کشمیرمیں ہڑتال سے عام زندگی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنماؤں کے پاکستان کے دورے کے خلاف عام ہڑتال سے زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں اور سڑکو ں پر ٹریفک بھی بہت کم ہے۔ ہڑتال کی اپیل حریت کے سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسندگروپ کا ایک تین رکنی وفد میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں پانچ روزہ دورے پر پاکستان جا رہا ہے۔ سیدعلی شاہ گیلانی اس دورے کو ایک دھوکہ اورفریب بتا رہے ہیں۔ حریت کے ترجمان شاہد السلام نے بتایا کہ تین رکنی وفد جمعرات کے روز پاکستان جائےگا۔ پہلے یہ دورہ بدھ کے دن طے تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے قائدین مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی نے میر واعظ عمر فاروق پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے آئين کے اندر کشمیر کا کوئی حل تلاش کر رہے ہیں اور بقول ان کے یہ دورہ دراصل ہندوستان کے مفادات کے حصول کے لیے ہے۔ حریت کانفرنس کے اعتدال پسند گروپ کے ایک سینئر رہنماء مولوی محمد عباس انصاری نے علی شاہ گیلانی کے الزام کو رد کرتے ہوئے اسے قابل افسوس قرار دیا ہے۔ عباس انصاری کا کہنا تھا’ ہمارا گروپ یہ وضاحت کر چکا ہے کہ پہلے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان علیحدہ بات چیت ہو جائے، اس کے بعد تینوں فریق ہندوستان ، پاکستان اور کشمیری عوام کے نمائندے باہم بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کریں گے۔‘ سخت گیر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداد کےمطابق عوامی رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیۓ۔ گزشتہ پیر کے روز میر واعظ عمر فاروق کے گھر کے باہر دستی بم سے ایک ناکام حملہ ہوا تھا اور عام تاثر یہی ہے کہ یہ دھماکہ ان کے دورہ پاکستان کی مخالفت میں کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا کشمیر: مشترکہ کنٹرول کی تیاری13 January, 2007 | انڈیا حریت رہنما کی رہائش گاہ پرحملہ15 January, 2007 | انڈیا سب کشمیری مشکوک؟14 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||