احتجاجی مظاہرے، زندگی متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں فرضی تصادم میں بےگناہ شہریوں کے ’قتل‘ پر احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال ہوئی ہے۔ منگل کو کشمیر میں اکثر کاروباری مراکز احتجاج کے طور پر بند رہے، سکولوں میں حاضری کم رہی اور سڑکوں پر ٹریفک کی کمی سے زندگی متاثر ہوئی۔ چند روز قبل فرضی مقابلوں کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم نے پانچ افراد کے حراستی قتل کی تصدیق کے بعد نمونے حاصل کرنے اور شناخت کے لئے قبریں کھودنے کا کام شروع کیا تھا۔ سرینگر کے نواحی قصبوں گاندربل اور کنکن میں ککر ناگ کے دو شہریوں عطر فروش نذیر احمد ڈیکا اور چھابڑی فروش غلام نبی وانی کی قبریں کھولنے کی کارروائی کے دوران مقامی لوگوں نے مزید درجنوں قبروں کی نشاندہی کی تھی۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور شبیر احمد شاہ نے معصوم شہریوں کو حراست میں قتل کرکے غیرملکی جنگجو جتلانے کی کارروائیوں کے خلاف جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک کے احتجاجی پروگرام کی حمایت کی ہے۔ یٰسین ملک تین دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور انہوں نے حکومت ہند سے کہا ہے کہ ہلاکتوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ غیرمعینہ مدت تک بھوک ہڑتال کرینگے۔
اس دوران یٰسین ملک نے مائسومہ میں تین دن اور تین راتوں کے لئے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ یٰسین نے مائسومہ سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’اگر اگلے چھ ہفتوں تک ہندوستانی وزیراعظم نے اپنے 'زیرو ٹالرنس' کا وعدہ پورا نہیں کیا اور لوگوں کو انصاف نہ دلایا تو میں غیرمعینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتال کروں گا۔‘ لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین نے بتایا کہ پچھلے قریب چار سال سے جاری امن کے عمل کے دوران جموں کشمیر کے لوگ زیادہ عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’امن کے عمل میں جیلوں سے چھوٹے ساٹھ ہزار سابق جنگجو شامل ہیں لیکن انہیں فورسز کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے۔‘
کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فاروق احمد نے سرینگر سے فون پر بتایا کہ ’کئی مقامات پر مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے بعض اہلکاروں کو ہلکی چوٹیں آئیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وادی کے اضلاع کے درمیان مسافر ٹرانسپورٹ کا نظام ہڑتال کی وجہ سے متاثر ہوا ہے تاہم حالات قابو میں ہیں۔ واضح رہے فاروق احمد اس خصوصی ٹیم کے سربراہ ہیں جو فرضی تصادموں کے معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔ دریں اثناء میرواعظ گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر نعیم احمد خان کو پولیس نےاحتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ |
اسی بارے میں کشمیر: تین خواتین سمیت 6 ہلاک05 November, 2006 | انڈیا کشمیر: مسجد پر بم حملہ، 5 ہلاک10 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا کپواڑہ میں انتہا پسند گرفتار16 November, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا حزب، لشکر کے اہم رہنما ہلاک09 December, 2006 | انڈیا کشمیر پر بھارت کی خاموشی12 December, 2006 | انڈیا ہندنواز لیڈروں کا سخت لہجہ 10 December, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||