گوڈ سف اور جریمی کوابین نے بھی ہندوستان کے صدر سے اپیل کی کہ وہ افضل کی رحم کی اپیل پو غور کریں۔ عدلیہ کوبھی جاننے کے حق قانون میں لانے کی کوشش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالت عظمی کے ججوں کی راۓ کے برعکس ایک قرار داد کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں جانکاری حاصل کرنے کے قانون کے دائرے میں عدلیہ کو لانے کی بات کہی گی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نےعدلیہ کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی حمایت یہ کہہ کر تھی کہ اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔ لیکن بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس سے عدلیہ کا کردار مزید شفاف ہوگا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 150 سے زیادہ وکلا نے اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیےایسوسی ایشن کی میٹنگ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ میٹنگ فروری کے اوائل میں ہوگی۔ فلم پرزانیہ کی نمائش گجرات میں نہیں گجرات فسادات کے پس منظر میں بنی فلم " پرزانیہ" گزشتہ جمعہ کو پورے ملک میں ریلیز ہوگی لیکن یہ فلم گجرات میں نہیں دکھائی جاسکی۔ تھیئٹر مالکان نے ' پرزانیہ' نہ دکھانے کے لۓ دو ديگر بڑی فلموں کی ریلیز کا بہانہ کیا تھا لیکن اصل وجہہ یہ تھی کہ وہ اپنے سنیما گھروں میں کسی توڑ پھوڑ سے بچنا چاہتے تھے۔ کئی ہندو تنظیموں نےمتنبہ کیا تھا کہ اگر اس فلم میں گجرات کی شبیہ خراب کی گئی تو اس وہ فلم کی نمائش کی اجازت نہیں ديں گے۔ اس سے پہلے چند مہینے قبل ان تنظیموں نے فلم 'فنا' گجرات میں ریلیز نہیں ہونے دی تھی۔ ہیما مالنی نے بیان واپس لیا ممبئی میونسپل کارپوریشن کے لیے انتخابی مہم شباب پر ہے۔ مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمان اور فلم اداکارہ ہیما مالینی کا ایک بیان ان کی پارٹی کے لیے مصیبت بن گیا۔
انتخابی مہم کے دوران ایک ٹی وی انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ اگر شمالی ہندوستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی میں ان کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں ہوتا اور وہ خوش نہیں ہیں تو انھیں اپنی اپنی ریاست واپس چلے جانا چاہیۓ۔ حریف جماعتوں کو بیٹھے بٹھاۓ ایک موضوع مل گیا اور صورت حال اتنی بگڑ ی کہ ہیما مالینی کو اپنے بیان سے انکار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جواب کا غلط مطلب نکالا گیا۔ پنجاب کے یہ امیر سیاست داں وزیر امریندر سنگھ کا تعلق رجواڑوں کے خاندان سے ہے اس لیے ان کے پاس زمین، جائیداد کافی ہے۔ ان کے مجموعی اثاثوں کی مالیت سو کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی جماعت اکالی دل کے رہنما بی بی جاگور کور ہیں جن کی ذاتی دولت اسی کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ خود اکالی دل کے صدر پرکاش سنگھ بادل بھی آٹھ کروڑ روپے کے زمرے میں ہیں۔ ایک دیگر کانگریسی امیدوار کے حلف نامے کے مطابق وہ گیارہ کروڑ کے اثاثے کے مالک ہیں۔ ان کے پاس ایک ذاتی ہوائی جہاز بھی ہے۔ پنجاب کے انتخاب میں امیر امیدواروں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: وزیر خارجہ کیلیئے دوڑ22 October, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||