BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 October, 2006, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: ’5 ہزار خاندان بےگھر‘

2002 میں فسادات کے بعد بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو راحت کیمپوں ميں منتقل کر دیا گیا تھا
ہندوستان میں اقلیتوں کے قومی کمیشن نے کہا ہے کہ گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے چار برس بعد بھی پانچ ہزار سے زائد خاندان اپنے آبائی گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔

کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے۔

سال دو ہزار دو میں گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو مختلف راحت کیمپوں ميں منتقل کر دیا گیا تھا اور اب چار برس بعد بھی صورت حال موافق نہیں ہو سکی کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔

ان کیمپوں میں رہنے والے افراد بجلی، پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کمیشن کے مطابق وہ تقریبًا غیر انسانی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کیمپوں کی تعداد پیتالیس سے زیادہ ہے اور ان میں پانچ ہزار سے زیادہ خاندان رہتے ہیں۔ اقلیتی کمیشن کے وائس چئرمین ایم پی پنٹو، پروفیسر زویا حسن اورصحافی دلیپ پڈگاؤں کر نے حال میں تقریبًا 17 کیمپوں کا دورہ کیا۔ دلیپ پڈگاؤں کر نے بی بی سی کو ان خیموں کی صورتحال کے بارے میں بتایا۔

مسٹر پڈگاؤں کر کا کہنا تھا کہ بیشتر لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ حالانکہ کیمپوں کی اکثریت غریب طبقے سے ہے لیکن اس کے باوجود انہیں غریب طبقے سے اوپر کا راشن کارڈ دیا گیا ہے جس کے سبب انہیں اناج اور تیل جیسی اشیاء بھی مہنگے داموں میں خریدنی پڑتی ہے۔

 ریاستی حکومت نے فسادات سے متاثر افراد کو معاوضے کے طور پر دس ہزار روپيئے دیئے ہیں جو کہ ان کی ضرورت سے کافی کم ہیں لیکن ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کی رقم میں سے انیس کروڑ مرکزی حکومت کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ جس کام کے لیئے یہ رقم دی گئی تھی وہ پورا ہو گیا ہے
مسٹر پڈگاؤں کر

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ریاستی حکومت کیمپوں میں رہنے والوں کے لیئے ملازمت فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے‘۔

مسٹر پڈگاؤں کر نے بتایا کہ ’ریاستی حکومت نے فسادات سے متاثر افراد کو معاوضے کے طور پر دس ہزار روپے دیئے ہیں جو کہ ان کی ضرورت سے کافی کم ہیں لیکن ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کی رقم میں سے انیس کروڑ مرکزی حکومت کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ جس کام کے لیئے یہ رقم دی گئی تھی وہ پورا ہو گیا ہے‘۔

ان کیمپوں میں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو فرقہ وارانہ فسادات کے مقدمات میں اہم گواہ ہیں اور اب جبکہ ان مقدمات کے تقریبًا سب ہی ملزم ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ان کے ڈر سے یہ لوگ اپنے آبائی گھر واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کمیٹی کے ممبران نے جب اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نریندر مودی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کمیپوں کے علاوہ بھی گجرات میں کئی ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں بنیادی ضروریات کی کمی ہے۔

گجرات میں سال دو ہزار دو میں گودھرا میں ہندو عقیدت مندوں سے بھری ہوئی ایک ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے سے پچاس سے زيادہ کار سیوک ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے نتیجے میں پوری ریاست میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات میں دو ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے ہوئے تھے جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ فسادات کےدوران ہزاروں مسلمانوں نے ان راحت کیمپوں میں پناہ لی تھی۔

بی جے پی کو صدمہ
بی جے پی گھر میں شکست پر حیران
گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن کا ایک سینفلم پر پابندی
گجرات فسادات پر مبنی فلم فائنل سولوشن
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟امکانات سے بھرپور
عام انتخابات پر ’گجرات‘ کا اثر کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد