پاکستان کاسکور : ایک پوائنٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے اس بیان کے بعد کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں ہے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی و عوامی حلقوں میں توقعات اور اندیشوں کا ملا جلا اظہار پایا جاتا ہے۔ ہندنواز جماعتوں اور ماڈریٹ کہلانے والے علیٰحدگی پسند گروپوں میں اس مسئلے پر ایک طرح کا اتفاق پایا جاتا ہے اور وہ پاکستان کی نرم روی کی بڑھ چڑھ کر توثیق کر رہے ہیں۔ تاہم سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی والے ایک مخصوص طبقے کو اس سلسلے میں خدشات ہیں۔ سید گیلانی جماعت اسلامی کے سرکردہ قائدہونے کے ساتھ ساتھ حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی ہیں۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے بی بی سی کو بتایا 'پاکستان ہوسکتا ہے بات صحیح کہہ رہا ہو، لیکن جس انداز میں بات کو پیش کیا جاتا ہے اس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔، گیلانی کا استدلال ہے کہ جس اصول کی بنیاد پر برٹش انڈیا کی تقسیم ہوئی ہے اس کی رو سے ' کشمیر کو پاکستان کا نیچرل پارٹ ہونا چاہیئے تھا۔، وہ پوچھتے ہیں کہ ' اگر پاکستان کشمیرپرکوئی دعویٰٰ نہیں رکھتا تھا تو اُنیس سو اڑتالیس میں ہندوستان کے ساتھ جنگ کیوں کی، پھر ساٹھ دہائی اور ستّر کی دہائی میں بھی کشمیر کو لے کر ہی جنگیں ہوئی ہیں۔ آج جب وہ کہتے ہیں کہ کشمیر پر ہمارا کوئی دعویٰ نہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ یہاں ہندوستان کے فوجی تسلط کو تسلیم کرتے ہیں؟۔، یورپی دورے پر گئے میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی والے حریت دھڑے کے سینیئر لیڈر نعیم احمد خان نے پاکستان کی موجودہ پوزیشن کوحقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کشمیر کے حوالے سے جذباتیت کو چھوڑ حقیقت پسندی کے ساتھ پاکستان نے ہندوستان کے مقابلے ایک سفارتی پوائنٹ سکور کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ' پاکستان کشمیر کے ممنکہ حل کی بات ضرور کرتا ہے لیکن وہ کوئی ایسا حل قبول نہیں کریگا جس میں کشمیریوں کی مرضی شامل نہ ہو،۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہونے کے باوجود ہندنواز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا اس سلسلے میں موقف قریب قریب یکساں ہے۔
نیشنل کانفرنس کے مرکزی لیڈر اور سابق وزیر خزانہ عبدالرحیم راتھر پاکستان کے حالیہ اعلانات کو 'بولڈ' قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرف کے خلوص کا اس سے بڑھکر ثبوت کیا ہوگا کہ وہ سر پر آکھڑے انتخابات کی پرواہ کئے بغیر نرم روی کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں اور 'اسے ہندوستان کوبھی سمجھنا چاہیئے۔، پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ نظام الدین نے تو یہاں تک کہہ دیا
نظام الدین کاماننا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل جو بھی ہو اسکا عوام کی اکثریت کو قابل قبول ہونا لازمی ہے۔ وہ کہتے ہیں ' فرق صرف اتنا ہے ہم کہتے ہیں الیکشن ہو، دوسرے لوگ(علیٰحدگی پسند) رائے شماری پر بضد ہیں۔ اس میں کئی راستے تلاش کئے جاسکتے ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ مشرف کے خیالات آگے بڑھنے کا بہترین موقع فراہم کرسکتے ہیں۔، لال چوک میں ملبوسات کی مقبول دکان 'پوشاک محل' کے مالک خورشید احمد وانی کہتے ہیں 'یہ سب کچھ جو ہورہا ہے، ہمارے یہاں کوئی فرق نہیں پڑتا تجارت کا برا حال ہے، لال چوک میں پچھلے ایک ماہ میں اٹھارہ کریک ڈاؤن ہوئے ہیں اور لوگ مارکٹ آنے سے کتراتے ہیں۔ سیکورٹی کا مسلئہ ہے اور پھر ہم سے کوئی پوچھتا ہی نہیں پاکستان اور ہندوستان اپنی ہی بات کرتے ہیں۔، سرینگر کے سب سے قدیم اؤمن کالج کے پروفیسراعجاز احمد نے بتایا 'اقوام متحدہ تو خود لبنان جنگ میں پٹ گیا اور پھر تب سے دینا بدل گئی ہے۔ مشرف کی باتوں پر عمل کرکے نہ صرف ہم لوگ راحت محسوس کریں گے بلکہ ہندوستان بھی ترقی کرے گا۔، معروف کالم نگار ایف احمد کا خیال ہے کہ ' پاکستان میں سرگرم اندرونی حلقوں کا جو بھی خیال ہو لیکن پاکستان بحیثیت ملک اب اس بات پر آمادہ نظر آتا ہے کہ وہ کشمیر کی گھتی کو ہمیشہ کے لئے سلجھا ڈالے۔، کشمیر یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان کو الگ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ' ایسا لگتا ہے کہ مقامی سطح پر اعتراضات اور مخالفت کی وجہ سے پاکستان مشرف کے انٹرویو کی وضاحت پر مجبور ہوگیاہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان نے جہاں یہ کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے، وہیں انہوں نے یو این ریزیولوشن کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرف جو کچھ کہتے ہیں وہ پاکستان کی جملہ قیادت کی متفقہ پالیسی نہیں ہے۔، |
اسی بارے میں کشمیر: مشروط جنگ بندی ممکن 28 November, 2006 | انڈیا بات چیت آئین کے باہر: گیلانی07 December, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا ہندنواز لیڈروں کا سخت لہجہ 10 December, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||