انڈیا: چھ افراد کو عمرقید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات کی ایک عدالت نے چھ مسلمان نوجوانوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان لوگوں پر دو ہندو لڑکوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے ان مجرموں پر دس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ یہ واقعہ سال دو ہزار دو میں کھیدا ضلع کے ماہودا علاقے میں پیش آیا تھا۔ معاملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب کرکٹ کے کھیل کے دوران دو گروہوں کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی۔ دو ہندو لڑکوں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے۔ سرکاری وکیل پریش دوہرا نے بتایا کہ اس معاملے میں کل نو ملزم تھے جس میں سے عدالت نے تین کو رہا کر دیا ہے۔ مسٹر دہرا نے کہا کہ وہ تینوں ملزموں کو رہا کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کريں گے۔ گجرات میں سنہ دو ہزار کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کئی مرتبہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔ اسی برس گودھرا علاقے میں ہندو عقیدت مندوں سے بھری ہوئی ایک ٹرین کو مبینہ طور پر مسلمانوں نے لگا دی تھی جس میں انسٹھ ہندو ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر فرقہ ورانہ فسادات ہوئے تھے۔ ان فسادات ميں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ ان فسادات کے بعد ریاستی حکومت پر حریف جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت نکتہ چینی کی تھی۔ حریف جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فسادات کے بعد پیدا ہونے والے صورتحال سے نمٹنے کے لیئے ریاستی حکومت کے طور طریقوں پر اعتراض کیا تھا۔ | اسی بارے میں گجرات کی صورتحال مزید خراب03 May, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا احمد آباد:’ٹِفن‘ دھماکوں میں سزا12 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||