BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیم مخالفوں سے تحفظ کی اپیل

ثمینہ اور زرینہ کا خاندان
دونوں طالبات کا خاندان گزشتہ سترہ برس سے مدنپورہ کی گنجان مسلمان آبادی والے علاقے حسینی باغ میں رپتا ہے
ممبئی کے مدنپورہ علاقے کی دو مسلم طالبات نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کیونکہ ان کے مطابق انہیں ان کے پڑوسی محمد علی نثار انصاری اور ان کے دیگر ساتھیوں نے نہ صرف دھمکایا بلکہ ان کے گھر میں گھس کر ان کے والدین اور ان کے بھائیوں کو مارا پیٹا۔ انہیں مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اعلی تعلیم نہ دلائیں کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ہے اور اگر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے اور برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

جسٹس رنجنا ڈیسائی اور جسٹس دلیپ بھوسلے پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس درخواست کا سخت نوٹس لیتے ہوئے علاقے کے پولیس سٹیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ طالبات اور ان کے خاندان کو خوف زدہ کرنے کے عمل کو ہر ممکن طور پر روکنے کی کوشش کریں ورنہ عدالت کو مجبورا اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوناپڑے گا۔ عدالت نے پولیس سٹیشن کے انچارج کو بھی اٹھارہ جون تک عدالت کے سامنے حاضر ہو کر اس کیس کی پوری تفصیل پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

انیس سالہ ثمینہ محمد یٰسین سینٹ زیوئیرس کالج میں بی ایس سی سال دوم کی طالبہ ہیں اور ان کی اٹھارہ سالہ چھوٹی بہن زرینہ مہاراشٹر کالج میں بی کام سال دوم میں زیر تعلیم ہیں۔ دونوں برقعہ پہننے پر مجبور ہیں۔ مدنپورہ کی گنجان

 ثمینہ، زرینہ اور ان کی والدہ
دائیں جانب ثمینہ اور بائیں جانب زرینہ اپنی والدہ کے ساتھ
مسلم آبادی والے علاقے حسینی باغ میں دونوں طالبات گزشتہ سترہ برس سے اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہیں۔ دونوں اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں لیکن ان کے پڑوسی محمد علی انہیں اعلی تعلیم حاصل نہ کرنے کے لیے ان کے والدین پر مبینہ دباؤ ڈالتے رہتے تھے۔ زرینہ کی والدہ حسینہ بانو کے مطابق جب ان کی بیٹیوں نے دسویں کا امتحان پاس کیا اس کے بعد اس شخص کی دھمکی کی وجہ سے ان کی بیٹیوں کا ایک سال برباد بھی ہو گیا۔ ثمینہ نے دسویں میں 83 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔

ثمینہ کا کہنا ہے کہ ’جب ان لوگوں نے محمد علی کی بات کے برخلاف اعلی تعلیم جاری رکھی تو علی نے اپنی دہشت قائم رکھنے کے لیے انہیں اور ان کے والدین کو بلاوجہ ستانا شروع کیا۔ سات مارچ کو جب وہ دوپہر کے وقت دروازے کے باہر ایک سٹول پر بیٹھ کر پڑھ رہی تھی تومحمد علی نے اس کے سر پر مبینہ طور پر لکڑی سے وار کیا اور فحش گالیاں دیں۔ ثمینہ اس کی رپورٹ لکھوانے پولیس سٹیشن پہنچیں لیکن پولیس نے ان کی مبینہ رپورٹ لکھنے کی بجائے محمد علی کی خاطرداری کی۔

ثمینہ اور زرینہ کے مطابق اس کے بعد محمد علی اور اس کے ساتھیوں نے گیارہ مئی کو ان کے گھر میں گھس کر ان کی والدہ، والد اور ان کے بھائی پر جان لیوا حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے ان کے والد اور بھائی کو آٹھ دنوں تک ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونا پڑا۔ان کے والد کےسر پر آٹھ ٹانکے لگائے گئے اور ان کے بھائی کو چودہ ٹانکے لگے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ عدالت سے ملزم محمد علی کو ایک ہی دن میں ضمانت مل گئی اور اس کی دھمکیوں کا سلسلہ نہیں تھما تو آخر کار انہوں نے عدالت کا سہارا لیا۔

ڈنڈے سے وار اور فحش گالیاں
 وہ دوپہر کے وقت دروازے کے باہر ایک سٹول پر بیٹھ کر پڑھ رہی تھی تومحمد علی نے اس کے سر پر مبینہ طور پر لکڑی سے وار کیا اور فحش گالیاں دیں
ثمینہ

گھر والوں کے علاوہ چال میں رہنے والے بھی ان کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ شبانہ واجد کے مطابق ’ہم سب اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ پولیس سٹیشن میں اس کی دھاک ہے اور وہ پولیس کا مخبر بھی ہے اس لیے وہاں کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا۔ وہ چال میں رہنے والی ہر لڑکی اور عورت پر اپنا حکم چلاتا ہے‘۔

چال میں رہنے والی ثناء عابد کہتی ہیں کہ ’اگر ہم کہیں کھڑے ہوگئے تو ہمیں گندی گالیاں دے کر گندی بات کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ ساری لڑکیاں صرف برقع میں ہی رہیں اور ہمارے والدین پر حکم چلاتا ہے کہ وہ سب کی جلد از جلد شادیاں کر دیں‘۔

محمد علی کی والدہ صادق نثار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا بیٹا مذہبی ہے لیکن وہ اسے منع کرتی ہیں کہ وہ کسی کی لڑکی کے بارے میں کچھ بھی نہ کہے۔

محمد علی کے گھر کے باہر دروازے پر مختلف طغرے اور مذہبی اقوال لکھے ہوئے فریم موجود ہیں اور وہ علاقے سے فرار بتایا جاتا ہے۔

ناگپاڑہ پولیس سٹیشن کے انچارج پولیس افسر اے بے ساونت نے بی بی سی سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس اپنےطور پر کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ بات غلط ہے کہ پولیس نے سات مارچ کو ان طالبات کا کیس نہیں لیا تھا‘۔

ثمینہ و زرینہ کے والد
محمد علی اور ان کے ساتھیوں نے ثمینہ و زرینہ کے گھر میں گھس کر ان کے والد اور بھائی کو مارا جس سے ان کے والد کےسر پر آٹھ ٹانکے اور بھائی کو چودہ ٹانکے آئے

ساونت کا کہنا تھا کہ وہ کیس صرف ناقابل تعزیر جرم کا تھا اس لیے رپورٹ درج کر لی گئی تھی۔ ساونت نے اس کیس کی مزید تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ گیارہ مئی کو پولیس نے محمد علی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کیس درج کیا تھا لیکن عدالت نے انہیں ضمانت دے دی۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ پولیس کا رویہ ملزم کے ساتھ جانبدارانہ ہے۔

مدنپورہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں کی لڑکیاں اب اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن آج بھی ایسے لوگو ں کی کمی نہیں جو لڑکیوں کے لیے اعلی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے لڑکیاں برقعے پہننے پر مجبور بھی ہیں۔

1857 کی نقل مکانی
جب مہاراشٹر مسلمانوں سے آباد ہوا
انڈین مسلماناردو نہیں ترقی چاہیے
’انڈین مسلمانوں کو اردو نہیں سماجی ترقی چاہیے‘
معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
ہندوستان کے نئے دلت
مسلمان تعلیم، تجارت اور ملازمت میں پیچھے
مسلمانوں کے مسائل
مولوی با اثر یا جدید طبقہ
مسلم ہی کیوں نشانہ
مسلمان 'گھیٹوز' میں رہنے پر مجبور ہیں؟
ایودھیا کا ریحان
ریحان کی جیتے جی موت کا ذمہ دار کون؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد