گجرات: ’5 ہزار خاندان بےگھر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اقلیتوں کے قومی کمیشن نے کہا ہے کہ گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے چار برس بعد بھی پانچ ہزار سے زائد خاندان اپنے آبائی گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔ کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی ہے۔ سال دو ہزار دو میں گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو مختلف راحت کیمپوں ميں منتقل کر دیا گیا تھا اور اب چار برس بعد بھی صورت حال موافق نہیں ہو سکی کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ ان کیمپوں میں رہنے والے افراد بجلی، پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کمیشن کے مطابق وہ تقریبًا غیر انسانی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کیمپوں کی تعداد پیتالیس سے زیادہ ہے اور ان میں پانچ ہزار سے زیادہ خاندان رہتے ہیں۔ اقلیتی کمیشن کے وائس چئرمین ایم پی پنٹو، پروفیسر زویا حسن اورصحافی دلیپ پڈگاؤں کر نے حال میں تقریبًا 17 کیمپوں کا دورہ کیا۔ دلیپ پڈگاؤں کر نے بی بی سی کو ان خیموں کی صورتحال کے بارے میں بتایا۔ مسٹر پڈگاؤں کر کا کہنا تھا کہ بیشتر لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں۔ حالانکہ کیمپوں کی اکثریت غریب طبقے سے ہے لیکن اس کے باوجود انہیں غریب طبقے سے اوپر کا راشن کارڈ دیا گیا ہے جس کے سبب انہیں اناج اور تیل جیسی اشیاء بھی مہنگے داموں میں خریدنی پڑتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ریاستی حکومت کیمپوں میں رہنے والوں کے لیئے ملازمت فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے‘۔ مسٹر پڈگاؤں کر نے بتایا کہ ’ریاستی حکومت نے فسادات سے متاثر افراد کو معاوضے کے طور پر دس ہزار روپے دیئے ہیں جو کہ ان کی ضرورت سے کافی کم ہیں لیکن ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کی رقم میں سے انیس کروڑ مرکزی حکومت کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ جس کام کے لیئے یہ رقم دی گئی تھی وہ پورا ہو گیا ہے‘۔ ان کیمپوں میں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جو فرقہ وارانہ فسادات کے مقدمات میں اہم گواہ ہیں اور اب جبکہ ان مقدمات کے تقریبًا سب ہی ملزم ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ان کے ڈر سے یہ لوگ اپنے آبائی گھر واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کمیٹی کے ممبران نے جب اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نریندر مودی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کمیپوں کے علاوہ بھی گجرات میں کئی ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں بنیادی ضروریات کی کمی ہے۔ گجرات میں سال دو ہزار دو میں گودھرا میں ہندو عقیدت مندوں سے بھری ہوئی ایک ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے سے پچاس سے زيادہ کار سیوک ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں پوری ریاست میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات میں دو ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے ہوئے تھے جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ فسادات کےدوران ہزاروں مسلمانوں نے ان راحت کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ |
اسی بارے میں گجرات میں کئی علاقے زیرِ آب29 June, 2005 | انڈیا فسادات: مودی پر پھر نکتہ چینی13 May, 2005 | انڈیا مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ 14 April, 2005 | انڈیا گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا انڈیا: دہشتگردی کا سبب، مقامی مسائل14 September, 2006 | انڈیا انڈیا: چھ افراد کو عمرقید کی سزا13 September, 2006 | انڈیا مسلمانوں کی کمزور میڈیا پالیسی12 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||