بھارت میں 125 اردو سکول کھلیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلمانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے لے لیے حکومت ہندوستان نے ملک بھر میں اردو میڈیئم کے125 بورڈنگ سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروجیکٹ پر 20 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے۔ ان سکولوں میں سینٹرل بورڈ آف سیکینڈری ایجوکیشن( سی بی ایس سی) کا سیلیبس لاگو ہوگا۔ انسانی وسائل کے جونیئر وزیر علی اشرف فاطمی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت نے مسلم ارکان پارلیمنٹ کی سفارشات کو قبول کر لی ہے جس میں انہوں نے ایسے سکول قائم کرنے کی تجویز کی تھی۔ ان سکول میں مذہبی تعلیم کے بجائے سائنس پر زور دیا جائے گا۔ فاطمی نے کہا’میں نے وزیر اعظم اور انسانی وسائل کے کابینہ وزیر ارجن سنگھ سےاس معاملے پر بات کی ہے اور انہوں نے اس کی منظوری دے دی ہے‘۔ 39 مسلم ارکان پارلیمینٹ نےاس سلسلے میں وزیر اعظم من موہن سنگھ اور یو پی اے کی صدرسونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔
ملک میں مسلمانوں میں تعلیم کی شرح محض 59 فی صد ہے جبکہ قومی طور پر یہ شرح 65 فی صد ہے۔علی اشرف کے مطابق ان سکولوں میں سن 2007 کے تعلیمی سیشن سے پڑھائی شروع ہو جائے گی۔ ان 125 سکولوں میں 42 سکول لڑکیوں کے لیے قائم کیے جائیں گے۔ حکومت ساڑھے چار لاکھ کی آبادی پر ایک سکول کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ان سکولوں میں پڑھائی کے لیے کوئی فیس نہیں ہوگی اور کتابیں بھی مفت میں فراہم کی جائیں گی۔ مسلم ارکان پارلیمینٹ کے لیڈر اسد الدین نے کہا کہ ایسے سکولوں کی ضرورت کافی دنوں سے محسوس کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا یہ سکول مدرسوں سے مختلف ہوں گے اور ان میں سائنس اور انگلش کی تعلیم دی جائے گی۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کے مسائل اور علماء کی کوششیں26 September, 2006 | انڈیا ہندوستان میں مسلم بچوں کی بدحالی14 November, 2006 | انڈیا ’مسلم دیگر مذاہب سے پیچھے‘17 November, 2006 | انڈیا حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی 05 February, 2006 | انڈیا اردو زندہ ہے، زندہ رہے گی: جاوید صدیقی 13 February, 2006 | انڈیا اردو شعبے میں پاک بھارت اشتراک27 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||