فرضی تصادم، 16پولیس اہلکارگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے دو اعلیٰ افسروں سمیت 16 اہلکاروں کو فرضی تصادم میں شہریوں کو قتل کرنے اور انہیں غیر ملکی جنگجو قرار دے کر دفنا دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرضی تصادم میں ہلاکتوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے پولیس آفیسر ڈی آئی جی فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے سپیشل آپریشن گروپ کے چودہ اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جنوبی کشمیر کے ایک ترکھان عبدالرحمٰن پاڈر کو پچھلے سال دسمبر میں گرفتاری کے بعد فرضی تصادم میں ہلاک کرنے اور شمالی کشمیر کے ایک گاؤں میں دفنانے کا معاملہ بے نقاب ہوتے ہی گاندربل کے ایس پی ہنس راج پریہار اور ڈی ایس پی رام بہادر کو معطل کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کو نئی دلّی سے سرینگر پہنچنے والی ماہرین کی خصوصی ٹیم کی موجودگی میں بانڈی پورہ کی ایک نواحی بستی سے ڈی این اے نمونوں کے لیے عبد الرحمن پاڈر کی لاش قبر سے نکالی گئی۔ اس موقعہ پر ہزاروں لوگوں نے پولیس اور فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ بعد ازاں اسی علاقے سے نذیر احمد ڈیکا نامی ایک اور شہری کی لاش بھی نکالی گئی جسے مبینہ طور گرفتاری کے بعد قتل کرکے بانڈی پورہ میں ہی دفنایا گیا تھا۔نذیر احمد ڈیکا لال چوک میں فٹ پاتھ پر عطر بیچتا تھا۔ ہفتے کو بھی اسی علاقے سے مزید دو لاشیں برآمد کی گئیں جن کے بارے میں ڈی آئی جی فاروق کی سربراہی والی تفتیشی ٹیم کو شک تھا کہ انہیں بھی حراست کے دوران قتل کرکے غیر ملکی جنگجو بتایا گیا تھا۔ ان میں بانہال جموں کےاس امام کی لاش بھی ہے جسے سرینگر میں گرفتار کر کے بانڈی پورہ میں قتل کے بعد دفنایا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر اور کنگن علاقوں میں بھی کئی مقامات پر ایسی قبروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بے گناہ شہریوں کی لاشیں ہیں۔ پولیس کے مطابق ان لوگوں کو دفتری ریکارڑ میں لاپتہ بتایا جاتا تھا ، جبکہ ان کے قتل کے بعد ان کو غیر ملکی جنگجو بتا کر دفنا دیا جاتا تھا۔ اس دوران جموں میں وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے آبائی قصبہ اور حلقہ انتخاب بھدرواہ میں بھی ایک ایسی جگہ سے تین قبروں کا انکشاف ہوا ہے جہاں پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور فوج کا کیمپ موجود تھا۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے اس معاملے کا انکشاف ہوتے ہی اسمبلی میں یہ اعتراف کیا تھا کہ پولیس اور فورسز میں ایسے ’عناصر موجود ہیں جو اپنے افسروں کو خوش کرنے، ترقیاں پانے اور انعام حاصل کرنے کے لالچ میں معصوم لوگوں کو قتل کرکے انہیں جنگجو بتاتے ہیں۔ ‘ وزیر اعلی نے اس سلسلے میں پہلے ہی عدالتی تفتیش کا اعلان کیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تحقیقات کو تین سے چار ماہ کے اندر اندر مکمل کیا جائے گا۔ اس دوران پولیس بھی اپنا کام کرے گی۔ان کو جس کسی کے خلاف ثبوت ملیں گے وہ اسے گرفتار کر یں گے۔‘ معاملے کی تفتیش کے نگران ڈی آئی جی فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس جب جنوبی کشمیر کے رحمٰن پاڈر کی گمشدگی کی تفتیش کر رہی تھی تو معلوم ہوا کہ اس کے پاس موبائل فون تھا۔ ٹیلیفون محکمہ کی مدد سے پولیس کو پتہ چلا کہ پاڈر کو فرضی جھڑپ میں قتل کرنے کے بعد اس کا موبائل فون ایک پولیس افسر نے کئی ماہ تک استعمال کیا۔ بعد ازاں اس نے سم کارڑ ٹنگمرگ کے ایک شہری کو دیا جس نے وہ سم ایک اور شہری کو دے دیا۔ ڈی آئی جی فاروق کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان ساری کڑیوں کو ملا کر پتہ لگایا ہے کہ یہ ساری کارروائی ایس پی گاندربل اور ان کے نائب کے علم میں تھی۔مذکور ایس پی کی ذاتی محافظت کے چار ذاتیگارڑز اور دس دیگر اہلکاروں کی گرفتار ی کے بعد ایس پی پریہار اور ڈی ایس پی بہادر کو بڈگام کے پولیس گیسٹ ہاؤس سے ہفتے کی صبح گرفتار کیا گیا۔ پچھلے سات سال میں یہ دوسرا موقع ہے جب ریاست میں فرضی جھڑپوں میں ہلاک کئے جانے والے شہریوں کی لاشیں شناخت اور ڈی این اے نمونوں کے لیے قبروں سے نکالی گئیں ہوں۔ | اسی بارے میں جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا فرضی تصادم، پولیس اہلکارگرفتار 29 January, 2007 | انڈیا یوم جمہوریہ، کشمیر میں کرفیو؟25 January, 2007 | انڈیا کشمیر میں تصادم، دو فوجی ہلاک 29 January, 2007 | انڈیا سب کشمیری مشکوک؟14 January, 2007 | انڈیا کشمیر، فوجی کارروائی تیز ہوگی‘12 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||