کشمیر: کانگریس حکومت کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی ہندوستان کی دو ریاستوں میں انتخابی شکست کے بعد کانگریس کو بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں فوجی انخلا کے معاملے پر حکومت گر جانے کا خطرہ درپیش ہے۔ ریاست میں کانگریس کی قیادت میں پانچ پارٹیوں والی مخلوط حکومت غلام نبی آزاد کی سربراہی میں برسر اقتدار ہے۔ پچھلے چند ماہ سے فوجی انخلا کے معاملے پر حکومت کی دو بڑی اکائیوں، کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی ) کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ دونوں کے درمیان تناؤ میں گزشتہ روز اُس وقت اضافہ ہوگیا جب بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے فوجی انخلا کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ پی ڈی پی گزشتہ کئی ماہ سے ریاست سے فوجی انخلا اور مقامی پولیس کو امن و قانون کی ذمہ داری سونپنے کے لیے شدید اصرار کر رہی ہے۔ پارٹی کے سرپرست اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اپنے مطالبے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو تحریری طور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی سکیورٹی ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔ حکومت میں شامل پی ڈی پی کے وزراء نے کابینہ کے اجلاس کا یہ کہہ کر بائیکاٹ بھی کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس سلسلے میں نئی دلّی کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے پچھلے دنوں وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس سربراہ سونیا گاندھی اور وزیر دفاع پرنب مکھرجی کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتوں کے بعد محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ’مرکزی قیادت‘ کو فوجی انخلا کے اپنے مطالبے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ لیکن اس بیان کے بعد وزیر اعظم نے جب فوجی انخلا کی تجویز کو مسترد کیا تو پی ڈی پی میں کھلبلی مچ گئی۔ محبوبہ مفتی نے پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ پی ڈی پی کے ایک سینئر وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ غلام نبی آزاد کی حکومت میں شامل پارٹی کے وزرا سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی’غیرمتوقع‘ صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ پی ڈی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ہونے والے مجوزہ اجلاس میں حکومت کی حمایت پر نظر ثانی کی جائےگی۔ مفتی محمد سعید نے اس حوالے سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ وہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ تاہم انہوں نے حکومت سے حمایت واپس لینے کے معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ پی ڈی پی قیادت کے حالیہ بیانات کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ اگر پی ڈی پی نے حکومت کی حمایت واپس لے لی تو ساڑھے چار سال پرانی مخلوط حکومت کو بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لیکن حزب اختلاف کے رہنما اور ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمر عبداللہ نے آزاد کو باہر سے مدد دینے کا اعلان کر کے ان خطرات کو فی الحال ٹال دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکومت فوجی انخلا کے مسئلے پر گرتی ہے تو اگلے انتخابات میں یہ معاملہ غالب سیاسی نعرہ ہوگا۔ سیاسی تبصرہ نگار نصیر احمد گنائی کے مطابق مسئلہ کشمیر ایک پیچیدہ مگر دلچسپ دور میں داخل ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ فوجی انخلا کا نعرہ دراصل پاکستانی صدر جنرل مشرف نے دیا ہے۔ اس نعرے کو یہاں ہند نواز اور ہند مخالف حلقوں نے یکساں طور قبول کر کے اپنا سیاسی وظیفہ بنالیا۔ اہم بات یہ ہے کہ فوجی انخلا ایک غالب ڈسکورس بن رہا ہے، جو موجودہ سکیورٹی منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے ہندوستان کے لیے بہت بڑا چلینج ہے۔‘ تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک ایسے وقت جب کانگریس کو دو ریاستوں میں انتخابی شکست کا سامنا ہے، جموں کشمیر میں سیاسی بحران اتر پردیش میں ہونے والے انتخابات پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’فوجی انخلاء کے بغیر سکوپ نہیں‘04 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے انخلا، قیاس آرائیاں ہیں‘04 March, 2007 | انڈیا ’کشمیر سے فوجی انخلاء پر اتفاق‘03 March, 2007 | انڈیا میری سکیورٹی ہٹالیں: مفتی سعید06 February, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||