BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتر پردیش میں انتخابات شروع

بی جے پی کا انتخابی نشان
حکومت سازی میں مقامی سیاسی جماعتوں اور آزاد ارکان کی اہمیت ہوگی
آبادی کے اعتبار سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کا عمل شروع ہوگیا ہے لیکن انتخابی میدان کی تصویر صاف نہیں ہے۔ ایک طرف نئے سیاسی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں تو دوسری طرف پرانے ٹوٹ رہے ہیں۔

ریاست میں انتخابات سات مراحل میں ہونگے اور پہلے مرحلے کی پولنگ سات اپریل کو ہوگی۔

مغربی اترپردیش ميں راشٹریہ لوک دل کے رہنما اجیت سنگھ نے ابھی تک کوئی انتخابی اتحاد نہیں کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اجیت سنگھ نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کی جماعت ’جن مورچہ‘ ساتھیوں کی تلاش میں ہے جبکہ کانگریس بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں ہے۔

ریاست میں تین سال تک مخلوط حکومت کی سربراہی کرنے والی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی الگ تھلگ پڑگئی ہے۔

بی جے پی میں باہمی اختلاف سے قطع نظر، مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی اترپردیش ميں مؤ اور گورکھپور میں حالیہ ہندو مسلم فسادات سے بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے، بشرط یہ کہ گورکھپو سے ان کی جماعت کے رکن پارلیمان یوگی ادیتہ ناتھ ان کا ساتھ دیں۔ یوگی ادیہ ناتھ ایک تنظیم ’یوا واہنی‘ کے سربراہ ہیں اور اس کے سبب ان کی اپنی پہچان ہے۔

ریاست کی ایک اہم سیاسی جماعت بہوجن سماج پارٹی نے براہمن اور دیگر بڑی ذاتوں سے رابطہ بڑھایا ہے جس سے دلتوں میں گبھراہٹ محسوس کی جارہی ہے کیوں کہ اس سیاسی جماعت کی سربراہ مایا وتی دلت ہیں اور اس پارٹی کو دلت کی پارٹی کہا جاتا ہے۔

اس انتخابات میں مسلم ووٹروں پر بی جے پی کا خوف نہیں ہے۔ مسلم ووٹرز کا منتشر ہونا سماج وادی پارٹی کے لیے مشکلیں کھڑی کر سکتاہے۔ لیکن اس سے بی جے پی کو کتنا فائدہ ہوگا اس پر مبصرین مبہم ہیں۔

جہاں تک انتخابی معاملات کا سوال ہے تو جرائم اور غنڈا گردی عام آدمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ دادری علاقے میں نجی کمپنی ریلائنس کا مجوزہ بجلی پیدا کرنے والا مکمل تو نہیں ہوسکا لیکن اس سے ملائم حکومت امیر طبقوں کی حمایتی ضرور بن گئی۔

سب سے بڑی جماعت
 بہوجن سماج پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر سکتی ہے اور انتخابات کے بعد نئے فارمولے کے ساتھ نیا اتحاد بن سکتا ہے اور جو ابھی مخالف ہیں وہ ساتھ آسکتے ہیں۔
مبصرین

ریاست ميں گنے کے کسانوں کو مراعات ضرور ملیں لیکن عام کسانوں کی حالت میں کو ئی تبدیلی نہیں آئی۔ انتظامیہ میں بدعنوانی بڑھی اور عام آدمی میں اس بارے میں بے اطمینانی بھی پیدا ہوئی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ووٹروں کے لیے اب بھی ترقی اور اچھی حکومت بڑا معاملہ نہیں ہے بلکہ ذاتی شناخت اور سماجی مسائل ووٹ کو متاثر کرتے ہیں اس لیے قیادت کے صفحہ اول پر پسماندہ طبقوں کےرہنماؤں کی حکمرانی ہے۔

فی الوقت جوحالات پیدا ہوئے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اب مقابلہ سیدھا نہیں ہے بلکہ سہ رخی اور ممکنہ طور پر چہار رخی بھی ہوسکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست میں کسی بھی پارٹی کے حق اور مخالفت ميں کوئی لہر نہیں ہے اس لیے اسمبلی ایک بر پھر سہ رخی ہوگی۔یعنی کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہونے کی توقعات نہیں ہیں۔

بعض سیاسی مبصرین کا خیال میں بہوجن سماج پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر سکتی ہے اور انتخابات کے بعد نئے فارمولے کے ساتھ نیا اتحاد بن سکتا ہے اور جو ابھی مخالف ہیں وہ ساتھ آسکتے ہیں۔ حکومت سازی میں مقامی سیاسی جماعتوں اور آزاد اسمبلی ارکان کی اہمیت کافی زيادہ ہوگی۔

اس وقت وزیر اعلٰی کے طور پر بڑے نام مایاوتی، ملائم سنگھ اورکلیان سنگھ کے ہیں۔ ان میں کئی چیزین مشترک ہیں۔ تینوں مغربی اتر پردیش کے پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ تینوں ابتداء میں معلم تھے اور اب تینوں کے خلاف مرکزی تفتیش ادارے یعنی سی بی آئی مختلف معاملات کی تفتیش کر رہی ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ اگر اسمبلی میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی تو ریاست میں صدر راج نافذ ہوسکتا ہے اور مرکز میں حکمراں جماعت کانگریس بھی یہ چاہے گی کہ اترپریش میں حکمرانی دلی سے کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد