BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 February, 2007, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل

 کشمیری احتجاج
پولیس نے فرضی مقابلے میں ہلاک ہونے والے پانچ اشخاص کی قبریں کھودیں ہیں
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں فرضی مقابلوں کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم نے پانچ افراد کے حراستی قتل کی تصدیق کے بعد نمونے حاصل کرنے اور شناخت کے لیے قبریں کھودنے کا کام فی الحال معطل کر دیا ہے۔

لیکن ان پانچ معاملات کی تفتیش کے بعد پولیس کو مزید شکایات موصول ہو رہی ہیں اور پولیس کو خدشہ ہے کہ پچھلے سترہ برسوں میں جنگجوؤں کی ہلاکت سے متعلق رپورٹوں پر سوال اٹھنے لگیں گے۔


تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل فاروق احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ شکائتیں بہت زیادہ تعداد میں آ رہی ہیں، لیکن وہ تفتیش کا دائرہ بڑھانا نہیں چاہتے۔

سرینگر کے نواحی قصبوں گاندربل اور کنکن میں ککر ناگ کے دو شہریوں عطر فروش نذیر احمد ڈیکا اور چھابڑی فروش غلام نبی وانی کی قبریں کھولنے کی کارروائی کے دوران مقامی لوگوں نے مزید درجنوں قبروں کی نشاندہی کی تھی۔

سنمبل بانڈی پورہ کے پچھہتر سالہ عبدالغنی میر کے مطابق علاقے میں پچاس کے قریب ایسی قبریں ہیں۔ انہوں نے ذاتی طور پر پینتالیس ایسے لوگوں کی تدفین میں شرکت کی تھی جنہیں سپیشل آپریشن گروپ اور فوج کی راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں نے تصادم میں مارے گئے غیر ملکی جنگجوؤں کے طور پرگاؤں میں دفن کروایا تھا۔

کشمیر احتجاج
فرضی مقابلے میں ہلاک کیئے جانے کی تصدیق پر کشمیر میں سخت احتجاج

ککرناگ کے رحمٰن پاڈر، غلام نبی وانی، علی محمد پاڈر اور نذیر احمد ڈیکا کے علاوہ جموں کے شوکت کٹاریہ کی حراستی اموات کے حوالے سے گاندربل اور بانڈی پورہ پولیس میں جو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ان میں سب کی شناخت پاکستانی باشندوں کے طور پر کی گئی اور ان کی تحویل سے اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فرضی مقابلے میں مارے جانے والے بانہال کے شوکت کٹاریہ کے بارے میں پولیس ایف آئی آر نمبر دو سو تین میں اسے لشکرِ طیبہ کے پاکستانی جنگجو ابو حمزہ بتایا گیا ہے اور کہا گیا کہ اس کی تحویل سے اے کے 56 رائفل، دو گرینیڈ اور گولیوں سے بھرے ہوئے دو میگزین برآمد ہوئے۔

ہلاک کون کرواتا تھا؟
 فاروق پاڈر نےنہ صرف اپنے پڑوسی بلکہ اپنے چچا زاد بھائی عبدالرحمٰن پاڈر اور ایک دوسرے رشتہ دار علی محمد پاڈر کو پولیس مقابلے میں ہلاک کروا کر ان کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔
پولیس تحقیق

معاملے کی تفتیشس کرنے والے پولیس افسروں کے مطابق اب تک تصدیق شدہ پانچ حراستی اموات میں ککرناگ کے ہی رہنے والے ایک ایس او جی اہلکار فاروق پاڈر نے مرکزی کردار نبھایا۔

فاروق پاڈر کو بنیادی ملزم ایس ایس پی ہنس راج پریہار اور اس کے نائب بہادر رام کی گرفتاری سے پہلے ہی حراست میں لیا گیا تھا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق جب پچھلے سال نو مارچ کو فاروق پاڈر نے اپنے ہی گاؤں کے ایک پڑوسی بیالیس سالہ غلام نبی وانی کو لالچوک سے گرفتار کر کے گاندربل میں اسے فرضی مقابلے میں ہلاک کروانے کے بعد غلام نبی وانی کے موبائل فون کو اپنے استعمال میں رکھا۔ بعد ازاں اس نے اس کا سم کارڑ ٹنگمرگ کے کسی شہری کو دے دیا۔

ڈی آئی جی فاروق کے مطابق موبائل فون کی مدد سے ہی فرضی مقابلے کی یہ گھتی سلجھ سکی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق فاروق پاڈر نہ صرف اپنے پڑوسی بلکہ اپنے چچا زاد بھائی عبدالرحمٰن پاڈر اور ایک دوسرے رشتہ دار علی محمد پاڈر کو پولیس مقابلے میں ہلاک کروا کر ان کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔

علی محمد پاڈر کی بیوہ نے پولیس کو ریکارڈ کرائےگئے بیان میں بتایا ہے کہ فاروق پاڈر نے ان کے شوہر کو برآمد کرانے کے عوض پچاس ہزار کی رقم بھی لے لی تھی۔

حزب اختلاف کے رہنما عبدالرحیم راتھر نے پچھلے دنوں فاروق پاڈر اور ہنس راج کے بارے میں اسمبلی میں کہا تھا کہ کشمیریوں کو اب پروموشن اور انعامات کے لیے شکار کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
سب کشمیری مشکوک؟
14 January, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد