BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی تصادم، پولیس اہلکارگرفتار
سیکیورٹی گارڈ
کشمیرمیں فرضی تصادم کے واقعات ایک عام بات ہے
ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر کے وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے کہا کہ فرضی تصادم کے ملزم دو پولیس اہلکارر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعہ کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں وزیر اعلی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس سب انسپکٹر فاروق احمد گڈو اور ایک پولیس ڈرائیور فاروق احمد پڈار کو عبدالرحمان پڈار کے قتل کے معاملے میں گرفتار کیاگیا ہے۔

سری نگر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس فارو‍ق خان کو اس معاملے کی تفتیش کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہواس معاملے کی تفتیشی رپورٹ حکومت کو پیش کریں۔ دو دیگر پولیس اہلکار کو بھی اس معاملے کی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ آزادانہ اور شفاف طریقے سے تفتیش ہوسکے۔

عبدالرحمان پڈار گزشتہ برس آٹھ دسمبر کو لا پتہ ہوئے تھے اور دوسرے ہی روز ایک تصادم میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے ان کی ایک پاکستانی شہری اور شدت پسند ابوحافظ کے طور پر نشاندہی کی تھی۔

وزیر اعلی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں جو بھی افراد غائب ہوئے ہیں ان کے بارے میں تفتیش کی جائے گی۔

سری نگر میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایف اے بھٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تلاشی کے لیے ممکن ہے منگل کے روز پڈار کی لاش کو کھود کر نکالا جائے۔

حال ہی میں مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے سات برس قبل ایک فرضی تصادم میں پتھاری بل گاوں میں پانچ افراد کے قتل کے معاملےمیں پانچ فوجیوں کے خلاف ایک فردجرم داخل کیا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار
27 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد