فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندستان کے مختلف علاقوں میں اس ماہ متعدد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں جس میں کئی لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ لاکھوں کی املاک تباہ ہوئی ہے اور کئي علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔ یہ واقعات شمال سے لے کر جنوب کی ریاستوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کا تازہ واقعہ جنوبی ریاست کرناٹک کے منگلور شہر میں ہوا ہے جہاں حکام نے شر پسندوں کو فورا گولی مارنے کے احکامات جاری کیئے ہیں۔ گوا سے متصل اس ساحلی شہر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان گزشتہ دو روز سے جاری جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور ستّر زخمی ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔ ریاست کے وزیر داخلہ ایم پی پرکاش کا کہنا ہے کہ بعض بنیاد پرست تنظیمیں تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب گائے کے ذبیجہ کے خلاف ہندو نظریاتی تنظیم بجرنگ دل نے ایک ہڑتال کا اعلان کیا۔ فی الوقت حالات کشیدہ ہیں اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔ دواکتوبر کو ریاست اتر پردیش میں مسولی کے پاس بھی فرقہ وارنہ فسادات میں چند افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ درگا پوجا کے مہتم مسلم علاقے سے ہی مورتیاں لے جانے پر بضد تھے بالآخر پہلے پولیس اور جلوس میں جھڑپ شورع ہوئی اور بعد میں غصہ مسلمانوں پر ٹوٹا۔ تشدد میں بعض اپنی جان کھو بیٹھے ، کئی دکانیں جلا دی گئیں۔ حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ علاقے کے ایک سینئر پولیس افسر ایس پی شروڈکر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بعض غلط فہمیوں کے سبب پیش آیا ہے۔ دراصل بعض ہندوؤں نے ہی مورتیاں لے جانے پر اعتراض کیا تھا لیکن بعض شر پسند عناصر نے اسے ہندو مسلم تنازعہ بنا دیا۔ پولیس کے مطابق کئی افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب حالات پوری طرح قابو میں ہیں۔
درگا پوجا اور دسہرا تیوہار کے درمیان آندھرا پردیش کے بعض علاقوں میں بھی فسادات ہوئے ہیں۔ مورتیوں کے جلوس کے دوران دونوں فرقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تشدد ہوا ہے۔ کئی مقامات پرتصادم اور آتش زنی کے واقعات ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیس کے ایک شہر بیتول میں بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپ کے بعد پولیس کی لاٹھی چارچ میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ چھندواڑا اور بیتول بڑے حساس شہر ہیں اور ہندوؤں کے ایک جلوس پر مبینہ طور پر پتھر باز کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ ان علاقوں میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر پولیس کو طلب کیا گیا ہے۔ دسہرا اور درگا پوجا کا تیوہار ختم ہوگیا ہے لیکن ابھی دیوالی باقی ہے۔ ادھر مسلمانوں کا رمضان کا مہینہ ہے اور عید آنے والی ہے۔ حکومت نے دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لیئے بڑے بڑے شہروں میں سخت انتظامات کیئے ہیں۔ لیکن فی الوقت چھوٹے شہروں میں فرقہ وارنہ فسادات کو روکنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ورنہ آنے والے دنوں میں اگر یہ وباء یوں ہی پھیلتی گئی تو پھر حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں گجرات فسادات: قبریں، عدالتی حکم20 April, 2006 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ25 May, 2006 | انڈیا ہندو مسلم رشتوں پر دستاویزی کتاب17 June, 2006 | انڈیا اقلیتوں کے لیے 15 نکاتی منصوبہ22 June, 2006 | انڈیا ممبئی کی زندگی’معمول پر‘17 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||