BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 09:07 GMT 14:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم اقلیت نہیں: فیصلہ معطل

دِلّی کی جامعہ مسجد
مسلمانوں کو اقلیت قرار نہ دینے والا فیصلہ ملک کے تقریباً سبھی اخبارات کے صفحہ اول کی سرخی تھی۔
الہ آباد کی ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اترپردیش کے مسلمانوں کو اقلیت کا درجہ نہ دینے کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالت سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی تھی جس پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل ایس ایم اے کاظمی نے جمعہ کی صبح اپیل دائر کی تھی جس پر ہائی کے دو ججوں جسٹس ایس آر عالم اور جسٹس کرشن مراری کی بنچ نے سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔

اس سے پہلےجسٹس شمبھوناتھ شریواستوا کی ایک رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یو پی کے مسلمان اقلیت میں نہیں ہیں۔

گزشتہ روز الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شمبھوناتھ شریواستوا کی ایک رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے تھا کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد اتنی ہوگئی ہے کہ اب انہیں اقلیت نہیں کہا جاسکتا۔

اخبار
 ہے’ہائی کورٹ کے ایک باوقار جج موصوف نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ یوپی میں مسلم اقلیت میں نہیں ہیں
انڈین ایکپریس
ریاست اترپردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کی مہم زوروں پر ہے اور اچانک اس فیصلے سے یہ معاملہ سبھی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ تقریباً سبھی جماعتوں نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آخر جج نے کس بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔

یہی خبر ملک کے تقریباً سبھی اخبارات کے صفحہ اول کی سرخی بھی بنی۔ میڈیا بھی حیران تھا کہ آخر اس فیصلے کی بنیاد کیا ہے جب سپریم کورٹ پہلے کہہ چکی ہے کہ جس ریاست میں کوئی برادری پچاس فیصد سے کم ہو تو اسے اقلیت مانا جائےگا۔ بیشتر ٹی وی چینلز پر بھی اسی موضوع پر بحث و مباحثے نشر کیے جارہے ہیں۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی سرخی ہے’ہائی کورٹ کے ایک باوقار جج موصوف نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ یوپی میں مسلم اقلیت میں نہیں ہیں‘۔ اخبار نے پہلے ہی صفحہ پرایک اور سرخی لگائی ہے: ’ہائی کورٹ کا فیصلہ اعداد و شمار کے مطابق ہونے کے بجائے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بھی خلاف ہے‘۔

یہ خبر ٹائمز آف انڈیا کی پہلی سرخی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس فیصلے سے یو پی کے انتخابات کا منظر ہی بدل سکتا ہے۔ اخبار نے مسلم دانشوروں اور رہنماؤں کے رد عمل شا‏ئع کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ جج کا فیصلہ پیچیدہ، مبہم اور نامکمل ہے۔

اخبار نے ایک علحیدہ سرخی ’جج تنازعات کے لیے نئے نہیں ہیں‘ کے تحت ان کے بعض متنازعہ مقدمات کی تفصیل شائع کی ہے۔ تاہم انگریزی اخبار ’دی سٹیٹس مین‘ نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد