میری سکیورٹی ہٹالیں: مفتی سعید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی اور پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کے رہمنا مفتی محمد سعید نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ ان کی ذاتی اور لواحقین کی سکیورٹی کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو ہٹا لیا جائے۔ انہوں نے یہ پیشکش وزیراعلی غلام نبی آزاد کے اس بیان کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ریاست کے رہنما انہيں دی جا رہی سکیورٹی کو لوٹا دیں تو وہ فورا مرکزي حکومت کو ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر سے فوج ہٹا لینے سے متعلق خط لکھ دیں۔ مسٹر سعید کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکردہ شخصیات کو جو سکیورٹی حاصل ہے اس کا قیامِ امن اور قانون کے عمومی صورتحال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ذاتی سکیورٹی سرنڈر کرنے، افواج کو فراہم کیے گئے خصوصی اختیارات واپس لینے اور سکیورٹی فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کی ہماری پیشکش (حکومت) تسلیم کر سکتی ہے تو ہم تیار ہیں۔‘ واضح رہے کہ حکمراں کانگریس کی اتحادی پی ڈی پی اور حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس نے ریاست سے فوج ہٹانے اور اس کو فراہم کیے گئے خصوصی اختیارات واپس لینے کا مطلبہ کیا ہے۔ ریاست میں افواج کو شدت پسندی کی سرگرمیوں کے شبہہ میں کسی کو بھی حراست میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن کانگریس کا کہنا ہے کہ ابھی ان اختیارات کو واپس لینے کے لیے مناسب حالات نہیں ہیں۔ وزیر اعلی غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ حالانکہ ریاست میں قانون کا نظام بہتر ہوا ہے لیکن فوج کو اس وقت تک نہیں ہٹایا جا سکتا جب تک حالات 1990 کی شروعات کے جیسے نہیں ہو جاتے ہیں۔ مسٹر آزاد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کا نظام اب بھی تشویشناک معاملہ ہے کیوں کہ سیاسی رہنما ابھی بھی بے خوف گھم پھر نہیں سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کشمیر میں تصادم، دو فوجی ہلاک 29 January, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا جعلی مقابلے، تحقیقات کا حکم04 February, 2007 | انڈیا فائر بندی کیلیے میر واعظ کی اپیل 04 February, 2007 | انڈیا فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل05 February, 2007 | انڈیا قبریں کھولنےکا کام معطل06 February, 2007 | انڈیا احتجاجی مظاہرے، ہڑتال سے زندگی متاثر06 February, 2007 | انڈیا احتجاج، ہڑتال سے زندگی متاثر06 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||