خدیجہ عارف بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی |  |
 | | | گجرات فسادات میں ریاستی حکومت کے کردار پر سوال اٹھائے گئے ہیں |
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے سن دو ہزار دو میں ریاست گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فساد میں متاثرہ افراد کے لئے اضافی معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات اور نشریات کے وزیر پریے رنجن داس منشی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ مرکزی حکومت فسادات کے دوران مارے گئے افراد کے ورثاء کو تین اعشاریہ پانچ لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے بطور معاوضہ دے گی۔ جمعرات کے روز انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کو کسی اور افراد کے مارے جانے کی اطلاع فراہم ہوتی ہے تو انہیں بھی معاوضہ دیا جائے گا۔ مسٹر منشی نے واضح کیا کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تعداد ریاستی حکومت کی رپورٹ کے مطابق طے کیا گیا ہے۔ ستائیس فروری 2002 کو گودھرا میں سابر متی ٹرین میں ہندو کارسیوکوں کو زندہ جلائے جانے کے بعد بھڑکے فسادت میں ریاستی حکومت کے مطابق 1168 افراد ہلاک اور دو ہزار پانچ سو چالیس افراد زخمی ہوئے تھے اور سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ حکومت نے قومی اقلیتی کمیشن اور وزرات داخلہ کی رپورٹ کی بنیاد پر اس معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہےکہ حکومت کا یہ فیصلہ گجرات فسادات کے گرفت میں ہزاروں خاندانوں کے زخموں پو مرہم لگانے کی کوشش ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل دلی میں 1984 میں سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد ہندوستان میں ہوئے باقی ماندہ فسادات کے متاثرین بھی اپنی نظریں حکومت کی طرف ڈالیں گے کیوں کہ انہوں نے بھی اپنے عزیزوں کو کھویا ہے اور ان کا پرسان حال بھی کوئی نہیں ہے۔ |