ہاشم پورہ فسادات: متاثرین انصاف کے منتظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیس مئی 1987 کو ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ کے محلہ ہاشم پورہ میں فرقہ وارانہ کشدگی کے دوران ریاستی مسلح پولیس نے مبینہ طور پر بیالیس مسلمانوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ لیکن مقتول کے رشتہ دار اس قتل عام کے بیس برس بعد بھی انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ واقعہ کے بیس برس بعد اب متاثرہ خاندانوں نے معلومات کے حق کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے اترپردیش کی ریاستی حکومت سے جاننا چاہا ہے کہ اس نے قصوروار پی اے سی کے اہلکاروں کے خلاف کیا قدم اٹھائے ہیں۔ انہیں آج تک معطل کیوں نہيں کیا گيا ہے اور انہیں ترقی کیوں دی گئی ہے، کیا ان کے خلاف انکوائری کی گئی تھی؟ ہاشم پورہ کے متاثرین کی وکیل ورندا گروور کہتی ہیں: ’یہ صرف فرقہ پرستی کامعاملہ نہيں ہے، یہ تحویل میں قتل ہے اور اس قتل کا ارتکاب پولیس نے کیا ہے، جسے سیاسی جماعتیں بچاتی رہتی ہیں۔‘ محترمہ گرور کہتی ہیں: ’معلومات حاصل کرنے کے قانون کا استعمال اس لیے ضروری ہے کہ اول تو اس سے یہ پتہ چلے گا کہ مسلح پی اے سی (سکیورٹی فورس) کے قصوروار اہلکاروں کو سزا دینے کے بجائے انہیں ترقی کیوں دی گئی اور اب تک ان کو معطل کیوں نہیں کيا گیا۔‘ ’لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ اترپردیش کی ریاستی حکومت نے ملزم اہلکاروں کے خلاف جو فرد جرم داخل کی ہے اس میں بہت سی کمیاں ہیں۔ ہماری جانکاری کے مطابق اس واقعہ کی جو سی آئی ڈی جانچ ہوئی ہے اس میں سینیئر افسروں کے ملوث ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے جبکہ سی آئی ڈی کی رپورٹ تحویل میں ہلاکت کے واقعہ کے انیس برس بعد بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے، صرف جونیئر لوگوں کے نام ہیں اس لیے اس رپورٹ کا منظر عام پر آنا بہت ضروری ہے۔‘ جب مرکزی حکومت نے فروری انیس سو چھیاسی میں بابری مسجد کا تالا کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول بن گیا تھا اور اس کے باعث مئی انیس سو ستاسی میں میرٹھ میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھےاور شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ بائيس مئی کو مسلح پی اے سی کے جوانوں نے میرٹھ کے ہاشم پورا محلہ میں چھ سو چوالیس افراد کو گرفتار کیا جو سبھی مسلمان تھے۔ ان میں سے تقریبا پچاس مسلمانوں کو جن میں بیشتر نوجوان تھےایک نہر (دریا) کے نزدیک لے جاکر پی اے سی کے جوانوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر نہر میں پھینک دیا تھا۔ ان میں سے پانچ گولی لگنے کے بعد بھی زندہ بچ نکلے تھے جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ اترپردیش میں یہ مقدمہ اٹھارہ برس تک آگے نہ بڑھ سکا، تو سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اس مقدمے کودلی منتقل کر دیا گیا ہے اور تین گواہوں کے بیان بھی درج ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ میں پی اے سی کے انیس جوانوں کے خلاف قتل کا معاملہ درج ہے۔ |
اسی بارے میں گجرات:11 افراد کو عمر قید14 December, 2005 | انڈیا بھاگلپور فسادات کی تحقیقات کا حکم24 February, 2006 | انڈیا علیگڑھ فسادات: یو پی میں ریڈ الرٹ07 April, 2006 | انڈیا وڈودرہ: کرفیو، فوج کو تیاری کا حکم04 May, 2006 | انڈیا پولیس میں بھرتی کے لیے ہنگامہ06 November, 2006 | انڈیا گورکھپور: کرفیو میں نرمی کا فیصلہ02 February, 2007 | انڈیا گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||