BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گودھرا سانحے کی پانچویں برسی
گودھرا
بینر جی کمیشن کی رپورٹ میں ملزمان پر لگے قانون ’پوٹا‘ کو ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے
ہندوستان کی ریاست گجرات کے گودھرا ‎سانحہ کے پانچ برس گزر جانے کے بعد بھی اس فساد میں ہلاک ہونے والوں کو انصاف نہیں ملا ہے اور یہ معاملہ اب تک قانونی پیچیدگیوں میں پھنسا ہوا ہے۔

ستائس فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں مبینہ طور پر مسلمانوں کی جانب سے آگ لگائے جانے پر 59 ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد پوری ریاست میں ہندو مسلم فسادات بھڑک اٹھے تھے۔

اس مذہبی فساد میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھےجن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

ٹرین کی آتشزدگی میں ہلاک ہونے والوں کو تو ریلوے کی جانب سے معاوضے مل چکے ہیں لیکن اس معاملے کی عدالتی کارروائی کی سماعت پر سپریم کورٹ کی پابندی برقرار ہے۔

اس درمیان معاملے کی تکنیکی سطح پر تفتیش کرنے والی یو سی بنرجی کمیشن کی رپورٹ اور ملزمان پر لگے انسداد دہشت گردی کے قانون ’پوٹا‘ کے مسئلے پر مرکز کی ایک کمیٹی کی یہ سفارش اپنی جگہ ہے کہ ’ملزمان پر مقدمہ کی نوعیت مختلف ہے اس لیے ان پر سے ’پوٹا‘ ہٹا لیا جائے‘ تا حال ملزمان پر سے ’پوٹا‘ نہيں ہٹایا گيا۔

حکومت کے تحقیقاتی کمیشن نے گودھرا ٹرین میں لگنے والی آگ کو حادثاتی قرار دیا ہے۔ جسٹس بینرجی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ باہر سے ٹرین کے ڈبے پر کوئی جلنے والا مادہ یا کیمیائی مواد پھینکنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ جس ڈبے میں آگ لگی تھی اس میں ملازمین سوار تھے اور ان میں سے بیشتر ترشول سے مسلح تھے۔ اس لیے ایسے ڈبے میں اندر سے بھی کسی شرارت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

وشو ہندو پریشدھ کے وکیل دیپک شکلا کہتے ہیں ’اس معاملے کے لیے تشکیل دیے گئے ٹریبونل کی تفتیش سے واضح ہو چکا ہے کہ ٹرین پر تشدد آمیز حملہ کیا گیا تھا، معاملہ عدالت میں زیر غور ہے اس لیے اس پر کچھ کہنا مناسب نہيں ہے‘۔

ملزمان جیل میں، سماعت ملتوی
 ڈیڑھ سو مسلمانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سو سے زیادہ افراد جیل میں قید ہیں

دوسری جانب جن سنگرش منچ کے وکیل موکل سنہا کا کہنا ہے کہ گودھرا واقعہ اور اس کے بعد ہونے والے فسادات کے معاملے کو نمٹانےمیں تاخیر ہو رہی ہے لیکن تفتیشی کمیشن کے طور طریقے کو وہ غیر جانب دار تسلیم کرتے ہیں۔

گجرات پولیس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے ایک ہجوم نے 27 فروری سن 2002 کے اس واقعے سے پہلے ایک باقاعدہ میٹنگ کی تھی اور بعض افراد نے پٹرول خریدا اور ایک سازش کے تحت مسلمانوں کے ایک ہجوم نےگودھرا میں اس ٹرین پر حملہ کر دیا۔

اس واقع میں تقریباً ڈیڑھ سو مسلمانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سو سے زیادہ افراد جیل میں قید ہیں۔ ان میں گودھرا کی کئی معزز اور محترم ہستیاں بھی شامل ہیں۔

خوشبو کا المیہ
’گجرات فسادات کی تلخ یادیں پیچھا کریں گی‘
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
تیوہار اور فسادات
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی لہر
ممبئیممبئی دھماکے، انصاف
ماضی کے فسادات کا فیصلہ کب ہوگا؟
گجراتمنقسم شہر بڑودہ
بڑودہ فسادات ہندو مسلم تفریق کے عکاس
سکھ سکھ مخالف دنگے
’مذہبی فسادات کچھ کانگریس رہنماؤں کا کام‘
گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن کا ایک سینفلم پر پابندی
گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد