BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 May, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشم پورہ فسادات: متاثرین انصاف کے منتظر

ہندوستانی مسلمانوں کو فسادات کا سامنا رہا ہے
بائیس مئی 1987 کو ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ کے محلہ ہاشم پورہ میں فرقہ وارانہ کشدگی کے دوران ریاستی مسلح پولیس نے مبینہ طور پر بیالیس مسلمانوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ لیکن مقتول کے رشتہ دار اس قتل عام کے بیس برس بعد بھی انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔

واقعہ کے بیس برس بعد اب متاثرہ خاندانوں نے معلومات کے حق کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے اترپردیش کی ریاستی حکومت سے جاننا چاہا ہے کہ اس نے قصوروار پی اے سی کے اہلکاروں کے خلاف کیا قدم اٹھائے ہیں۔ انہیں آج تک معطل کیوں نہيں کیا گيا ہے اور انہیں ترقی کیوں دی گئی ہے، کیا ان کے خلاف انکوائری کی گئی تھی؟

ہاشم پورہ کے متاثرین کی وکیل ورندا گروور کہتی ہیں: ’یہ صرف فرقہ پرستی کامعاملہ نہيں ہے، یہ تحویل میں قتل ہے اور اس قتل کا ارتکاب پولیس نے کیا ہے، جسے سیاسی جماعتیں بچاتی رہتی ہیں۔‘

محترمہ گرور کہتی ہیں: ’معلومات حاصل کرنے کے قانون کا استعمال اس لیے ضروری ہے کہ اول تو اس سے یہ پتہ چلے گا کہ مسلح پی اے سی (سکیورٹی فورس) کے قصوروار اہلکاروں کو سزا دینے کے بجائے انہیں ترقی کیوں دی گئی اور اب تک ان کو معطل کیوں نہیں کيا گیا۔‘

’لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ اترپردیش کی ریاستی حکومت نے ملزم اہلکاروں کے خلاف جو فرد جرم داخل کی ہے اس میں بہت سی کمیاں ہیں۔ ہماری جانکاری کے مطابق اس واقعہ کی جو سی آئی ڈی جانچ ہوئی ہے اس میں سینیئر افسروں کے ملوث ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے جبکہ سی آئی ڈی کی رپورٹ تحویل میں ہلاکت کے واقعہ کے انیس برس بعد بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے، صرف جونیئر لوگوں کے نام ہیں اس لیے اس رپورٹ کا منظر عام پر آنا بہت ضروری ہے۔‘

جب مرکزی حکومت نے فروری انیس سو چھیاسی میں بابری مسجد کا تالا کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول بن گیا تھا اور اس کے باعث مئی انیس سو ستاسی میں میرٹھ میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھےاور شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

بائيس مئی کو مسلح پی اے سی کے جوانوں نے میرٹھ کے ہاشم پورا محلہ میں چھ سو چوالیس افراد کو گرفتار کیا جو سبھی مسلمان تھے۔ ان میں سے تقریبا پچاس مسلمانوں کو جن میں بیشتر نوجوان تھےایک نہر (دریا) کے نزدیک لے جاکر پی اے سی کے جوانوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر نہر میں پھینک دیا تھا۔

ان میں سے پانچ گولی لگنے کے بعد بھی زندہ بچ نکلے تھے جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

اترپردیش میں یہ مقدمہ اٹھارہ برس تک آگے نہ بڑھ سکا، تو سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اس مقدمے کودلی منتقل کر دیا گیا ہے اور تین گواہوں کے بیان بھی درج ہو چکے ہیں۔

اس واقعہ میں پی اے سی کے انیس جوانوں کے خلاف قتل کا معاملہ درج ہے۔
ہاشم پورا کے مسلمانوں میں کافی مایوسی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دیری دراصل مسلمانوں کے خلاف منظم تعصب کا حصہ ہے لیکن وہ انصاف حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی اس کوشش میں بعض وکلاء، حقوق انسانی کی تنظیموں اور دانشورں کی حمایت حاصل ہے۔

گودھرا رپورٹ
سیاسی جماعتوں کے لئے مقابلے کا نیا موضوع
گودھراگودھرا 5 سال بعد
ہلاک ہونیوالوں میں امتیاز مسلسل برقرار
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
جب مسجد ٹوٹی۔۔۔
بابری مسجد کے انہدام پر ویڈیو رپورٹ
اسی بارے میں
گجرات:11 افراد کو عمر قید
14 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد