BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 07:47 GMT 12:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گودھرا، یہ کیسی سزا؟

عرفان بلال
عرفان بلال کو جب گرفتار کیا گیا تھا ان کی عمر صرف سولہ سال تھی
’ایک ٹائم کھلاتے ہيں اور ایک ٹائم بچوں کو سلاتے ہیں۔ ہوتا ہے تو دیتے ہیں نہیں ہوتا تو نہیں دیتے۔ بھوک سے روتے ہیں تو مار مار کر سلا دیتے ہیں‘۔

گودھرا کے رحمت نگر کی امینہ بی اور خیرالنسا یہ بتاتے ہوئے اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتیں۔ان کی زندگی پانچ برس قبل ایسی نہیں تھی۔ لیکن گودھرا میں ٹرین جلانے کے واقعے میں ان کے شوہر کی گرفتاری کے بعد یکلخت بے سہارا ہوگئیں۔ دوسروں کے گھروں میں کام کر کے کچھ پیسے کما لیتی ہیں لیکن خیرالنسا کے مطابق ’وہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی کافی نہیں ہوتے‘۔

گودھرا ٹرین کے ملزموں میں شہر کی محترم ہستی مولانا حسین عمر جی کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گجرات کے متاثرہ مسلمانوں کی جس نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی ہے انہیں کسی نہ کسی شکل میں ہراساں کیا گیا ہے۔ عمر جی کے بیٹے سعید حسین کہتے ہیں کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے۔

 مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گجرات کے متاثرہ مسلمانوں کی جس نے بھی مدد کرنے کی کوشش کی ہے انہیں کسی نہ کسی شکل میں ہراساں کیا گیا ہے

گودھرا کے واقعے میں جن 87 افراد کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جیل میں رکھا گیا ہے ان میں اسحاق محمد ممدوح بھی ہیں۔ وہ پیدائش سے نابینا ہیں۔ ان کے اندھے پن کا سرکاری سرٹفکیٹ دکھاتے ہوئے کے بوڑھے والد کہتے ہیں’میں نے سبھی سے فریاد کی سرٹفکیٹ دکھائہ لیکن گجرات کی سرکار سنتی ہی نہیں‘۔

گودھرا کے ملزمین کے رشتے داروں کی زندگی انتہائی مشکل میں گزر رہی ہے

پولن بازار کی صغرابی کے چار بیٹے قید میں ہیں ان کے نابالغ نواسے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن کچھ مہینوں کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ صغرابی کہتی ہیں ’اب یہاں سے وہاں سے اللہ کے نام پر کچھ کھانے کو مل جاتا ہے تو کھا لیتے ہیں‘۔

گودھرا کے ملزمین کے ان رشتے داروں کی زندگی انتہائی مشکل میں گزر رہی ہے جہاں گھر میں کوئی مرد افراد نہیں ہیں۔ کمانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ خوف سے کوئی مدد بھی نہیں کر سکتا۔ لوگ کسی مصیبت میں پڑنے سے بچنے کے لیے ان سے دور رہتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں گودھرا کے ملزمین کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ضمانت کے لیے براہ راست اس سے رجوع کریں۔ اس فیصلے سے قیدیوں کے لیے امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن یہاں شہر میں دہشت کا وہ عالم ہے کہ کوئی بھی ملزموں کی مدد کے لیے سامنے نہيں آسکتا۔ ملزموں کی پیروی کرنے والے وکلاء خوف کے سبب ایک ایک کر کے کیس سے الگ ہوچکے ہیں ۔

 سماجی اور اقتصادی بائکاٹ سے مسلمان تباہ ہوچکے ہیں۔ ہندو انہیں ملازمت نہیں دے سکتے

گودھرا سے تقریباً 70 کیلو میٹر دور پانڈر واڑہ گاؤں پر گودھرا کے واقع کے بعد سینکڑوں ہندؤں نے حملہ کیا تھا۔ وہاں 26 مسلمان مارے گئے تھے۔ اور ان کے سارے مکان ڈھا دیے گئے تھے۔ قاتلوں کو سزا تو ایک طرف ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی حکومت نے ان کے لواحقین کو نہيں دی ہیں۔

سماجی اور اقتصادی بائکاٹ سے مسلمان تباہ ہوچکے ہیں۔ ہندو انہیں ملازمت نہیں دے سکتے۔ گجرات پر اس وقت صرف خوف کی حکمرانی ہے۔ یہاں سِول سوسائٹی خاموش ہے۔

سہمی بستیاں
گجرات فسادات کے بعد مسلمانوں کی زندگی
گودھراگودھرا 5 سال بعد
ہلاک ہونیوالوں میں امتیاز مسلسل برقرار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد