’مسلمانوں کو اردو نہیں، ترقی چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے حکومت چاہتی ہے کہ مسلمان بچے اردو میں تعلیم حاصل کریں اور حکومت اس سلسلے میں تمام اخراجات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ ملک کے بیشتر مسلمانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو اردو میں تعلیم نہیں انہیں سماجی اور اقتصادی ترقی میں برابری کی حصہ داری چاہیۓ۔ حال میں یو پی اے حکومت نے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی حالات کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی بنائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مسلمان سماجی اور اقتصادی طور پر کافی پسماندہ ہیں اور ان میں تعلیم کی کمی اور غریبی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے بعد اردو سکول کھولنے کی تجویز کا یہ دوسرا موقع ہے جب حکومت نے مسلمانوں کو اردو میں تعلیم دینے کی بات پر زور دیا ہے۔ بہار سے اعلی تعلیم کے لیے دلی کا رخ کرنے والی اسما ظہیر نے لڑکیوں کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اسما کہتی ہیں:’اگر حکومت مسلمانوں کو اردو سکولوں میں تعلیم دلانا چاہتی ہے تو حکومت کو یہ بات بھی صاف کردی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو ملک کی ترقی کا حصہ نہیں بننے دینا چاہتی ہے۔ کیونکہ اردو میں تعلیم حاصل کر کے آپ کسی کے ساتھ بھی مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔
حکومت اگر مسلمانوں کو اردو میں ہی تعلیم دلانا چاہتی ہے تو اسے ہندوؤں کو ہندی میں تعلیم اور پنجابیوں کو پنجابی میں بنگالیوں کو بنگالی میں تعلیم دلانی چاہیے۔ مسلمانوں کو اردو نہیں ملک کی ترقی میں حصہ داری چاہیے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے طالب علم افروز عالم ساحل کا کہنا ہے: ’حکومت مسلمانوں کو معاشرے میں الگ تھلگ کرنے کے لیے اردو زبان پر اتنا زور دے رہی ہے۔حکومت اگر اردو کے علاوہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے جائزے پر دھیان ڈالے تو مسلمانوں کی حالت بہتر ہوسکتی ہے۔‘ دلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی طالبہ رباب خان کا کہنا ہے:’ حکومت ہندوستان کے مسلمانوں کو زبان جیسے غیر ضروری معاملات میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ ترقی نہ کرسکیں۔‘ بیشتر مسلم والدین اور طلباء سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی اردو میں تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اردو میں تعلیم کا مطلب بین الاقوامی سطح پر پچھڑ جانا ہے۔ تجزیہ کار محمد امتیاز کا کہنا ہے کہ ’اردو زبان اور مسلمان ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں۔اردو کا تعلق کسی مذہب سے نہیں تہذیب سے ہے۔ لیکن مسلمانوں کو اردو سے جوڑنا اور ان کو زبان کی حد میں محدود کرنا ایک سیاسی قدم ہے۔ کیونکہ اگر مسلمانوں کا عالمی زبان اور ادب سے رابطہ ہوگیا تو ان میں بیداری آئےگي جس کے سبب وہ ’سٹیس کو‘ پر سوال کریں گے جو حکومت نہیں چاہتی ہے۔‘
محمد امتیاز کا کہنا ہے کہ آج ملک ایک ایسے دور سےگزر رہا ہے جہاں مسلمانوں کے ووٹ پانے کے لیے سیاسی جماعتیں مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی تجویز نہایت ہی ’رگریسو‘ ہیں۔ بائیں بازوں کی جماعت مارکسیسٹ کمیونسٹ پارٹی کے سرکردہ لیڈر محمد سلیم کا کہنا ہے: ’ہمارے ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ آزادی کے بعد اردو ادب اور اردو زبان کو در کنار کیا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے اردو اسکول کھولے جائیں۔ ہمارے ملک میں مسلمان مختلف ریاستوں میں رہتے ہیں اور وہ سب اردو نہیں بولتے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں صرف وہ غریب مسلمان جن کی مادری زبان اردو ہے ان کے لیے اردو اسکول کھولے جائیں۔‘ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان میں مدرسوں (جہاں تعلیم کا ذریعہ بیشتر جگہوں پر اردو ہے) اور اردو سکول کی حالت پہلے ہی بری ہے۔مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مدرسوں میں پڑھانے کے لیے مجبور ہوتے ہیں اور اس سے ان کی پسماندگی برقرار رہتی ہے۔ اس لیےاگر حکومت مسلمانوں کو ملک کی ترقی میں حصہ دار بنانا چاہتی ہے جسیا کہ وزیراعظم پہلے کہ چکے ہیں، تو انہیں عالمی درجے کی تعلیم اور نوکریاں دینا حکومت کی پہلی ترجیج ہونی چاہیے نہ کہ انہيں زبان کے فروغ کے نام پر مزید پسماندہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کی اردو میں تعلیم: منموہن 15 April, 2007 | انڈیا بھارت میں 125 اردو سکول کھلیں گے01 December, 2006 | انڈیا ’مسلم شراکت بڑھنی چاہیے‘ 09 December, 2006 | انڈیا کشمیر: ’مسلم پرسنل لا‘ بل منظور16 February, 2007 | انڈیا گودھرا فسادات کے’مثبت‘ اثرات 28 February, 2007 | انڈیا مسلم اقلیت نہیں: فیصلہ معطل06 April, 2007 | انڈیا یوپی انتخابات: مسلم ووٹرز کا المیہ14 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||